ابو الاعلیٰ مودودی کے عقائد کفریہ اور تفہیم القرآن کے مطالعہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت والجماعت مفتیان عظام در بیان اس مسئلہ کہ: جناب سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تفسیر تفہیم القرآن مسلمانوں میں خوب پھیلائی جارہی ہے۔ اس تغیر کا پڑھنا اور پھیلانا کار ثواب ہے یا نہیں ؟ کیا یہ تفسیر مستند ہے؟ المستفتی: خاکیائے رسول مصطفی و مجتبی ما میان نیازمند و عقیدت مند اہل سنت والجماعت حسین احمد نوری
ابو الاعلیٰ مودودی اپنے عقائد کفریہ کی وجہ سے کافر ہے اس کی تفسیر کا مطالعہ جائز نہیں! الجواب: ابوالاعلیٰ مودودی اپنے عقائد کفریہ کی وجہ سے کافر مرتد بد دین ہے، منجملہ اس کے عقائد کفریہ ہیں کہ وہ حدیث کا مطلقا منکر ہے اور حدیث کا مطلقا انکار کفر ہے۔ تنقیحات میں صاف لکھتا ہے: کتاب وسنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر وحدیث کے پرانے ذخیروں سے نہیں تنقیحات) [ اس عبارت میں اس نے تفسیر وحدیث کا مطلق انکار کیا اور کتب تفسیر وحدیث کی تو ہین بھی کی اور دو ان کتب کی توہین ظاہر ہے کہ تفسیر وحدیث کی توہین ہے تو یہ دوہرا کفر ہے۔ مودودی کا الٹا مذہب مصنفہ حضرت مولانا محبوب علی خاں صاحب ، منگا کر دیکھیں ، اس میں بکثرت اس کے کفریات گنائے ہیں ، مرتد کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوتے ہوئے اسے سید وغیرہ لکھنا حرام حرام حرام بلکہ کفر بدانجام ہے۔ حدیث میں ہے: لاتقولو اللمنافق سيد فانكم ان قلتم ذالك فقد اسخطتم ربکم و منافق کو سید نہ کہو کہ اگر تم اسے سید کہو گے تو تمہارا رب تم سے ناراض ہوگا۔ در مختار میں ہے: ”تبجیل الکافر کفر اس کی تفسیر کا مطالعہ جائز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۵ رذی قعده ۱۳۹۶ھ