بد مذہبوں سے قریب ہونے اور ان کی کتب کے مطالعہ سے ایمان و عقیدہ پر سخت خطرہ ہے!
بخدمت شریف جناب قبلہ مفتی اعظم ہند ! السلام علیکم التجا ہے کہ ایک مسئلہ حل ہوتا ہے تو دوسرا سامنے آجاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان چاروں علماء یعنی اسماعیل دہلوی، رشید احمد گنگوہی ، قاسم نانوتوی اور اشر فعلی تھانوی کی چند کتابوں سے مواد جمع کیا تو اب یہ سوال پیدا ہو گیا کہ جناب ان حضرات کو مرے ہوے ایک زمانہ ہو گیا موجودہ دور میں جو تبلیغی نصاب چل رہا ہے وہ ان حضرات کا لکھا ہوا نہیں ہے ورنہ ان سے کیا واسطہ آپ کو مولانا الیاس اور مولانا زکریا صاحب موجودہ کی کوئی بھی غلط کتاب اور بدعقیدگی پکڑ کر بتائیے تب تو ہم آپ کی تمام باتیں صحیح مانتے ہیں اور ان دونوں کے خلاف شرعی فتویٰ بتائے تب تو ہم ان لوگوں کا اجتماع بند کرتے ہیں ورنہ نہیں ۔ اب براہ کرم ان کا ایسا مسئلہ بھیجے تا کہ ان کا ہم انہیں پر پھٹ پڑے اور ہمارے قبلہ اعلیٰ حضرت کا مسلک و عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرنے والی برانچ ادارہ تنظیم کی لاج رہ جائے اتنا اور جو آپ کے یہاں سے جو پیپر شائع ہوتا ہو، بھیجنے کی زحمت فرما ئیں۔ گستاخی و غلطی کی معافی چاہوں گا۔ فقط والسلام خادم: ڈاکٹر حسن محمد قریشی متصل جامع مسجد ، شری پور کلاں ، مدھیہ پردیش
الجواب: فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله اس اعتراض جاہلانہ کا جواب اس حدیث شریف میں ہے جو سید نا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں۔ ’حين اتاه عمر فقال انا نسمع احاديث من يهود تعجبنا افترى ان نكتب بعضها فقال أمْتَهوَ كُون انتم كما تَهَوَكَتِ اليهود والنصارى لقد جئتكم بها بيضاء نقية ولو كان موسی حیاما وسعه الا اتباعی یعنی حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حضرت عمر نے آکر عرض کی کہ ہم یہودیوں سے کچھ باتیں سنتے ہیں کہ ہمیں پسند آتی ہیں کیا حضور ہمیں حکم دیں گے کہ ہم انہیں لکھ لیں ؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہود و نصاریٰ کی طرح حیرت زدہ ہو، بے شک میں تمہارے پاس سفید، خالص ،شبہات سے پاک دین لے کر آیا ہوں اور اگر موسیٰ علیہ السلام دنیا میں ہوتے تو میری ہی اتباع کرتے ۔ حدیث شریف سے صاف ظاہر کہ بد مذہبی ہی ، بد مذہب سے کچھ سیکھنے سے مانع ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ جو بات وہ سکھاتا ہے اس کا تعلعی طور پر گمراہی کی بات ہو نا معلوم ہو، پھر ظاہر یہی کہ بد مذہب ہرگز اپنی بد مذہبی کی اشاعت سے باز نہ آئے گا اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کرے گا وہ لوگوں کو خدا و رسول کی باتوں کے بہانے اپنے سے نزدیک کرے گا پھر اپنے دام تزویر میں پھانسے گا اور ان باتوں میں بھی بد مذہبی چھپائے اس طرح کہ تمہیں خبر نہ ہو تو عجب نہیں ۔ اب جبکہ اس پر اعتقاد جمے گا اور اس کی تعظیم دل میں اترے گی تو ضرور اس کی ہر بات کی تصدیق پر باعث ہوگی اور یہیں سے اس کا پورا رنگ چڑھے گا۔ تو ثابت کہ بد مذہبوں سے قریب ہونے اور ان کی کتب کے مطالعہ سے ایمان و عقیدہ پر سخت خطرہ ہے۔ اسی لئے سر کا ر عالی حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان سے اور ان کی کتب سے دور رہنے کا حکم فرمایا۔ حدیث میں فرمایا: فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم یعنی انہیں دور رکھو اور ان سے دور ہو کہیں تمہیں گمراہ نہ کر دیں، فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم پھر ان کتب کے مصنفین طواغیت اربعہ دیوبندیت قاسم نانوتوی، رشید احمد گنگوہی ،خلیل احمد انبیٹھوی اور اشرفعلی تھانوی کو اپنا امام و پیشوا جانتے مانتے ہیں ۔ اور یہ طواغیت وہ ہیں جن پر علمائے حرمین نے انکار ختم نبوت اور شیطان کے علم کی وسعت اور رسول کا علم ناقص اور بچوں، پاگلوں اور جانوروں کے مثل بتانے کے سبب ایسا حکم کفر دیا کہ حسام الحرمین میں صاف فرما یا: ”من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱)“ یعنی جو ان کے عقائد کفریہ جان کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر۔ تو یہ بھی کافر ہیں۔ بلکہ یہ لوگ دیوبندیت کے مبلغ ہیں۔ بانی تبلیغی جماعت مولوی الیاس کے ملفوظات میں ہے: حضرت مولانا اشرف علی صاحب (علیہ ما علیہ) نے بڑا کام کیا، میرا جی چاہتا ہے کہ تعلیم ان کی ہواور تبلیغ میری [ ملفوظات الیاس ] تو ان نصابوں میں کیا یہ کفریات کی تبلیغ سے باز آئے ہوں گے؟ ۔ یہ کتابیں ہمارے پیش نظر نہیں ہیں۔ جب نظر پڑیگی تو ان کی خامیاں بھی کھول دی جائیں گی جیسا کہ ” بہشتی زیور “ اور ” تفویت الایمان کی قلعی اصلاح بہشتی زیور اور اصلاح تقویت الایمان‘ و اطیب البیان میں کھولی گئی ہے۔ ان کا مطالعہ کیجئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح والحجب نبیح واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی (1) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ )