دیوبندی عقائد، کلمات کفر کی تاویل اور سات زمینوں میں انبیاء کے وجود سے متعلق استفتاء
(1) زمانہ حال کے دیو بندی محمد بن عبد الوہاب نجدی کو برا نسیس کہتے ہیں اور اس کے متبعین کو بھی جیسا کہ کتاب ( عقائد وہابیہ نجدیہ اور عقائد دیو بند و شہاب الثاقب ) میں لکھا ہے اور رشید کی اصلاح بھی کیا کہ وہ نہیں جانتے تھے اس لئے مجدی کی تعریف کر دی تھی۔ پھر جن باتوں پر دیوبندیوں پر کفر کا فتویٰ ہے، جیسے رشید خلیل، قاسم واشر فعلی کے اوپر جیسا کہ حسام الحرمین شریف میں مذکور ہے کہ جو ان کی باتوں پر مطلع ہو کر ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر۔ لہذا د یو بندی کفری عبارتوں کی تاویل کرتے ہیں اور بجائے توہین کے تعریف میں بدل دیا ہے۔ جیسا کہ ( المہند علی المفند ) میں لکھا ہے اور رشید نے تو انکار ہی کر دیا کہ میرا یہ فتوی نہیں ہے۔ خدا جھوٹ بول چکا۔ معاذ اللہ منہ اور بھی ان کی کتابوں سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ کفری عبارتوں کی تاویل کرتے اور تعریف کے قائل ہیں۔ اب براہ کرم یہ ارشاد فرمائیں کہ زمانہ حال کے دیوبندی جو کفری عبارتوں کی تاویل کر کے تعریف کے قائل ہیں ان کو کافر کہا جائیگا یا نہیں؟ یعنی وہ لوگ کافر ہیں یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں عوام الناس جو دیو بندیوں کو مانتے ہیں لیکن سمجھتے نہیں، وہ لوگ کافر ہیں یا مسلمان؟ (۲) حضرت اس بات سے مطمئن فرما دیں کہ دیوبندی نے تحذیر الناس میں حضرت ابن عباس کا قول بتایا حوالہ درمنثور وغیرہ: ان الله خلق سبع ارضين في كل ارض آدم كآدمكم ونوح کنوحکم و ابراهیم کابراهیمکم و عیسی کعیشکم و نبی کنبیکم [ در منثور ] اس کا ترجمہ فرما دیں اور یہ بھی فرما ئیں کیا حضور کے زمانہ میں نیچے چھ زمینوں میں بھی نبی ماننا جائز ہے؟ اور بعد زمانہ آپ کے نبی ماننا کیسا ہے؟ اور اس حدیث کا مطلب کیا ہے؟ بیان فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی۔ بینوا توجروا (۳) کیا کتاب غایۃ المرام، ص ۵۱، ۵۵، ۶۷، ۷۲ / پر یہ بات ہے کہ حضور صلحم ہر محفل میلاد میں تشریف لاتے ہیں ؟ تعظیم کے واسطے کھڑا ہونا فرض ہے قیام نہ کرنے والا کافر ہے کیا یہ کتاب اپنے عالم کی لکھی ہے؟ اس میں کیا لکھا ہے؟ آگاہ فرمائیں ۔ عین نوازش ہوگی! المستفتی علیم واچ میکر، مقام و پوسٹ ڈا یہ ضلع رائے بریلی، یوپی
الجواب:(۱) یہ دیوبندیوں کا فریب ہے کہ عوام اہل سنت کو چھلنے کے لئے محمد بن عبد الوہاب نجدی کو بُرا کہتے ہیں ورنہ حقیقت میں یہ لوگ نذرو نیاز میلاد و قیام تصرفات اولیاء وتوسل و شفاعت کے انکاری ہیں اپنے امام الطائفہ اسماعیل دہلوی کی طرح اس پرانے امام کے مقلد ہیں۔ امام الطائفہ نے اسی کی کتاب التوحید کا ترجمہ تقویۃ الایمان لکھا جسے رشید نے رکھنا عین اسلام بتایا اور امام الطائفہ اس نام نہاد تقویۃ الایمان میں امت مسلمہ کومشرک بنانے میں وہی روش چلا جو روش محمد بن عبد الوہاب کی کتاب التوحید میں تھی فریب دینے کو برائی تو کی لیکن یہ نہ سمجھے کہ یہ اسماعیل کی برائی ہوئی۔ اور ان دیو بندیوں پر کفر کا فتویٰ محض وہابی ہونے کی بنا پر نہیں ہے بلکہ ان عبارات کفریہ کی بنا پر ہے جسمیں انہوں نے حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم جیسا علم ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو حاصل بتایا یہ اشرفعلی تھانوی نے حفظ الایمان میں کہا (1) اور رشید خلیل نے براہین قاطعہ میں شیطان کا علم حضور علیہ السلام کے علم سے زیادہ وسیع بتایا اور ضور کے لئے وسعت علم کی کوئی نص قطعی بلکہ نص نہ بھی تھی نہ مانی یا حضورکے لئے علم غیب مانے کو صاف شر بتایا۔ دیکھو براہین قاطعہ (۲) اور اسی براہین قاطعہ میں صاف لکھا کہ امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ ” قد ماء میں اختلاف ہوا ہے کہ خلف وعید آیا جائز ہے یا نہیں (۳) یہ عبارت صاف بتا رہی ہے کہ رشید کو خدا کے کاذب کہنے کا اقرار ہے پھر یہ انکار ضرور افتراء ہے۔ اور قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں صاف حضور کے وصف ختم نبوت سے انکار کیا اور نبی آخر الزماں ماننا عوام کا خیال بتایا اور ان حضرات کے نزدیک کوئی تاویل ان کفریات کی نہیں اور المہند میں انہوں نے کوئی تاویل نہ کی بلکہ ان کی عبارتوں کی تائید اور پھر انہیں پر جمے رہے اور آج تک جسے ہوئے ہیں۔ آج بھی یہ (1) حفظ الایمان ص ۱۵ ، دار الکتاب (۲) براهین قاطعه ۲۲ ا کتب خانه امدادیه (۳) براهین قاطعه على ظلام انوار الساطعه ص ۱۰، کتب خانه امدادیه کتابیں شائع ہو رہی ہیں لہذا ان پر وہ کفر کا فتویٰ قائم رہے گا جب تک کہ ان عبارتوں کو کفر اور قائلین کو کافر نہ مان لیں اور جوان کے عقائد کفریہ جان کر انہیں مسلمان سمجھے وہ بھی کافر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ حدیث احادیث صحیحہ متواترہ وادلہ قطعیہ متوافرہ کے قطعاً معارض ہے لہذا قطعا ساقط و نامعتبر ہے۔ علامہ امام بیہقی نے اس کے نا معتبر ہونے کی تصریح فرمائی کمافی الفتاوی الحدیثیہ اور ترجمہ اس کا یہ ہے کہ اللہ نے سات زمینیں پیدا فرمائیں ہر زمین میں ایک آدم ہے تمہارے آدم کی طرح اور ایک نوح ہے تمہارے نوح کی طرح اور ابراہیم تمہارے ابراہیم کی طرح اور عیسیٰ تمہارے عیسی کی طرح اور نبی تمہارے نبی کی طرح ( صلی اللہ تعالیٰ علیٰ سیدنا محمد علیہم اجمعین ) بس حدیث پر اعتقاد نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) درود شریف پورا لکھنا ضروری ہے ، ۴ صلح “ لکھنا حرام ومحرومی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم یہ کتاب فقیر کی نظر سے نہ گزری اور ظاہر کتاب نامستند ہے۔ جبکہ اس میں وہ کچھ لکھا ہو جو درج سوال ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله