ولیمہ کی دعوت میں بدعقیدہ کی شرکت اور اسے دستر خوان سے اٹھانے کا حکم
(۲) زید کے یہاں گیارہویں شریف کو ولیمہ کی دعوت ہے اور اس دعوت میں کوئی بدعقیدہ شریک ہو دعوت دے کر بلایا گیا، یا اچانک آگیا ) ایسی صورت میں اہل جماعت اس طعام میں شریک ہوں یا نہ ہوں؟ اور ایک بدعقیدہ دستر خوان پر بیٹھ گیا، جماعت والے کہتے ہیں کہ اسے دستر خوان سے اٹھاؤ تو ہم کھانا کھا ئیں گے ورنہ نہیں۔ ایسی صورت میں اس بد عقیدہ کو دستر خوان سے اٹھانا جائز ہے یا نہیں؟ ایک صاحب کہتے ہیں کہ دستر خوان سے اٹھا نا کسی فرد کو بھی جائز نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو، انسانی ہمدردی کے ناطے اسے کھانا کھلایا جائے۔ ان کا یہ کہنا کہاں تک صحیح ہے؟ برائے کرم دونوں مسئلوں کا تشفی بخش مفصل اور مدلل جواب قرآن و حدیث فقہ اور اقوال ائمہ و علماء سے عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔ فجزاک اللہ خیر الجزاء فی الدارین۔ المستلقی : سنگ بارگاه ورضا محمد شفیق اعلمی جامع مسجد ، بالے ہنور ، چک منگلور، (کرناٹک)
الجواب: اگر وہ ضعیفہ مودودی جماعت کے عقائد کفریہ کی معتقدہ یا ان کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتی ہے تو بیشک انہیں کی طرح کافرہ بے دین ہے۔ وہ زید کے ساتھ نہ رہے نہ زید پر اس کی کفالت لازم ۔ کمافی الدر المختار وغیرہ۔ نہ اس کے مرنے پر اس کی نماز جنازہ پڑھناروا، نہ بروجہ مسنون اسے کفن دیا جائے بلکہ بلا نسل اسے کپڑے میں لپیٹ کر گڑھے میں ڈالا جائے کمافی البحر وغیرہ۔ اور اگر وہ عقائد کفریہ نہیں رکھتی ، نہ عقائد کفریہ رکھنے والے کسی وہابی مودودی، دیوبندی کو دانستہ مسلمان جانتی ہے مگر معمولات جائزہ اہل سنت کو نا جائز جھتی ہے تو بد مذہب ہے، زید پر اس کی کفالت اس صورت میں لازم ہے اور بعد موت بوجہ قرابت اس کی تجہیز و تکفین بھی کرے گا مگر جماعت شریک نہ ہو اور اگر اس میں کوئی بات بدمذہبوں کی نہیں تو مسلمان ہے اگر چہ مودودیوں سے میل کے سبب گناہ گار ہے۔ اس سے کفن دفن میں وہی برتاؤ کیا جائے جو مسلمانوں سے کیا جاتا ہے اور زید کا اس کے ساتھ حسن سلوک لازم ہوگا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جبکہ پہلے سے اس جگہ بد مذہب کی موجودگی کا علم ہو تو سرے سے وہاں جانا منع ہے۔ در مختار میں ہے: ”دعى الى وليمة وثمة لعب لا يحضر اصلا ملخصاً)) اور بد مذہب کو اٹھا دینا ضرور بلکہ حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سنت ہے اور جس نے یہ کہا کہ نہ اٹھانا چاہئے ، اس پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۸ / جمادی الاخری ۱۴۰۲ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی