وہابی اور دیوبندی کے عقائد کا بیان اور طلاق مغلظہ کے بعد بلا حلالہ رہنے کا حکم
(1) وہابی یا دیو بندی کسے کہتے ہیں؟ (۲) کچھ اشخاص کہتے ہیں کہ دیوبندی بھی نماز، قرآن پڑھتے ہیں لہذا ان کے پیچھے بھی نماز ہو جاتی ہے۔ (۳) کئی شخص ایسے ہیں جنہوں نے اپنی بیویوں کو طلاق ( تین مرتبہ ) دے دی ہے اور اس کے بعد بغیر حلالہ کئے اپنی ازواج کے ساتھ رہ رہے ہیں اور ان سے اولا د بھی ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ نیز عام مسلمانوں کو ان سے تعلق رکھنے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: (۱) حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے علم غیب کے منکر اور انبیاء واولیائے کرام کے تصرفات کے نافی اور توسل وشفاعت کے منکر وہابی ہیں نیز ان لوگوں کے نزدیک خدا کا جھوٹ بولنا ممکن ہے۔ دیکھو تقویۃ الایمان ورسالہ یکروزی اسماعیل دہلوی اور دیوبندی بھی ان عقائد کے حامل ہیں اس کے علاوہ دیو بندیوں کا عقیدہ ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کا خاتم النبین بمعنی آخر الزماں ہونا عوام کا خیال ہے مگر اہل فہم کے نزدیک ختم زمانی میں بالذات کوئی فضیلت نہیں، حضور کے بعد یا حضور کے زمانہ میں کوئی نیا نبی آجائے تو خاتمیت محمدی میں فرق نہ آئے گا۔ دیکھو تحذیر الناس قاسم نانوتوی حضور علیہ السلام کا علم کم ہے اور شیطان و ملک الموت کا علم حضور علیہ السلام سے زیادہ بلکہ آپ کیلئے وسعت علم مانا شرک ہے جس میں ایمان کا کوئی حصہ نہیں، دیکھو براہین قاطعہ خلیل احمد انبیٹھوی حضور علیہ السلام جیسا علم غیب ہر بچہ، ہر پاگل، ہر جانور، ہر چوپائے کو حاصل ہے۔ دیکھو حفظ الایمان، اشر فعلی تھانوی (1) بالجمله تقویت الایمان پر سرمنہ توڑنے والے وہابی ہیں اور تحذیر الناس و براہین قاطعہ وحفظ الایمان پر سر منڈانے والے دیوبندی ہیں اور جو دانستہ ان لوگوں کو مسلمان جانیں وہ بھی اسی زمرہ میں ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) وہ لوگ غلط کہتے ہیں، دیوبندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب ایسے کافر، مرتد بے دین ہیں کہ جو دانستہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین شریف (۲) اور مرتد کے پیچھے نماز باطل محض ہے بلکہ اسے دانستہ امام بنانا ایمان کھونا ہے۔ کفایہ میں ہے: الكافر لا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلاة له باطل (۳) در مختار میں ہے: ولو سلم على الذمي تبجيلا يكفر لان تبجيل الكافر كفر ولو قال لمجوسى یا استاذ تبجیلا کفر کمافی الاشباه (۴) (۳) وہ لوگ اشد گناہ گار، حرام کار مستوجب نارہ مستحق عذاب الہی ہیں اور ان مطلقہ عورتوں سے جو اولاد ہے، اولا دزنا ، ان لوگوں پر فرض ہے کہ فوراً ان عورتوں سے علیحدہ ہوں ورنہ مبتلائے زنا ر ہیں گے اور ہر واقف حال پر لازم ہے کہ انہیں چھوڑ دے کہ تو بہ کرنے پر مجبور ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۷ رذی الحجہ، ۱۴۰۲ھ (1) حفظ الایمان ص ۱۵ ، دار الکتاب (۲) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) (۳) شرح فتح القدير مع الكفايه ، كتاب الصلاة باب الامة ، ج ۱، ص ۳۲۴، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) الدر المختار، كتاب الحظر والاباحة ، باب الاستبراء وغيره، ج ۹، ص ۵۹۲، ۵۹۱ ، دار الكتب العلمية، بيروت