وہابیوں، دیوبندیوں اور ان کے متبعین کے ذبیحہ اور عقائد سے متعلق نو سوالات
(1) وہابی کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟ (۲) اگر کوئی شخص سنی اور وہابی کے فرق کو نہ جانتا ہو اور ناواقفیت کے سبب اچھا سمجھتا ہو اس کو کیا کہیں گے اور اس کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یا نا درست؟ (۳) جس بستی میں سب وہابی رہتے ہوں ایک یا دو شخص سنی ہوں ان کے یہاں گوشت کھانا کیسا ہے؟ جبکہ یہ معلوم ہے کہ یہاں ذبیحہ سنی نہیں کرتا ہے وہابی ہی کرتا ہے۔ (۴) جس بستی میں دونوں قسم کے آدمی رہتے ہوں، وہاں پر یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ نہیں ؟ کہ جو گوشت ہم لاتے ہیں اس جانور کو کس نے ذبح کیا ہے؟ (۵) ایک شخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے لئے غیب مانتا ہے خدا کی عطا سے لیکن خدا کی عطا بلا واسطہ جبریل علیہ السلام کے نہیں مانتا۔ اس کے ہاتھوں کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ (1) جس جگہ سنی وہابی کا سوال بڑے زوروں پر بہت مدت سے چل رہا ہے اور سنی وہابی کا فرق بھی بتا یا جارہا ہے پھر بھی بے علمی یا کج فہمی کی وجہ سے کوئی اپنے آپ کو دیو بندی ہی بتائے اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے یا حرام؟ (۷) جو شخص وہابیوں میں پیدا ہوا اپنے آپ کو وہابی ہی کہلائے اور وہ وہابیوں ہی میں رہتا ہو کیا ہے علم ہونے کی وجہ سے اس کو سنی کہہ سکتے ہیں۔ جبکہ اس کو سنیوں کے عقیدہ کا علم نہ ہو۔ اس کے ہاتھ کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ (۸) اگر کسی شخص کے سامنے جن لوگوں نے توہین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہو ان کی عبارتیں دکھائی جائیں اور وہ سب کچھ دیکھ کر یہ کہے کہ یہ عالموں کی باتیں ہیں عالم ہی خوب سمجھ سکتے ہیں، ہم تو جاہل ہیں وہ ہم سے بڑے ہیں۔ ایسے شخص کے ذبیحہ کا کیا حکم ہے؟ (9) جس بستی کے لوگ فاتحہ چہلم کرتے ہوں میلاد پاک بھی کرتے ہوں لیکن اپنے آپ کو دیو بندی کہلاتے ہوں، دیوبندی علماء کو اچھا جانتے ہوں، علمائے بریلی کو اچھا کہنے سے کھسیاتے ہوں، اور بہت سے اعتراض بریلویوں پر کرتے ہوں، جیسے بریلوی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا سے بڑھا دیتے ہیں اور قبروں کو پوجتے ہیں وغیرہ وغیرہ اور بستی کی مسجد کا امام بھی وہابی ہی ہو، ان لوگوں کو کیا کہیں گے ۔ ایسے لوگ
الجواب: (1) حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) درست ہے جبکہ ان کے عقائد کفریہ پر مطلع نہ ہوں اسے بتایا جائے پھر جان لینے کے بعد بھی اڑا رہے تو اس سے اور اس کے ذبیحہ سے احتراز کیا جائے۔ واللہ اعلم (۳) ناجائز وحرام۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ضروری ہے جبکہ وہابیہ کی کثرت ہو اور وہی اکثر ذبح کرتے ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) حضور علیہ السلام کے لئے علم غیب بعطائے الہی ثابت ہے اور یہ بذریعہ وحی ہے اور وحی بھی جبریل لائے اور کبھی بلا واسطہ حضور کو وحی ہوئی ۔ وحی کے دونوں طریقوں کو ماننا ضروری ہے محض بواسطہ جبریل ماننا اور بلا واسطہ وحی کو نہ ماننا گمراہی ہے اس کے قائل سے بعد تنبیہ اگر عناد صادر ہو تو احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) وہ اپنے اقرار سے دیوبندی ہے اور دیو بندی تو ہین خدا و رسول کی وجہ سے مرتد ہے اور مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) یہ بھی وہابی ہے جبکہ خود کو وہابی کہتا کہلاتا ہے اس کے ذبیحہ سے بھی احتر از ضروری ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) کھلی کھلی کفریہ عبارتیں دیکھ کر یہ کہنا کہ یہ عالموں کی باتیں ہیں محض بہانہ ہے جو حکم کفر سے مانع نہیں بلکہ ان عبارتوں کے لکھنے والوں کا کفر ایسا آشکار ہے جو انہیں جان کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے، علمائے حرمین وغیر ہما نے حسام الحرمین میں فرمایا: (1) وو من شک فی کفره و عذابه فقد کفر (۱) اور اس کا ذبیحہ حلال نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة ، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ) (۹) یہ لوگ اپنے اقرار سے دیو بندی بددین ہیں قال تعالیٰ: شَاهِدِينَ عَلَى أَنفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ ) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۲ ذیقعد ۱۳۹۹۰ھ