بد مذہبوں سے ترک موالات کا حکم اور میل جول رکھنے والے سنی عالم سے متعلق سوالات
ہے؟ اگر ایسا ہی ہے تو شریعت مطہرہ میں اس کی کیا صورت بتائی گئی ہے؟ واضح فرما ئیں ۔ بینوا توجروا (6) اگر بد مذہبوں خصوصاً وہابیہ سے ترک موالات کا حکم علماء وعوام دونوں کے لئے یکساں ہے تو اس عالم کے متعلق کیا حکم ہے؟ جو یہ کہے کہ ترک موالات کا حکم علمائے کرام کے لئے نہیں ہے۔ جہلاء کے لئے ہے، مدلل جواب عنایت فرمائیں۔ (۷) ترک موالات نہ کرنے پر اور دیو بندیوں سے اجتناب نہ کرنے پر اگر عوام اہل سنت میں بدگمانی اور انتشار پھیلے تو ایسی صورت میں کسی سنی عالم کا وہابیہ سے رشتہ داری کی بنا پر میل جول رکھنا، ان کے ساتھ کھانا پینا سونا بیٹھنا، اپنے سنی عزیزوں کے یہاں دعوت میں لے جانا یہ تمام افعال مسلک اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے مطابق شریعت مطہرہ میں جائز ہیں یا نا جائز ؟ (۸) اگر کوئی سنی عالم دین اپنے دیو بندی رشتہ دار کو اپنے پاس رکھے اور یہ کہے کہ وہ میرے یہاں تعزیت کے لئے آیا ہے جبکہ دیوبندی کو اس سنی کے یہاں رہتے ہوئے دوماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے۔ اور اس عمل پر مذکور عالم کا یہ کہنا کہ میرا بھائی تو راہ راست پر نہیں آسکتا مگر میں اس کے بیوی بچوں کو دیو بندیت سے بچانا چاہتا ہوں۔ جبکہ مذکور عالم کے اس فعل سے عوام اہل سنت میں بدگمانی و انتشار پھیل رہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مذکور عالم کا یہ قول کیا معنی رکھتا ہے ؟ مدلل جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔ بینوا تو جروا
الجواب: المستفتی محمد انور خاں رضوی کیراف عبیدالرضا شبیر احمد رضوی مسجد اونٹ خانہ نمبر ۳ ، موتی طویلہ نمبر ۲ مین روڈ ، اندور (1) دیو بندی تو انکار ضروریات دین وشتم خدا و رسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کے سبب ایسے کا فربے دین ٹھہرے کہ جو ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ كما صرحوا به قاطبة في فتاواهم المجموعة فى حسام الحرمين ان سے محبت و موالات کے بابت تو قرآن عظیم کا یہ تازیانہ ہی کافی۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ (1) یعنی جو ان سے دوستی کرے وہ انہیں میں سے ہے۔ اُن کا تو ذکر ہی کیا۔ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے تو ان بدمذہبوں سے جن کی بد مذہبی کفر قطعی کی حد تک نہ پہنچی، تمام تعلقات ( نکاح و همنشینی و خورد و نوش عیادت تجہیز و تکفین میں مشارکت ) حرام و ناجائز ٹھہرائے عقیلی و ابن حبان حضرت انس بنی الہعنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : فلا تجالسوهم ولاتشاربوهم ولاتؤاكلوهم ولاتناكحوهم (۲) یعنی اُن کے ساتھ نہ بیٹھو اور اُن کے ساتھ نہ پیو اور اُن کے ساتھ نہ کھاؤ اور اُن سے شادی بیاہ نہ کرو۔ اور ابن ماجہ کی روایت میں ہے: وان مرضوا فلا تعودوهم وان ماتوا فلا تشهدوهم وان لقيتموهم فلا تسلموا علیهم (۳) یعنی اگر بیمار ہوں تو اُن کی عیادت نہ کرو اور مرجائیں تو اُن کے جنازے پر مت آؤ اور انہیں دیکھو تو سلام نہ کرو۔ یہاں سے اس شخص کا حکم ظاہر اور وہ یہ کہ وہ شخص اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا سخت مجرم اشد کبیرہ کا مرتکب عذاب شدید کا مستوجب ہے۔ تو بہ صحیحہ کرے ورنہ سخت و بال و نکال کا مستحق رہے گا ۔ واللہ تعالی اعلم (۲) حکم وہی جو گز را بلکہ وہ بنسبت جہلاء کے سخت سے سخت غضب جبار و عذاب نارکا سزاوار۔ قال تعالى: قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (۴) طبرانی و ابو نعیم نے روایت کی ،فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : الزبانية اسرع الى فسقة القراء منهم الى عبدة الأوثان فيقولون يبدء بنا قبل عبدة الأوثان فيقال لهم ليس من يعلم كمن لا يعلم ) یعنی فرشتگان عذاب بے عمل علماء کی جانب بت پرستوں سے پہلے دوڑیں گے تو وہ کہیں گے ہمیں بت پرستوں سے پہلے عذاب دیا جاتا ہے تو کہا جائے گا جاننے والا اس جیسا نہیں جو نہیں جانتا۔ نیز طبرانی منجم کبیر میں راوی: ان انا سامن اهل الجنة ينطلقون الى اناس من اهل النار فيقولون بم دخلتم النار؟ فو الله مادخلنا الجنة الابماتعلمنا منكم فيقولون:اناكنانقول ولانفعل “(۲) یعنی کچھ جنتی جہنم کے کچھ لوگوں کے پاس جائیں گے تو ان سے کہیں گے تم جہنم میں کیسے داخل ہوئے خدا کی قسم ہم تو جنت میں اسی علم کے سبب داخل ہوئے جو ہم نے تم سے سیکھا تھا تو وہ کہیں گے ہم کہتے تھے اور کرتے نہ تھے۔ نیز طبرانی و بیقی راوی: اشد الناس عذابا يوم القيامة عالم لم ينفعه علمه (۳) یعنی قیامت کے دن سب لوگوں سے زیادہ عذاب اس عالم پر ہو گا جسے اس کے علم نے نفع نہ دیا۔ اور جبکہ وہ شخص مقتدا و پیشوا ہے تو لا محالہ اس کی بد عملی سے عوام بھی سند پکڑیں گے اور اس ایک کے ساتھ جتنے اس کی پیروی کریں گے ان سب کا وبال اس مقتدا کے سر ہوگا اور ان پیروکاروں کے عذاب میں بھی کمی نہ ہوگی ۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : وو من سن فى الاسلام سنة حسنة فله اجرها واجر من عمل بها من بعده من غير ان ينقص من اجورهم شئ و من سن فى الاسلام سنة سيئة كان عليه وزرها ووزر من عمل بها من بعده من غير ان ينقص من اوزارهم شئ ( ) واللہ تعالیٰ اعلم (1) الترغيب والترهيب كتاب العلم الترغيب فى العلم وطلبه وتعلمه ج ١ ، ص ۷۳۔حدیث ۲۰۸، دار الكتب العلمية بيروت (r) المعجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر ۴۶۲۹، باب ما اسندالوليد ابنعقبة، ج۲۲، ص ۱۵۰ ، مكتبه ابن تيميه القاهرة (۳) المعجم الصغير للطبرانی، حدیث ۵۰۷، ج ۱، ص ۳۰۵ باب من اسمه طاهر المكتب الاسلامي دار عمار، بیروت (۴) مشكوة المصابيح كتاب العلم الفصل الاول، ص ۳۳ مجلس برکات (۳) ہرگز نہیں بلکہ اس سے ہر طرح بیزاری اس سے نفرت ، اس پر شدت و غلظت بھی اسلام کی تلقین یہی اخلاق حسنہ مسلمین۔ قال تعالیٰ : مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ وَ الَّذِينَ مَعَةَ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ - الآية ()(1) دشمن احمد پہ شدت کیجئے ملحدوں کی کیا مروت کیجئے اور ان باتوں کو بداخلاقی جاننا شرع مبین کی توہین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) حکم گزشتہ جوابوں سے ظاہر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ہرگز نہیں بلکہ علماء کو حکم احتر از اشد ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) شریعت مطہرہ پر مفتری ہے تو بہ صحیحہ کرے ورنہ ہر واقف حال سنی صحیح العقیدہ اسے چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) ناجائز و حرام بد کام بد انجام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) اس کا یہ عذر ہر گز کارگر نہیں ۔ شرع مطہر کا قاعدہ مستمرہ دائمہ ہے: ”درء المفاسد اولى من جلب المصالح“ (۲) مفاسد کو دفع کرنا مصالح کو حاصل کرنے سے اہم ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ اس عالم کا اپنے دیو بندی بھائی کو اپنے پاس رکھنا سخت مضر۔ بے قیدی عوام کا دروازہ کھولنا ہے جس کا انسداد کسی کے بس کی بات نہ ہوگی ہر شخص اس عالم سے سیکھ کر بے خوف وخطر دیو بندیوں سے ملے گا۔ اولا، اس دیوبندی کی اولاد اس سے جدا نہیں ہو سکتی اگر عارضی اصلاح ہو بھی جائے تو اس دیو بندی کی ہر وقت کی صحبت اسے قائم نہ رہنے دیگی۔ ثانیا، عالم مذکور کو پہلے اپنی اولاد کی فکر ضرور۔ کیا عالم مذکور کی اولا داس دیو بندی کو چا جان نہ کہتی ہوگی اسے سلام نہ کرتی ہوگی اس کی تعظیم نہ کرتی ہوگی۔ ضرور کرتی ہوگی اور کچھ نہ ہی تو چچا جان کہنا سلام کرنا کیا تعظیم کے لئے کم ہے اور اس کی خدمت بھی یقینا تعظیم ۔ اب ڈراوہ عالم صاحب حضور علیہ الصلاة والسلام کی حدیث : من وقرصاحب بدعة فقد أعان على هدم الاسلام ( ) جو کسی بدعتی کی تو قیر کرے اس نے اسلام کے ڈھانے پر مدد کی۔ کی روشنی میں بتائیں کہ انہوں نے اپنی اولاد کو گناہ گار کیا کہ نہیں؟ ضرور کیا اور سخت گناہ عظیم پر مدد کی۔ ثالثاء الصحبة مؤثرة “صحبت اپنا رنگ ضرور دکھاتی ہے، خصوصا صحبت بد کہ بہت جلد اثر کرتی ہے۔ حدیث میں ہے: مثل جليس السوء كمثل صاحب الكير، ان لم يصبک من سواده اصابک من دخانہ “ (۲) بُرے ہم نشیں کی مثال بھٹی کو پھونکنے والے کی سی ہے اگر تجھے اس کی سیاہی نہ پہنچی تو اس کا دھواں ضرور پہنچے گا۔ تو عالم مذکور کی اولاد کا اس کے بھائی سے وہ قرب پھر اس کی اولاد کا عالم صاحب کی اولاد سے خلط ملط کیا کچھ آفت نہ ڈھائے گا اور انہیں کسی درجہ نہ بگاڑے گا، ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ غرض یہ اصلاح مزعوم تو نہ ہو سکے گی البتہ فساد اولاد کا سخت اندیشہ ضرور ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ ۱۵ ؍رجب المرجب ۱۴۰۲ھ لقد اصاب من اجاب۔ فی الواقع عالم دین کی شان نہیں ہے کہ غالی قسم کے وہابی دیو بندی کو اپنے گھر جگہ دے اور اس سے تعلقات رکھے اور اس کا یہ فعل عوام کو جری بنادے گا ، علماء تو فرماتے ہیں: فقبيح على العالم تركه العمل واقبح منه ان يرشد الناس ويهديهم مع ،، كونه هو غير مهتد بنفسه [ تفسیر حدائق الروح والريحان في روابی علوم القرآن، ج ۴، ص ۳۸۹، مطبع دار طوق النجاة بيروت ] مفتی صاحب موصوف فتویٰ مذکور کو ملاحظہ کریں اور اس کی تلافی کی کوشش کریں۔ وھو تعالى اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف