وہابیہ کے باطل عقائد اور تقویت الایمان کا رد
اب احکام قرآن پر بھی غور کر لیں : یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے مسیح بن مریم کو خدا قرار دیا۔ مائدہ - رکوع ۳] بلا شبہہ وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے خدا کو تین میں کا تیسرا ( خدا عیسی ابن مریم ) قرار دیا۔ حالانکہ خدا صرف ایک ہی ہے اگر وہ لوگ اپنی ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان کافروں کو نہایت دردناک عذاب پہنچے گا۔ مائدہ - رکوع ۱۰]۔ یہ حدیث بھی پڑھیں : میری شان میں اس طرح مبالغہ نہ کرو ۔ جیسا نصاری نے حضرت عیسی کی شان میں کیا میں تو اللہ کا بندہ ہوں بس مجھے اس کا بندہ اور رسول ہی کہو ۔ [ بخاری ، ج ۱، ص ۴۹۰]
الجواب: خادم قوم : محمد دستگیر خان حبیبی مضمون هذا املاحظہ ہوا یہ مضمون بھی جہالات وخرافات وہابیہ پر مشتمل ہے۔ بعونہ تعالیٰ اس کا رد کرنے میں خود اسی کا قول ”جس کی تعلیم مطلقا تو حید پرستی پر مبنی ہے کافی ہے مضمون نگار نے اپنے قول سے رسالت و معجزات و ولایت و کرامات بلکہ توحید کے سوا جملہ ضروریات و اصول دین (جن پر ایمان واسلام کی بنا ہے ) کا انکار کر دیا ہے یہ وہی بولی ہے جو تقویت الایمان میں امام الطائفہ بول گیا اللہ کو مان اوروں کو ماننا خبط ہے اور اسکا قول حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جہاں جزو ایمان ہے وہاں نافرمانی بھی منافی ایمان ہے“ اولاً تقویت الایمانی عقیدہ کے خلاف ہے اور اس کے بموجب خبط ہے تو مضمون نگار تقویت الایمان کے حکم کے بموجب خبطی ہے اور ہم سنیوں کے نزدیک اس کتاب پر سر منڈانے والا اور اسے عین اسلام سمجھنے والا ہر وہابی کا فربے دین ہے۔ اور یہی حکم ہمارے نزدیک مضمون نگار کا بھی ہے۔ تو جب تک تقویت الایمان و حفظ الایمان و براہین قاطعه وتحذیر الناس اور ان کے مصنفین سے تبری و بیزاری نہ کر لیں نہ رسول علیہ السلام کی محبت نصیب ہو ۔ نہ رسول کی فرمانبرداری میسر ہو تو مضمون نگار اور اس کا طائفہ اپنے کہے کا خود مصداق ہے۔ ثانیاً۔ مطلقا نافرمانی کو منافی ایمان بتانے کا مفاد یہ ہے کہ مضمون نگار کے نزدیک مرتکب گناہ کافر ہے اور یہ خوارج کا عقیدہ ہے۔ مجمع الجار میں ہے: ” والخوارج طائفة من المبتدعة لهم مقالة مخصوصة كالتكفير بالكبيرة وكان ابن عمر يراهم شرار خلق الله لا نهم يعتمدون الى آيات نزلت في الكفار فجعلوها على المومنين () تو مضمون نگار کے لئے مجمع السجار کی یہ عبارت کافی ہے اور وہ اس کے بموجب خارجی بدعتی ہے کہ خوارج کی طرح مطلقاً نافرمانی کو منافی ایمان کہا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ارشاد کے مطابق بدترین خلق الہی ہے کہ اہل سنت و جماعت کا حال یہود و نصاری پر قیاس کرتا ہے اور انہیں بزور زبان خوارج کی طرح مشرک کہتا ہے جبھی تو یہ کہا کہ چونکہ سابقہ امم کا رجحان اکابر پرستی پر مرکوز رہا اور وہ راندہ درگاہ ہوئیں “ یہ اس کا افتراء ہے ہرگز کوئی سنی انبیاء و اولیاء کوخدا نہیں جانتا ہاں البتہ انہیں اللہ تعالیٰ کی عطا سے قادر ومتصرف سمجھتا ہے اور یہ عقیدہ ہر گز شرک نہیں نہ اس عقیدہ سے مزارات اولیاء پر استمداد کے لئے یا وفاے نذر کے لئے حاضری شرک ہے بلکہ قدیم سے بلانکیر معمول وتوارث المسلمین ہے اور اگر وہابیہ کے نزدیک یہ عقیدہ شرک ہے تو پہلے امام الطائفہ اور اس کے مقتدیان و پیشوایان کو مشرک کہیں پھر خود کو مشرک کہیں کہ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ اور ان کی اولا د امجاد کی بابت فرماتے ہیں۔ ”حضرت امیر و ذریہ طاہرہ اور اتمام امت بر مثال پیراں و مرشدان می پرستند و امور تکوینی را با ایشاں وابسته می دانند و فاتحه و در و د وصدقات و نذر ومنت بنام ایشاں رائج و معمول گردیده چنانچه با جمیع اولیاء اللہ میں معاملہ است (۲) اور اسماعیل دہلوی کے دادا اور دادا استاد اور پردادا شاہ ولی اللہ صاحب انفاس العارفین میں اپنے والد ماجد کے حال میں لکھتے ہیں: ” حضرت ایشاں در قصبہ ڈاسنہ بزیارت مخدوم الله دیار رفته بودند شب هنگام بود در آن بیایند فرمودند مخدوم ضیافت ما می کنند و می گویند که چیزی خورده روید توقف کردند تا آنکه اثر مردم منقطع شد و ملال بر یاراں غالب آمد آن گاه زنے بیامد طبق برنج و شیرینی بر سر و گفت نذر کرده بودم کہ اگر زوج من بیاید ہما ساعت این طعام پخته به نشینندگان مخدوم الله د یارسانم در میں وقت آمد ایفاء نذر کردند (۳) مسلمان دیکھیں ان دونوں شاہ صاحبوں کی عبارتوں سے کتنے جلیل و جمیل وہابیت کش فائدے حاصل ہوئے۔ [1] اولیاء کا اپنے حاضرین مزارات پر مطلع ہونا۔ [۲] ان سے کلام کرنا کہ جب مخدوم اللہ دیار قدس سرہ کے مزار پر شاہ ولی اللہ صاحب کے والد شاہ عبد الرحیم صاحب حاضر ہوئے حضرت نے مزار سے ان کی دعوت کی اور فرمایا کچھ کھا کر جانا ۔ [۳] اولیائے کرام کا بعد وفات بھی اطلاع پا کر حضرت مخدوم قدس سرہ کو معلوم ہوا کہ ایک عورت نے اپنے شوہر کے آنے پر ہماری نذر مانی ہے اور یہ کہ آج اس کا شوہر آئے گا اور یہ کہ عورت اس وقت ہماری نذر کے چاول اور شیرینی حاضر کرے گی۔ [۴] اولیاء کی نذر۔ [۵] مصیبت کے وقت اس کے دفع کو اولیاء کی نذر مانی۔[۶] فاتحہ مروجہ۔[۷] عرس اولیاء۔ اور ان سب سے بڑھ کر پانچ بھاری غضب کی پیر پرستی : [1] مولیٰ علی وائمہ اطہار کی بندگی۔ [۲] اس پرستاری و بندگی پر تمام امت مرحومہ کا اجماع۔ [۳] فتح و شکست، تندرستی ، غرض اولاد ہونا یا نہ ہونا،مرا منایا نہ ملنا، اوروں کے مثل احکام تکوینیہ کا مولیٰ علی وائمہ اطہار و اولیائے کرام سے وابستہ ہونا ۔ [۴] اس وابستہ کے جاننے پر امت مرحومہ کا اجماع ہونا۔ [۵] نیز شاہ ولی اللہ صاحب ہمعات میں لکھتے ہیں : بارواح طیبہ مشائخ متوجه شد، و برائے ایشاں فاتحہ خواند یا بزیارت قبر ایشاں رود از آنجا انجذاب در یوزه کند (۱) یہی شاہ صاحب ایک رباعی میں فرماتے ہیں: آنانکه زاو ناس بہمی جستند - بالجثة انوار مقدم پیوستند فیض قدس از همت ایشاں میجو - دروازه فیض قدس ایشان هستند (۲) شاہ عبدالعزیز صاحب تفسیر عزیزی میں فرماتے ہیں: از اولیائے مدفونین انتفاع و استفاده جاریست (۳) (1) جمعات ہمعہ ۸،ص ۳۴ مطبع اکا دیمیہ الشاہ ولی اللہ الدہلوی حیدر آباد (ماخوذ از فتاوی رضویہ مترجم ج ۷ ) (۲) مکتوبات شاہ ولی اللہ از مجموعه کلمات طیبات مکتوب بست و دوم در شرح رباعیات ص ۱۹۴، مطبع مجتبائی دہلی (۳) تفسیر فتح العزیز پارہ عم استفاده از اولیاے مدفونین ص ۱۴۳، مطبع مسلم بکڈ پولال کنواں دہلی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمانا کہ میری قبر کو عید نہ بنالیا دو وجہ رکھتا ہے:ایک یہ کہ میری قبر کی زیارت کو عید کی طرح نہ کر لینا یعنی اس میں کمی نہ کرنا۔اور دوسری۔ وہ جس کی طرف خود مضمون نگار نے میلہ کہہ کے اشارہ کیا یعنی میری قبر کو میلہ (بےادبی کی جگہ ) نہ بنالینا!۔ نہ اس عقیدہ سے مزارات اولیاء پر استمداد کے لئے یا وفاے نذر کے لئےحاضری شرک ہے بلکہ قدیم سے بلانکیر معمول و مسلمین ہے یہ ارشا د زیارت قبر سے مانع نہیں بلکہ زیارت کی تاکید اور تعظیم قبر شریف کی طرف مشیر ہے۔ولكن الوهابيةقوم لايعقلون۔اور غنیۃ الطالبین کی طرف جو اس مضمون میں منسوب ہوا مجمع البحار واشعۃ اللمعات کے مطابق ضرور الحاقی ہے اور اس میں (غنیہ میں ) امام احمد ابن حنبل کے بابت بہت ساری باتیں خلاف عقائد اہل سنت و جماعت درج ہیں جن کے متعلق علامہ ابن حجر مکی نے فتاوی حدیثیہ میں فرمایا ہے : ” کہ یہ بعض مغضوبین کا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ پر افتراء اور الحاق ہے فلیر اجع محمہ(۲)پھر اسی غنیہ میں گمراہوں کی فہرست میں حنفیہ کو شمار کرنا واقع ہوا جو قطعاً الحاق و افترا ہے ورنہ کیا مضمون نگار جملہ حنفیہ کو گمراہ جانے گا اگر ایسا ہے تو اپنی فکر کرے اور اپنے طائفہ کی خیر منائے کہ منفی بنتے ہیں اور مضمون نگار نے یہ جو سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی محبوب سبحانی قدس سرہ النورانی کو غوث پاک کہا،مضمون نگار بتائے غوث کے معنی فریا درس ہے کہ نہیں اور ضرور ہے تو غوث اعظم کو غوث کہہ کر مضمون نگار خود بھی مشرک ہوا کہ نہیں؟الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں ۔ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیانیز یہ بھی لازم ہے کہ خاص اس فقرہ کا مکتوب غوث اعظم ہونا غنیۃ الطالبین کے اصل نسخہ معتمد علمائے اسلام سے ثابت کرے اور اگر اس سے عاجز تو اس کا ارشا د غوث ہونا ہی ثابت نہیں اور اب یہ فقرہ کہ ان کے عقائد باطلہ میں سے یہ ہے کہ ائمہ اہل بیت کو جمیع ما کان و ما یکون کا علم ہوتا ہے۔ الخ، اس کی تصحیح نقل مضمون نگار پر لازم ہے اور انبیائے کرام کے لئے علم ماکان و ما یکون ماننا ہرگز عقیدہ باطلہ نہیں ہے بلکہ احادیث مبارکہ سے اس کا حصول ثابت ہے صحیحین بخاری ومسلم میں حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے۔واللفظ لمسلم: قام فينا رسول الله صلى الله علیه و سلم مقاما ما ترک شیئا يكون في مقامه ذلک الى قيام الساعة الاحدث به حفظه من حفظه و نسيه من نسيه رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک بار ہم میں کھڑے ہو کر اب سے قیامت تک جو کچھ ہو نے والا تھا سب بیان فرمادیا کوئی چیز چھوڑ نہ دی جسے یا در ہایا در ہا جو بھول گیا بھول گیا۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے: قام فينا النبي صلى الله عليه وسلم مقاما فاخبرنا عن بدء الخلق حتى دخل اهل الجنة منازلهم واهل النار منازلهم حفظ ذلك من حفظه و نسيه من نسیه ایک بارسید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوکر ابتدائے آفرینش سے لے کر جنتیوں کے جنت اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے کا حال ہم کو بتادیا یا درکھا جس نے یادرکھا اور بھول گیا جو بھول گیا۔ صحیح مسلم شریف میں حضرت عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ سے ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن نماز فجر سے غروب آفتاب تک خطبہ فرمایا بیچ میں ظہر وعصر کی نمازوں کے سوا کچھ کام نہ کیا، فاخبرنا بما كان وبما هو كائن فاعلمنا احفظنا اور قرآن کریم کے فضائل میں وہ حدیث جس میں وارد ہے کہ اس میں اگلے اور پچھلے کی خبر ہے اور وہ حدیثیں جو یہاں مذکور ہوئیں ان تمام احادیث سے بعطائے الہی و بطفیل رسالت پناہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اولیاء کے لئے ماکان و ما یکون کا علم ثابت ہے ولله الحمدوله الحجةالسامية_ اور حضرات وہابیہ کے لئے امام الطائفہ اسماعیل دہلوی کے دادا شاہ ولی اللہ دہلوی کی گواہی بس ہے وہ فیوض الحرمین میں اپنی کیفیت بتاتے ہیں: افاض على من جنابه المقدس صلى الله تعالى عليه وسلم كيفية ترقى العبد من حيزه الى حيز القدس فيتجلى له حينئذ كل شئ كما اخبر عن هذا المشهد في قصته المعراج المنامي (1) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے مجھ پر اس کیفیت کا علم فائض ہوا کہ بندہ اپنے مقام سے مقام قدس تک کیونکر ترقی کرتا ہے کہ ہر چیز اس پر روشن ہو جاتی ہے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مقام سے معراج منامی کے قصہ میں خبر دی۔ وہا بید اب شاہ ولی اللہ صاحب کا حکم بتائیں اور امام الطائفہ کو اور خود کو شرک سے بچائیں ؎ الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں - لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا قولہ: ”مولوی حشمت علی صاحب جو بریلوی فرقہ کے جانے مانے اور سر براہ کار شخصیت کے مالک ہیں انہوں نے مبارکپور کے جلسہ میں جو تقریر فرمائی وہ یہ تھی کہ ہم خدا کی بندگی کے لئے نہیں پیدا کئے گئے ہیں ، صریح افتراء ہے۔ وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى (۲) یونہی یہ جو ان کی طرف منسوب کیا کہ اگر خدا کے بندے ہوگئی۔ الخ ، صریح بہتان ہے۔ قولہ: ”جو رسول کا بندہ نہیں شیطان کا بندہ ہے ، یہ حق ہے اور حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا بندہ خدا کا بندہ ہے۔ خدائے عزوجل نے فرمایا ہے ، قال تعالیٰ: قُلْ يُعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللَّهِ (۳) حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی علیہ الرحمہ نے ضمیر متکلم کا مرجع حضور علیہ السلام کو بتایا ہے اور حاشیہ شمائم امدادیہ میں دیوبندیوں کے حکیم الامت اثر فعلی نے اس کی تائید کی ہے، مثنوی میں حضرت بلال کی خریداری اور صدیق اکبر کا آزاد کر نا اور یہ کہنامذکور ہے کہ : گفت ما دو بندگان کوئے تو - کردمش آزاد من بر روئے تو (1) پھر اسی میں ہے: بنده خود خواند احمد ( علی ) در رشاد - جمله عالم را بخواں قل یا عباؤ (۲) اور حضرت عمر کا یہ قول : ،، "كنت عبده و خادمه (۳) مشہور ۔ اور کتب میں مسطور ہے اور شاہ ولی اللہ صاحب نے بحوالہ الریاض المغفر لکھا اور مکرر کھا اور سہل ابن عبداللہ تستری رضی اللہ عنہ کا قول مطالع المسرات وغیرہ میں مذکور ہے جو یہ ہے: ،، من لم ير نفسه فی ملکه علیه السلام لا يضوق حلاوة السنة “ (م) قولہ: ”دل جھکا ہو مدینہ کی طرف، اس میں اصلاً کوئی محظور نہیں ۔ و من ادعی فعلیہ البیان ۔ قوله : " از اول تا آخر نماز میں صرف رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ہی تصور ہو، اس طرح ہرگز نہ کہا ان پر اتہام ہے بلکہ اس طرح کہا کہ التحیات میں ایہا النبی پڑھنے میں تصور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ہو اور التحیات میں تصور حضور علیہ السلام سے کوئی امر مانع نہیں بلکہ السلام علیک ایھا النبی سے معلوم ہوتا ہے کہ تصور وقصد تحیت مطلوب ہے۔ درمختار میں ہے: " ويقصد بالفاظ التشهد معانيها مرادة له على وجه الانشاء كانه یحیی الله تعالى و ،، يسلم على نبيه و على نفسه و اولیائه (ه) (1) قولہ: ”حضور کی طرف سب کے ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں، حضور کے آگے سب گڑ گڑا رہے ہیں، حق ہے مثنوی شریف مولائے روم دفتر ششم ، ص ۱۱۷ مطبع سب رنگ کتاب گھر دہلی (۲) مثنوی شریف سبب در حرمان اشقیا از دو جہاں کہ خسر الدنیا والآخرة دفتر اول، حصہ دوم ، ص ۲۶۷ مطبع سب رنگ کتاب گھر دہلی (۳) کنز العمال، كتاب الخلافة مع الامارة ، ج ۵، ص ۲۷۲، حدیث نمبر ۱۴۱۸۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (۴) مطالع المسرات ص ۵۸ ، وادى النيل مصر (۵) الدر المختار كتاب الصلوة، باب صفة الصلوة، ج ۲، ص ۲۱۹ ، دار الكتب العلمية، بيروت اور اس پر شاہ ولی اللہ صاحب کی گواہی بس ہے، وہ اطیب النغم فی مدح سید العرب والعجم میں لکھتے ہیں: وصلى علیک الله یا خیر خلقه - ويا خير مامول ويا خير واهب ويا خير من يرجى لكشف رزية - و من جوده قد فاق جود السحائب وانت مجيرى من هجوم ملمة اذا انتشبت في القلب شر المحائب (1) اور خود اس کی شرح و ترجمہ میں لکھتے ہیں: فصل یاز دہم در ابتهال بجناب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) رحمت فرستند بر تو خدائے تعالیٰ اے بہترین خلق خدا ! والے بہترین کسے کہ امید داشته شود! اے بہترین عطا کنندہ والے بہترین کسے کہ امید داشته باشد! برائے ازالہ مصیبتے ! والے بہترین کسے کہ سخاوت اوزیاده است از باران ! بار با گواہی می دہم کہ تو پناه دهنده منی از هجوم کردن مصیبتے وقتیکه بخلاند در دل بدترین چنگالہارا - اھ ملخصا (۲) اسی کی فصل اول میں لکھتے ہیں کہ بنظر نمی آید مرامگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ جائے دست زدن اند وہ گیس است در ہر شدتے (۳) تفصیل انوار الانتباه فی حل ندائے یا رسول اللہ مصنفہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ میں دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم