بدمذہبوں کی طرف سے اعلی حضرت پر سرکار ابد قرار علیہ الصلوۃ والسلام، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کا الزام بے بنیاد ہے!
۸ رشعبان المعظم ۱۳۹۵ھ محترم و مکرم قبلہ جناب مفتی اختر رضا خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعدۂ عرض خدمت اقدس میں یہ ہے کہ بندہ بفضلہ تعالیٰ حضور کی دعاؤں سے یہاں پر خیریت سے ہے، امید ہے کہ آپ بھی خیریت سے ہوں گے۔ دیگر عرض یہ ہے کہ آج مجھے ایک صاحب نے ایک کتاب دکھائی جس کا نام ابن الوقت ملا ۔ خانہ تلاشی ہے جس کا مصنف مولوی محمد اسماعیل سندھی دیوبندی مراد آبادی ہے، اس نے اپنی اس کتاب میں سید نا اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کو بدعتی لکھا ہے اور اعلیٰ حضرت کو گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور گستاخ صحابہ قرار دیا ہے، جس میں اعلیٰ حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی سینکڑوں عبارتیں لکھی ہیں ، شعر بھی لکھا ہے جس سے وہ مردود یہ ثابت کر رہا ہے کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت بڑے گستاخ
رسول ہیں اور گستاخ صحابہ بھی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ اپنی کتاب میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بارے میں لکھتے ہیں : کہ ان کی گستاخی اور شعر میں کی : تنگ و چست ان کا لباس اور وہ جو بن کا ابھار - سرک جاتی ہے قبا سر سے کمر تک لے کر یہ پھٹا پڑتا ہے جو بن میرے دل کی صورت - کہ ہوئے جاتے ہیں،جامہ سے بروں سینہ دلبر حوالہ دیتے ہیں حدائق بخشش حصہ سوم، ص ۳۷ کا، یہ شعر وہ ص ۲۶۰ ، پر لکھتے ہیں۔ اسی کتاب کے ص ۲۶۹؎ پر لکھا ہے: ان کے مولوی احمد رضا خاں صاحب کے پیر بھائی ، مولوی برکات احمد کے انتقال کے دن مولوی سید امیر احمد صاحب مرحوم خواب میں زیارت اقدس حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوئے ،عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف لئے جارہے ہیں، فرمایا برکات احمد کی نماز جنازہ پڑھنے، الحمد للہ یہ جنازہ مبارکہ میں نے پڑھایا ( مولوی احمد رضا خاں) اس کا حوالہ الملفو ظ حصہ دوم، ص ۱۲۶ رکا دیا۔ اس کے بعد تبصرہ میں لکھا ہے: کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے قبل شدت بیماری کی وجہ سے سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا تھا، جماعت کی نماز پڑھانے کو ، اس پر صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یعنی ابو قحافہ کے بیٹے کی یہ مجال نہیں جو اللہ کے محبوب سے بڑھ کر نماز پڑھائے، اتنا کہہ کر پیچھے نمازیوں کے صف میں مل گئے مگر حیرت تو دیکھئے مولوی احمد رضا خاں کی خود امام الانبیاء کی امامت کے مدعی ہے اور بڑے فخر کے ساتھ اسی توہین رسالت علیہ الصلوۃ والسلام پر الحمد للہ پڑھتے ہوئے کہتے ہیں، یہ جنازہ مبارکہ جس کی نماز پڑھنے کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، اسی جنازہ کی نما ز خود میں نے پڑھائی تھی۔ یہ بات اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالی عنہ کی کتابوں میں واقعی لکھی ہے یا الزام لگایا گیا ہے، یا بہکانے کے لئے اگر ایسا نہیں تو اس کا جواب دیتے ہوئے ان کتابوں کی قیمت لکھیں، تا کہ ہم صفائی کے