بد عقیدہ کا حکم، سید ہونے کا اعتبار، فاسق کی تعریف اور شجرہ قبر میں رکھنے کا حکم
جو بد عقیدوں سا عقیدہ رکھے وہ انہیں میں سے ہے، بد عقیدہ سید نہیں، مرتد کی تعظیم حرام ہے شجرے کا قبر میں رکھنا جائز ہے کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (1) زید کی سیادت عوام میں مشہور ہے اور وہ بھی اپنے کو سید لکھتا ہے نیز اپنا نسب نامہ بھی پیش کرتا ہے لیکن غضب یہ ہے کہ ان کا تعلق علمائے دیو بند سے ہے اور عقائد بھی علمائے دیو بند کا سا ہے اس لئے امر طلب یہ ہے کہ از روئے شرع اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ آیا اس کی مخالفت و اہانت کی جائے یا نہیں؟ نیز ا سے از روئے شرع سید جانیں یا نہیں اگر ما نہیں تو کیوں اور نہیں تو کیوں؟ (۲) زید ایک مرتبہ داڑھی منڈوایا پھر اسے چھوڑ دیا بفضلہ تعالیٰ اب حد شرع کے مطابق ہے تو اسے فاسق کہا جائے گا یا نہیں ؟ اگر کہا جائے گا تو کیوں اور نہ کہا جائے گا تو کیوں؟ نیز فاسق کی تعریف آسان لفظوں میں وضاحت کے ساتھ بیان فرمائیں نیز داڑھی منڈوانا گناہ صغیرہ ہے یا کبیرہ؟ (۳) شجرے کا قبر کے اند رکھنا کیسا ہے بعض حضرات اس کو برے لفظوں سے تعبیر کرتے ہیں از روئے شرع وہ شخص کیسا ہے؟
الجواب: (1) فی الواقع اگر زید بے قید دیو بندیوں کا عقیدہ کفریہ رکھتا اور دیوبندیوں کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں مسلمان جانتا ہے تو انہیں کی طرح کا فربے دین ہے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو دیو بندیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور اسے سید نہ کہا جائے کہ یہ اس کی تعظیم ہوگی اور مرتد کی تعظیم حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس زید کو اب فاسق نہ کہا جائے گا جبکہ اس کا فسق داڑھی منڈانے ہی کی وجہ سے ہو اور کوئی بات فسق و فجور کی اس میں نہ ہو اور اگر علانیہ کسی دیگر فسق و فجور میں اب بھی ملوث ہے تو ضرور فاسق معلن ہے۔ اور داڑھی حد شرع سے کم کرنا گناہ صغیرہ ہے یوں ہی مونڈوانا اور عادت اس کی کبیرہ اور فاسق وہ ہے جو گناہ کبیرہ کا یا صغیرہ پر اصرار کا مرتکب ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جائز ہے اور اسے برا کہنا غلط باطل ہے اور برا کہنے والا گمراہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۴ رذی الحجہ ۱۴۰۱ھ