دیوبندی، تبلیغی اور مودودی جماعتوں کے اجتماعات میں شرکت اور ان سے دور رہنے کا حکم
زینت بڑھتی ہے اور ان کے شمار میں آتے ہیں اور انہیں کہنے کا موقع ملتا ہے کہ ہم نے اتنے عد دمسلمان کیے جب کہ آقائے نعمت حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کا فتویٰ ہے کہ اگر کوئی مسلمان اہل ہنود کے مشرکانہ میلوں میں بغرض تماشائی یا بغرض تجارت بھی گیا تو اس پر تجدید ایمان تجدید نکاح لازم آتا ہے۔ فتاویٰ مصطفویہ، کتاب الایمان، ص ۸۸ ، ملاحظہ ہو۔ لہذا مذکورہ بالا جماعتیں بھی کافر ہیں ۔ نیز ان کا کفر تو اہل ہنود سے بھی بڑھا ہوا ہے۔ اس کے لیے یہ سب مذہب پاک کے غدار اور آستین کے سانپ ہیں اور شاتمان رسول ہیں تو ان کے اجتماع میں شریک ہونے سے بھی کیا تجدید ایمان تجدید نکاح کے احکام نافذ ہونگے ۔ بینوا توجروا
الجواب: المستفتی محمد لیاقت حسین ،سلطان پوری۔ دیوبندی تبلیغی مودودی اپنے عقائد کفریہ کے سبب بے دین ہیں شرعا ان سے دور رہنے کا حکم ہے۔ قال اللہ تعالیٰ : وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِكُرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ )) یعنی اگر شیطان تجھ کو بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھ۔ تفسیر احمدی میں ہے: ،، الظالمين يعم الكافر والفاسق والمبتدع والقعود مع كلهم ممتنع “(۲)۔ حدیث میں ہے: ،، اياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم (۳) ان سے دور رہو۔ انہیں خود سے دور رکھو کہیں تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔ اور جب ان سے ادنی میل جول حرام ہے تو ان کے جلسوں میں جانا کس درجہ حرام ہوگا ؟ ضرور یہ حرام اشد حرام بد کام کفر انجام ہے۔ حدیث میں ہے: ،، من كثر سواد قوم فهو منهم) جو جس قوم کی تعداد بڑھائے وہ انہیں میں سے ہے۔ سنیوں پر لازم ہے کہ وہ ان کے جلسوں سے دور رہے اور جوان کے جلسوں میں شریک ہوئے ان پر تو بہ لازم ہے اور جنہوں نے اس جلسے میں کسی کفری قول یا فعل کو دانستہ مقرر رکھا ہوان پر تجدید ایمان بھی لازم ہے۔ بیوی والے ہوں تو تجدید نکاح بھی کر لے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله