ایک نام نہاد پیر کے متعلق سوال جو تعظیم انبیاء و اولیاء سے روکتا ہے
۱۳ جمادی الآخره ۱۴۰۴ھ ایک نام نہاد پیر کے متعلق سوال تعظیم انبیاء و اولیاء سے روکنا وہابیہ کا طرہ امتیاز ہے، اشر فعلی ، قاسم نانوتوی ، رشید احمد گنگوہی اور خلیل امیٹھوی کی کفری عبارتیں! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : نعمان صاحب اور ان کے ساتھی لوگ ہمیشہ سے مولود شریف کی مجلس کر کے آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ذکر خیر کرتے تھے اور نعتیہ اشعار اس مجلس پاک میں پڑھے جاتے تھے، نیز کبھی کبھی سماع کی مجلس بھی ہو جاتی تھی جس میں پاکیزہ اور ستھرے اشعار سے دلوں میں گرمی اور مجلس میں وجد آفریں کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ چند دنوں بعد نعمان صاحب ایک پیر صاحب سے مرید ہو گئے ، جب پیر صاحب کو کسی دوسرے کے خط سے اس کی اطلاع ہوئی تو ان کا ایک لمبا چوڑ ا فرمان پہونچا جس کے اقتباسات درج ذیل ہیں ، دریافت کرنا یہ ہے کہ ان اقتباسات کی روشنی میں... (1) ان پیر صاحب موصوف کی بات ماننا نعمان صاحب کو یا اور لوگوں کو جو ان سے عقیدت رکھتے ہیں ،ضروری ہے یا نہیں؟
(۲) خواب میں حضور صلی ایام کا مجلس مولود شریف سے خوشی و رضامندی ظاہر کرنے کے بعد کیا پیر صاحب کی یہ جسارت کہ وہ اپنی ناراضگی ظاہر کریں، قابل ملامت و قابل نفرت ہے کہ نہیں؟ (۳) پیر صاحب مولود شریف کی مجلس پاک سے اپنی مرقومہ تجویز کے مطابق بیزاری ظاہر کرتے ہیں، مسلمان رہے یا کافر ہو گئے؟ پیر صاحب کے فرمان کے اقتباسات: التفات نامہ پا کر خوش ہوا اس گرامی نامہ میں لکھا ہوا تھا کہ اگر سماع روکنے سے اتنا مبالغہ ہو کہ مولود شریف سے منع کرنا بھی اس کے ضمن میں ہو جائے حالانکہ مولود شریف میں قصائد نعتیہ اور کچھ اشعار کا پڑھنا ہوتا ہے تو اس صورت میں نعمان صاحب اور یہاں کے احباب کے لئے جنہوں نے خوابوں میں آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ اس مجلس مولود سے بہت خوش ہوئے اور راضی ہیں مولود کا ترک کرنا بہت مشکل ہے۔ میرے محترم ! اگر خوابوں پر اعتماد کر لیا جائے تو مریدوں کو پیروں کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ اس لئے کہ ہر مرید اپنے خوابوں کے مطابق زندگی گزارے گا، چاہے وہ خواب طریقہ پیر کے موافق ہوں یا نہ ہوں اور مرشد کے پسندیدہ ہوں مرید صادق ہزار خوابوں کو بھی پیر کے ہوتے ہوئے آدھے جو میں بھی نہیں خریدے گا اور طالب رشید پیر کے ہوتے ہوئے اس قسم کے خوابوں کو خوا بہائے پریشان سمجھے گا بس ان کے خواب قابل اعتماد اور شیطان کے مکر سے محفوظ نہیں ۔ ( نیز ) یہ کیوں نہیں ہوسکتا کہ ان خوابوں کی دوسری تعبیر ہو اور وہ خواب دوسرے امور کی طرف کنایہ ہوں، اس صورت میں تمثل شیطان کی گنجائش ماننے کی بھی ضرورت نہیں۔ الغرض محض خوابوں پر بھروسہ نہ رکھنا چاہئے ، جو خواب و خیال میں دیکھا جائے گا وہ خواب و خیال ہی رہے گا وہاں کے احباب، مدت سے ایک روش پر زندگی گزار رہے ہیں خیر ان کو اختیار ہے مگر محد نعمان صاحب کو تعمیل حکم کے سوا چارہ نہیں، اگر میرے منع کرنے کے بعد وہ ایک لمحہ کے لئے بھی توقف کریں گے تو اللہ تعالیٰ پناہ میں رکھے ، ان کے لئے خاص طور پر ضر رکا اندیشہ ہے، فقیر جو اتنے مبالغہ کے ساتھ منع کر رہا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں اپنے طریقہ کی مخالفت ہے، طریقہ خواہ سماع و رقص کے ساتھ ہو خواہ مولود و شعر خوانی کے ساتھ ، دونوں برابر ہیں۔ ہر طریقہ میں ایک مطلب خاص تک پہونچنا ہوتا ہے۔ ہمارے اس طریقہ میں مطلب خاص تک پہونچنا ان مذکورہ امور کے چھوڑنے پر موقوف ہے جس کو ہمارے اس طریقہ کی طلب مقصود ہو اس کو چاہئے کہ اس طریقہ کی مخالفت سے اجتناب کر۔ المستفتی: ڈاکٹر عبدالکلام صاحب، نز دلال پھاٹک، چند واڑا مظفر پور (بہار) " الجواب: مذکورہ اقتباسات سے ظاہر ہے کہ وہ نام نہاد پیر میلا د شریف سے سخت نفور ہے اور میلا د شریف سے نفرت و بیزاری وہابیہ دیابنہ کی عادت ہے اور وہابیہ سخت گمراہ بد مذہب ہیں، ان کا طرہ امتیاز انبیاء و اولیاء کی تعظیم و تکریم سے روکنا ہے۔ اسی لئے وہ میلاد پاک کی محفل سے جلتے ہیں اور ان وہابیہ کے اقوال کفری ہیں جن کی بنا پر اکثر فقہاء کے نزدیک یہ کافر ہیں اور دیو بندیوں نے تو وہ کھلی کھلی کفری عبارتیں لکھیں کہ علمائے حرمین شریفین و مصر و ہند و سندھ نے انہیں ایسا کا فرو بد دین فرمایا کہ جو اُن کے کفرو عذاب میں شک کرے، اُن کے عقائد کفریہ جان کر وہ خود کافر ہے۔ چنانچہ اشر فعلی نے حفظ الایمان میں لکھا: ” ایسا علم (جیسا حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ہے ) تو ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو بھی حاصل ہے (1) (۱) ،، قاسم نانوتوی نے تحذیر الناس میں حضور علیہ السلام کے وصف ختم نبوت سے صاف انکار کیا اور حضور کو آخر الزماں جاننا جاہلوں اور عوام کا خیال بتایا (۲) براہین قاطعہ میں رشید خلیل نے شیطان کا علم حضور سے زیادہ مانا (۳) اور علمائے دیوبند کو حضور کا اُردو میں استاد ایک خواب کے ذریعہ بتا یا (۴) اور اسی براہین میں حضور کے جشن میلاد کو کنہیا کرشن کے جنم منانے سے تشبیہ دی بلکہ اس سے بھی بدتر کہا(ه) حفظ الایمان ، ص ۱۵، دارالکتاب (۲) تحذیر الناس ، ص ۴، فیصل پبلیکیشنز (۳) براہین قاطعه ، ۱۲۲، کتب خانه امدادیه (۴) براہین قاطعہ ،ص ۶۳ ، دارالکتاب (۵) براہین قاطعہ، ص ۳۱۸، دارالکتب وہ شخص وہابی غیر مقلد یا دیو بندی ہے، اس کی بیعت اور اسے جاننے کے بعد پیر مانا کفر ہو گا۔ فقط فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله