روافض زمانہ کے کفریہ عقائد اور وہابیوں سے میل جول کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: (1) اصل شیعہ اصحاب ثلث کی توہین کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جھگڑا کر کے خلافت چھین لی اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے معاذ اللہ قرآن کریم سے ۱۰ر پارے جو کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں تھے ، وہ نکال دیے اور باغ فدک جو کہ حضرت فاطمتہ الزہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حصہ میں آتا تھا، وہ نہیں دیا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی شیر خدا سے جنگ کی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو شیعہ لوگ معاذ اللہ کتا کہتے ہیں کہ ان کو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مجلس اقدس سے اٹھا دیا اور فرمایا کہ اے معاویہ تیرے بدن میں کتے کی بو آتی ہے جو کہ بعد میں میری آل کے اوپر ستم و ظلم کرے گی ، جو لوگ ایسے لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں رشتہ داری رکھتے ہیں اور ان کو مسلمان جانتے ہیں ان کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟ (۲) اور جو لوگ وہابیوں سے تعلق رکھتے ہیں، اُن کے ساتھ کھاتے پیتے، ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے ، ان کو مسلمان جانتے ہیں وہ لوگ کن لوگوں کے زمرہ میں شمار کئے جائیں گے؟ ایسے لوگوں کو اپنی جلس میں بلانا چاہئے یا نہیں؟ المستفتی : سید بشارت حسین ، موضع بستی ضلع پونچھ کشمیر (انڈیا)
(1) روافض اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فر و مرتد بے دین ہیں، جو اُن کے عقائد کفریہ پر مطلع ہوکر انہیں مسلمان جانے وہ بھی انہیں کی طرح کا فر ہے، سوال میں جو کچھ لکھا ہے وہ ان کے بہتانات و ضلالات وکفریات کا ایک نمونہ ہے، اس کے علاوہ بھی بہت سے عقائد باطلہ رکھتے ہیں اور وہابیہ حال کہ دیو بندیوں جو کھلے شاتمان خدا و رسول اور ضروریات دین کے منکر ہیں، مسلمان جانتے ہیں، بھی قطعاً کا فرمرتد ہیں ، جو دانستہ انہیں مسلمان جانے وہ بھی کافر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ور جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ صبح الجواب - غایة لتحقيق في امامتہ العلم والصدیق ، رد الرفضه، باغ فدک وغیرہ رسالے دیکھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی / دار الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف