دیوبندیوں اور تبلیغی جماعت کے عقائد، کتب اور ان کے ساتھ میل جول کے متعلق سوالات و جوابات
بعد دست بستہ قدمبوسی کے عرض ہے کہ حسب ذیل مسئلوں پر فتوی دینے کی زحمت کریں۔ مسلم کمیٹی جامع مسجد گھوسی آپ کی نظر کرم کے محتاج ہیں کیونکہ آئے دن تبلیغی جماعت کے لوگ آ آ کر اہل سنت و جماعت کی مسجد کے لوگوں کو بہکاتے ہیں اور مسجد میں ہی قیام وطعام وغیرہ کرتے ہیں، اس لئے جلد از جلد جواب دیں ۔ عین نوازش ہوگی (1) مولانا اشر فعلی تھانوی صاحب کا قرآن میں ترجمہ پڑھے اور دیگر مولانا جیسے مولانا الیاس صاحب، مولانا غلام احمد قادیانی ، مولانا نانوتوی وغیرہ کی لکھی کتابوں کو جو لوگ پڑھیں ، ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۲) جو لوگ تبلیغی جماعت کے مولانا ؤں کا وعند سنیں یا ان کی جو جماعت نکلتی ہے ان لوگوں کے پاس بیٹھ کر ان کی باتیں سنیں اور ان لوگوں کی رہبری کریں، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ (۳) جو آدمی تبلیغی جماعت کے مولانا یا امام کے پیچھے نماز پڑھے تو اس کی نماز ہوئی یا نہیں؟ (۴) جو پیش امام تبلیغی جماعت کے لوگوں کے پیچھے یا ان کے مولانا کے پیچھے نماز پڑھے تو پھر اس پیش امام کے پیچھے سنت و جماعت کے لوگوں کی نماز درست ہے یا نہیں؟ (۵) تبلیغی جماعت والوں کو مسجد میں ٹھہر نے دینے کا حکم ہے کہ نہیں؟ وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اعتکاف کر کے سوتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں اور صحابہ بھی اعتکاف کر کے مسجدوں میں سوتے تھے۔ (1) جولوگ تبلیغی جماعت والوں سے چوری چھپے ساز باز رکھتے ہوں، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟ المستفتی : پیش امام جامع مسجد ، گھوی بستی پوسٹ مانک پور ضلع چاندہ (مہاراشٹر )
الجواب: (1) بدمذہبوں، بے دینوں کی کتب کا مطالعہ عوام کو حرام اشد حرام بلکہ خواص میں بھی ان کو منع ہے جو رد بدمذہباں میں مشغول نہیں ، لہذا وہ لوگ جو بلا وجہ بے دینوں کی کتب دیکھتے ہیں سخت گناہ گار مستوجب نار ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ یہ لوگ بد مذہب ہیں اور اگر یہ لوگ عقائد کفریہ رکھتے ہیں یا دیو بندیوں وغیر ہم بدمذہبوں کو جن کی بد مذہبی حد کفر تک پہنچ گئی ہے، جان بوجھ کر مسلمان جانتے ہیں تو بلا شبہ انہیں کی طرح کا فربے دین ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس کا جواب نمبر ایک سے ظاہر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں کہ یہ لوگ عقائد کفریہ کے سبب مرتد ہیں اور مرتد کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ در مختار میں ہے: ’’وان انکر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصح الاقتداء به اصلا (۱)‘‘ اور دانستہ انہیں امام بنانا بحکم فقہاء کفر ہے: ’’لأن تبجیل الکافر کفر (۲)‘‘ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) اسے امام بنانا سخت گناہ ہے اور اس کی اقتد انا درست جبکہ دانستہ تبلیغی کے پیچھے نماز پڑھتا ہو اور اس کی بے دینی سے باخبر ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) نہیں کہ یہ اپنے کفریات کے سبب مسلمان ہی نہیں اور مسجد آباد کرنا صرف مومنوں کا حق ہے۔ قال تعالى : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللهِ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ - الآية (3) واللہ تعالیٰ اعلم (1) وہ انہیں میں سے ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۸/ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ