سنی صحیح العقیدہ کو دیو بندی کہنا کیسا ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ:(1) عمرو کے پاس کوئی ثبوت زید کے دیوبندی ہونے کا نہیں ہے اور نہ عقائد دیو بند یہ کی کوئی بات زید سے صادر ہوئی شخض اپنی ذاتی دشمنی کی بنا پر عمروزید کو دیو بندی کہہ کر کس حکم کا مرتکب ہوا؟ اور اس پر کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا(۲) زید کے یہاں محفل میلاد اور کھانے کی تقریب میں شریک ہونے والے علماء وقراء و حفاظ وطلباء و جملہ مسلمانان اہلسنت اور تقریر کرنے والے عالم کو الٹا سیدھا کہ کر گالی گلوج دے کر عمر وکس حکم کا مرتکب ہوا ؟ اور اس پر کیا حکم ہے؟(۳) عمرو کا ساتھ دینے والے، اس کی بات پر عمل کرنے والے پر کیا حکم ہے؟ نیز عمر و اور اس کے ساتھی فتوی آنے کے بعد عمل نہ کریں تو گاؤں والوں پر کیا حکم ہے؟(۴) دوران تقریر ذکر مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وقت جس شخص نے جذبے میں آکر نعرہ تکبیر اللہ اکبر، نعرہ رسالت یا رسول اللہ کا نعرہ لگایا، زید نے ان کو نعرہ لگانے کے سبب گالی دی۔ ایسی صورت میں زید پر کیا حکم ہے؟لمستفتی: اکبر خان ( سائیکل مستری) مقام مہد یا موڑ ، پوسٹ مہد یا اسٹریٹ ضلع گونڈہ (یوپی)
الجواب:(1) دیوبندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب کافر مرتد بے دین ہیں، کسی سنی صحیح العقیدہ کو دیو بندی کہنا بلا شبہہ کا فرکہنا ہے اور سخت گالی ہے جو عمرو نے زید کو دی، عمر و پر صورت مسئولہ میں تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح ( جبکہ بیوی رکھتا ہو ) بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲) سخت گنہ گار مستوجب نار حق اللہ وحق العبد میں گرفتار ہوا اور علماء کو گالی دے کر عمر و کفر کا مرتکب ہوا۔ اشتباہ میں ہے: الاستهزاء بالعلم والعلماء كفر (1) عمر و پر وہی احکام ہیں جو گزرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سخت گناہ گار ہیں، ان سب پر تو بہ لازم ہے۔ اگر تو بہ نہ کریں تو ہر واقف حال مسلم انہیں چھوڑ دے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ ۲۷؍ جمادی الاولی ۱۴۰۴ھ