کسی سنی صحیح العقیدہ امام کو بلاوجہ وہابی کہنے کا حکم
عناد و دشمنی سے کسی سنی صحیح العقیدہ امام کو وہابی کہنا کیسا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ: محض شبہ اور عناد و دشمنی سے کسی سنی صحیح العقیدہ امام کو وہابی کہنا کیسا ہے؟ اور جبکہ وہ آدمی مسجد میں خدا اور اس کے حبیب سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا واسطہ دیکر کہتا ہے کہ میں سنی اور میرا خاندان سنی
محض عناد و دشمنی کی بنا پر کسی سی صحیح العقیدہ کو وہابی سمجھنا بہت سخت ہے حدیث میں ہے کہ جو اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے ایک پر کفر عائد ہوتا ہے اگر ایسا ہے تو اس پر ، ورنہ کہنے والے پر بے وجہ شرعی محض دشمنی سے جس نے سنی کو وہابی سمجھ کر وہابی کہا اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے اگر بیوی رکھتا ہے اور بے دلیل شرعی امام کو جھوٹا سمجھنا اور اس کی بات پر اعتبار نہ کرنا اور بلا وجہ اس کی اقتدا چھوڑ نا خود گناہ جس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم