کسی صحیح العقیدہ سنی کو دشمنی کی بنا پر وہابی کہنے اور اس کی اقتدا چھوڑنے کا حکم
میرے خویش اقارب سنی ہیں بلکہ وہابیہ باطلہ سے بحث و مباحثہ ہوتا رہتا ہے،۔ اگر پھر بھی یقین نہ آئے تو میرے وطن سے حالات دریافت کر لو، پھر بھی اپنے آدمی کے پیچھے نماز چھوڑ دینا اور اپنے محلے کی مسجد کو ویران کرنا اور دوسری مساجد میں پنج گانہ اور تراویح پڑھنے کے لیے جانا درست ہے یا نہیں؟ اور وہابی کہنے والوں پر کچھ لازم آتا ہے یا نہیں؟ ۔ بینوا توجروا المستفتی: خاکسار عبدالقدوس پیش امام مسجد محلہ کھبا پور نیور یا حسین پور پیلی بھیت
الجواب: محض عناد و دشمنی کی بنا پر کسی سی صحیح العقیدہ کو وہابی سمجھنا بہت سخت ہے حدیث میں ہے کہ جو اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان میں سے ایک پر کفر عائد ہوتا ہے اگر ایسا ہے تو اس پر ، ورنہ کہنے والے پر بے وجہ شرعی محض دشمنی سے جس نے سنی کو وہابی سمجھ کر وہابی کہا اس پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے اگر بیوی رکھتا ہے اور بے دلیل شرعی امام کو جھوٹا سمجھنا اور اس کی بات پر اعتبار نہ کرنا اور بلا وجہ اس کی اقتدا چھوڑ نا خود گناہ جس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم یکم رمضان المبارک ۱۳۹۷ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام بریلی شریف