وہابی اور دیوبندی ہونے کا اقرار کرنے والے اور ان سے مرید ہونے والے کا حکم
زید جو یہ کہتا ہو کہ میں وہابی ہوں مولوی زکریا ( شیخ الحدیث دیوبند ) کا مرید ہوں اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے جبکہ زید سنی علماء کی بھی عزت کرتا ہو دینی کاموں میں اور درس دینی میں خوب خرچ کرتا ہو بہت سی مساجد بنوائیں لوگوں کو حج کرائے گیارہویں بارہویں کی فاتحہ بڑے پیمانہ پر کرائے لیکن وہابیوں کاردکرنے کو سخت برا جانتا ہو۔ (۲) زید مذکور کے انتقال کے بعد اس کی حالت کو جانتے ہوئے جولوگ اس کی نماز جنازہ و چہلم میں شریک ہوئے اس مخیال سے کہ لڑکا اس کا سنی ہے ان کے لیے کیا حکم ہے؟ المستفتی : غلام نبی ، معرفت حضرت مولانا سبطین رضا خاں صاحب، کانگیر
الجواب: ایسا شخص اقراری کا فر ہے کہ اپنے وہابی ہونے کا خود مقر ہے اور خود کو مولوی زکر یاد یو بندی کا مرید بتا تا ہے تو یہ اقرارا اپنی وہابیت و دیو بندیت کا ہوا اور وہابیہ ور یابنہ کے عقائد کفریہ ہیں اور دیابنہ کے کفریات اشد و اخبث ہیں جن کی بنا پر علمائے حرمین شریفین نے انہیں ایسا کافر کہا کہ جو دانستہ ان کے کفرو عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے (۱) تو وہابیہ جنہیں مسلمان جاننا در کنار بلکہ ان کے کافر ہونے میں شک بھی کفر قرار پائے پھر ان سے مرید ہونا انہیں مقتدا جاننا کیونکر کفر نہ ہو گا بے شک یہ بدرجہ اولیٰ کفر ہے لہذا در مختار میں فرمایا: لو سلم على الذمـى تـبـجـيـلا يكفر لان تبجيل الكافر كفر ولو قال لمجوسى (1) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة ، ص ۹۰ رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ ) یا استاذ کفر (1) اور شخص مذکور اپنے وہابی، دیو بندی ہونے کے اقرار کے ساتھ ساتھ دیابنہ کو مقتداد پیر ماننے کا بھی اقراری ہے تو ضرور شَهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ - الآية (1) میں داخل اور اس کے ہوتے وہ اعمال سنیاں اس کو کچھ مفید نہیں جس طرح کفار مکہ کو حجاج کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی تعمیر سے کچھ فائدہ نہ ہوا قال تعالى : اجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ (۳) غرض اس کلام سے وہابیت کا اقرار خوب آشکار ہے اور وہابیت نوازی بھی ظاہر ہے تو وہ اقراری کافر ہے کہ اقرار کفر کفر ہے۔ ہندیہ میں ہے: ” قد حکی عن بعض اصحابنا ان رجلا لو قيل له ألست بمسلم فقال لا يكون ذلک کفر اکذافی فتاوی قاضی خان (۴) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) تو بہ کریں اور تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی کرلیں کہ کافر کے لیے دعائے مغفرت حرام اشد حرام ہےاور علماء نے اسے کفرفرمایا ہے بحرور دالمحتار میں ہے: الدعاء بالمغفرة للكافر كفر لطلبه تكذیب الله تعالى فيما أخبر به (۵) اور درمختار میں ہے: ومافيه خلاف يومر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح-اه (1) واللہ تعالیٰ اعلم قوله(والتوبة) أى تجدید الاسلام - اه (۱) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۴ رشعبان المعظم ۱۴۰۶ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی