تلاوت قرآن کے متعلق نازیبا کلمات کہنے کا حکم اور سورہ توبہ میں بسم اللہ کا مسئلہ
کرنے کے بعد کہا کہ کہاں ہو جواب میں بکر نے عمر و سے کہا کہ تم تو گھر سے باہر ہی نہیں نکلتے اس پر عمر و نے کہا کہ میں قرآن شریف پڑھ رہا تھا بکر نے بگڑ کر کہا کہ نماز تو نہیں پڑھ رہے تھے ” قرآن شریف چھوڑ کر بھی آسکتے تھے عمرو نے جواب دیا کہ میں اگر قرآن شریف کی تلاوت میں ہوں اور بادشاہ وقت بھی آئے تب بھی قرآن شریف کی تلاوت چھوڑ کر نہیں آسکتا اور اگر تم اس وجہ سے ناراض ہو تو ہو، سلام کہہ کر عمر و آگے بڑھ گیا اور تعلق ختم کر دیا برائے کرم شرعی حکم سے مطلع فرما ئیں ۔ فقط والسلام علیکم قبول ہو۔ مستفتی: حبیب گھڑی ساز ، اٹھ یاوان ہاؤس لال منبع مضلع رائے بریلی
الجواب: (۱) خط کشیده جمله کفری بول ہے ۔ قائل پر تو بہ وتجدید ایمان فرض ہے اور بیوی رکھتا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے جب تک تو بہ صحیحہ و تجدید ایمان کر کے مسلمان نہ ہولے مسلمان کا فرما نہیں اور اسے الگ رکھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) برات کے ساتھ بسم اللہ نازل نہ ہوئی لہذا سنت متواترہ یہ ہے کہ سورہ براءت جسے سورہ تو بہ بھی کہتے ہیں کے شروع میں بسم اللہ نہ لکھتے ہیں نہ پڑھتے ہیں واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور اگر سورہ تو بہ ہی سے تلاوت شروع کریں تو بسم اللہ شریف پڑھیں واللہ تعالیٰ اعلم (۳) عمر دو سے ترک تعلق شرعاً درست نہیں ہے مسلمان سے ترک تعلق کے لئے شرعی وجہ درکار ہے ور نہ ترک تعلق جائز نہیں۔ (۴) بکر کو یہ جملہ نہ کہنا چاہئے تھا کہ قرآن چھوڑ کر بھی الخ نہ تلاوت چھوڑنے کیلئے ملاقات کرنے پر اصرار چاہیئے تھا مگر اس پر بکر سے ترک تعلق نہ چاہئے ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۸ رشوال المکرم ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ دار الافتاء منظر اسلام محله سوداگران، بریلی شریف