نعت خوانی میں موسیقی اور ڈھول جیسی آوازوں کا شرعی حکم
جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مختلف نعت خواں اپنی نعتوں کے ساتھ خصوصا عربی کلام کے ساتھ ذکر اللہ کرتے ہیں وہ اس طریقے سے کرتے ہیں کہ سننے والے کو یہ محسوس ہو کہ ڈھول بجار ہے ہیں یعنی گمان ایسا کیا جاتا ہے کہ نعت کے ساتھ (معاذ اللہ عزوجل) میوزک بج رہا ہے تو کیا یہ پڑھنا اور اس کو سننا شرعا جائز ہے یا نہیں اگر جائز ہے تو برائے مہربانی اس کی دلیل کے ساتھ وضاحت فرمادیجئے اور اگر ناجائز ہے تب بھی اس کی دلیل کے ساتھ وضاحت فرمادیجئے۔ سائل محمد انیس ، پتہ معلم مدرسه رضویہ کراچی پاکستان
باسمه تعالی الجواب بعون الملک الوہاب: قرآن شریف میں ہے: وَ اسْتَفْرِزُ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ - الى آخره . (پ ۱۵، ۶۶) یعنی اور ڈگا ( ہٹا ) دے ان میں سے جس پر قدرت پائے اپنی آواز سے۔ (کنز الایمان ) یعنی وسوسے ڈال کر اور معصیت کی طرف بلا کر ۔ بعض علماء نے فرمایا کہ مراد اس سے گانے باجے لہو و لعب کی آوازیں ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منقول ہے کہ جو آواز اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف منہ سے نکلے وہ شیطانی آواز ہے (خزائن العرفان ) اور حدیث شریف میں ہے: " الغناء يُنبت النفاق في القلب. "(سنن ابي داؤد، کتاب الادب، باب کراہتہ الغناء والرمز) یعنی موسیقی دل میں نفاق پیدا کرتی ہے ۔ امام اہلسنت اعلیحضرت مولانا شاہ احمد رضاخان فاضل بریلوی اپنی تصنیف ” الکشف شافیا حکم فونوجرافیا“ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ہر عاقل جانتا ہے کہ اس میں خصوصیت صورت آلہ کو دخل نہیں بلکہ یہ آوازیں جس آلہ سے پیدا ہوں اپنا رنگ لائیں گی تو علت حرمت قطعا حاصل ہے ۔ (فتاوی رضویہ، ج ۲۳، ص ۴۳۳، رساله الکشف شافی حکم فونو جرافيا، برکات رضا) معلوم ہونا چاہئے کہ موسیقی شریعت میں ناجائز ہے یوں ہی ہر وہ طریقہ جس سے موسیقی پیدا ہوتی ہو وہ بھی شرعا ناجائز ہے صورت مسئولہ میں نعت شریف کے Back Ground (بیک گراؤنڈ) اس طریقے پر ذکر اللہ کی تکرار کرنا جس سے سننے والے کو موسیقی معلوم ہو یا موسیقی کے ساتھ مشابہت ہو جائز نہیں نعت خواں حضرات اور سامعین کو اس سے گریز کرنا چاہئے تاکہ نعت شریف اور ذکر اللہ کا تقدس برقرار رہے۔ مفتی عبد العزیز جنفی غفرلہ دار الافتاء دار العلوم امجد یہ عالمگیر روڈ کراچی الجواب: ار جمادی الآخر ۱۴۲۳ھ ۲۰/ اگست ۲۰۰۲ء بسم الله الرحمن الرحيم میرے پاس ایک فتوی کراچی سے عزیز محترم مولانا عبد العزیز حنفی کا لکھا ہوا تصدیق کے لئے بھیجا گیا مصروفیات اور مسلسل سفر کی وجہ سے میں بروقت اس فتوے کی تصدیق کرنے سے قاصر رہ فتویٰ ایک کمیسیٹ سے متعلق ہے جس میں ذکر ہے کہ آواز اس طور پر سنائی دیتی ہے جیسے دف کے ساتھ ذکر ہورہا ہو اور سوان میں بھی مرقوم ہے اور زبانی طور پر بھی معلوم ہوا کہ ذکر کرنے والوں نے دف کا استعمال نہ کیا بلکہ اپنے منہ سے وہ ایسی آواز نکالتے ہیں جو دف کے مشابہ معلوم ہوتی ہے یہ مسئلہ چونکہ قابل غور تھا اس لئے لوگوں سے کمیسیٹ منگوا کر سنا۔ واقعہ وہ آواز مشابہ دف معلوم ہوتی ہے۔ دف آلات لہو ولعب میں سے ہے جس کا استعمال اغلب احوال میں لہو و لعب کے لئے ہوتا ہے لہذا دف کے استعمال کی شرعا اجازت نہیں۔ دف بغیر جلاجل کی اباحت بعض احادیث سے مثلا” اعلنوا هذا النكاح واجعلوه في المساجد واضربوا عليه بالدفوف وغیرہ سے معلوم ہوتی ہے لیکن اصول فقہ کا قاعدہ ہے کہ ”اذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام بنابریں ترجیح جانب حرمت کو ہے جس کی مؤید سر کار ابد قرار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم المدار کی احادیث شریفہ مثلاً امرني ربي عز و جل بمحق المعازف)، بعثني ربي عز و جل بمحق المعازف (۴) و غیر ہما ہیں قطع نظر اس سے کہ حدیث مذکورہ اعلنوا هذا النكاح ميں اجازت استعمال دف کی بغرض اعلان مفہوم ہوتی ہے یہی لیا جائے کہ بعض احوال میں ملاہی کی اجازت ہے مگر اس زمانے میں جبکہ لوگ صحیح نیت سے قاصر اور احکام شرع سے غافل لہو و لعب میں منہمک ہیں برسبیل اطلاق منع ہیں۔ کما افاده الامام ذى الهمام الشيخ احمد رضا قدس سره فى رسالة المباركة "هادي الناس في رسوم الاعراس "قال في الدر المختار بعد حكاية عن امامنا ابي حنيفة رضى الله تعالى عنه دلت المسئلة ان الملاهي كلها حرام (٥) یہ تورف و غیره آلات لہو کے بارے میں تھا جو آواز ان آلات لہو کے مشابہ کسی طرح سے پیدا کی جائے ان کا بھی وہی حکم ہے جو ان کے آلات لہو سے نکلنے والی آوازوں کا ہے۔ اس کی نظیر گراموفون وغیرہ آلات سے نکلنے والی ان آوازوں کا حکم ہے جو قطعا ان آلات لہو سے نکلنے والی آواز تو نہیں لیکن بلا شبہ یہ آوازیں ان آلات لہو کی آوازوں کی کاپیاں ہیں۔ لہذا گراموفون وغیرہ میں ان ملاہی کی آواز کو بھرنا اور انہیں سننا اسی طرح حرام ہے جس طرح ان ملا ہی کا استعمال سننے سنانے کے لئے حرام ہے ۔ سیٹی ایک مخصوص آواز نکالنے کا آلہ ہے اس جیسی آواز اگر منہ سے نکالی جائے تو یہ بالعموم طرقیہ فساق ہے، اور نا جائز ہے لہذا ان مندرجہ بالا امور سے روشن ہے کہ دف جیسی آواز نکالنا اگر چہ بغیر استعمال دف ہو، ناجائز ہے اور اگر یہ قصدا ہے تو یہ تمہی ہے جو مطلقا حرام ہے۔ اور اگر ایسی آواز منہ سے بلا قصد نکلتی ہے تو وہ صورۃ لہو کے مشابہ ہے لہذا اس سے بھی گریز چاہئے خصوصا ذکر و نعت میں اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ قصد لہو اور صورت لہو دونوں سے پر ہیز کیا جائے دف کے استعمال کی رخصت نظر بہ بعض احادیث اگر ثابت بھی ہے تو ان اشعار میں ہے جن کا تعلق ذکر و نعت سے نہیں اس لئے حدیث میں آتا ہے کہ حضور پہلا سی پیک کی اجازت ہے حضور کی خدمت میں جب ایک گانے والی نے دف بجایا اور منجملہ اشعار کے یہ مصرعہ پڑھا۔ وفينا نبي يعلم مافي غد. حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: دعى هذه وقولى بالدى ماكنت تقولين به. رہنے دو اور جو پڑھ رہی تھی وہی پڑھتی رہو کہ صورت لہو پر نعت شریف شایان شان نہ تھی اب حکم مسئلہ صاف ہو گیا اور وہ یہ کہ ایسی آواز جو دف وغیرہ کے مشابہ ہومنہ سے نکالنا جائز نہیں کہ طریقہ فساق ہے اور ذکر وغیرہ میں اشد ناجائز ہے واللہ تعالیٰ اعلم قاله بفمه وامر بر قیمه: فقیر محمد اختر رضا از هری قادری غفر له نزیل چره، فیض آباد ایسی آواز منہ سے نکالنا جن سے موسیقی کا دھوکہ ہو یا لوگ اسے موسیقی سمجھ کر موسیقی کا لطف اٹھائیں لہو ولعب میں شامل ہے اور ہر لعب حرام ہے ۔ واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفر له، شیخ الحدیث جامعہ نوریہ رضویہ باقر نج بریلی شریف نعت و منقبت اور قصیدہ خوانی میں دف بجانا سوء ادب اور مکروہ و ممنوع ہے اسی طرح ایسی آواز منہ سے بنانا اور نکالنا جس سے محسوس ہو کہ دف یا دیگر آلات موسیقی بجائے جارہے ہیں ممنوع و ناروا اور بے ادبی ہے ، لہو ولعب کی آوازیں منہ سے نکالنا عموماً فاسقوں کا طریقہ ہے جس سے اجتناب لازم ۔ آواز مزامیر بہ انداز مزامیر نا جائز ہے نعت شریف میں اور خاص اسم جلالت کے ساتھ انداز صورت مزامیر اختیار کرنے میں نوع اہانت بھی ہے اس لئے اس کا عدم جواز شدید ہے اگر چہ نیت خیر ہو۔ فالجواب صحیح وھو تعالی اعلم فقیر ضیاء المصطفیٰ قادری غفرلہ دف کی آواز منہ یاکسی اور طریقہ سے بالقصد بنانا بھی مردوں کے لئے مطلقا مکروہ ہے ، ذکر و نعت شریف میں اس کی کراہت اور اشد ہے واللہ تعالیٰ اعلم قاضی شہید عالم رضوی، جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج بریلی شریف احتراز لازمی ہے خصوصا اسم جلالت ، اسم رسالت یا کلمہ شریف کا ذکر اس طرح کرنا کہ، آلہ موسیقی بجائے جانے کا شبہ ہو سخت ممنوع و نا جائز ہے وھو تعالی اعلم۔ ازیں قبل میں نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا تھا اس وقت یہ مسئلہ مجھ پر واضح نہیں تھا اب میں اس جواب سے رجوع کرتا ہوں رب تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے صدقے میں معاف فرمائے اور فتویٰ نویسی میں خطاء لغزش سے محفوظ ؛ مامون رکھے آمین۔ الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم محمد ناظم علی بارہ بنکوی الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم غفرلہ القوی الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محمد ایوب مظہر دار العلوم وار شیہ، گومتی نگر ، لکھنو الجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم محمد کمال، دار العلوم نور الحق چره محمد پور فیض آباد محمد یونس رضا الا ویسی الرضوی غفرلہ الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم خواجہ مظفر حسین خادم التدريس والافتاء جامعۃ الرضا و مرکزی دار الافتاء الجواب صحیح و اللہ تعالی اعلم محمد مظفر حسین قادری رضوی هذا حكم العالم المطاع وما علينا الا الانتباع محمد عبدالرحیم نشتر فاروقی غفرلہ القوی مرکزی دار الافتاء بریلی شریف آج کل ایک مخصوص قسم کے ذکر کا رواج عام ہورہا ہے جس میں حلق سے ایک مخصوص آواز جو مشابہ دف ہے صاف سنی جاتی ہے بلکہ بیان کرنے والوں نے یہ بات بھی بیان کیا ہے کہ مائک کو دونوں ہونٹوں کے درمیان یا بالکل قریب کر کے اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ مزامیر کے مثل آواز پیدا ہوتی ہے۔ بار ہا کیسٹ سنے گئے اور دف جیسی آواز صاف سنائی دی بلکہ بعض مروجہ طریقوں میں یہ صاف آشکار ہے کہ محض ایک آواز مشابہ دف مسموع ہوتی ہے اور اسم جلالت ادا نہیں ہوتا اس پر یہ مستزاد ہے کہ چھن چھن یا اس کے مشابہ کچھ آوازیں صاف سنائی دیتی ہیں۔ ان امور سے صاف ظاہر کہ یہ لوگ بتکلف ایسی آوازیں جو مشابه ساز و مماثل دف ہوں نکالتے ہیں۔ کسی مباح شعر میں ان آوازوں کی اجازت نہیں ہو سکتی کہ مزامیر شرعا ممنوع ہیں اور اس طرح کی وہ آوازیں جو مشابہ مزامیر ہوں ان کا بھی وہی حکم ہے۔ میرے سابقہ فتوے میں اس امر کی قدرے تفصیل ہے جو اس سے منسلک ہے، اعلیحضرت عظیم البرکت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فتاوے سے دف بے جلاجل کی اجازت مطلقہ مفہوم نہیں ہوتی بلکہ بہت جگہ پر اسے مختلف قیود و شروط سے مقید و مشروط فرمایا۔ اسی عبارت کو لیجئے جو ایک فتوی میں نقل کی گئی مسمع بالکسر یعنی آلہ سماع مزامیر نہ ہواگر ہوں تو صرف دف بے جلاجل جو ہیئات تطرب پر نہ بجایا جائے ) یہ عبارت بحمدہ تعالیٰ ہماری مؤید ہے کہ ہم نے اپنے سابقہ فتوے میں کہا: اگر یہ قصداً ہے تو یہ تلہی ہے جو مطلقا حرام ہے اور اگر ایسی آواز منہ سے بلا قصد نکلتی ہے تو وہ صورت لہو کے مشابہ ہے لہذا اس سے بھی گریز چاہئے خصوصا ذکر و نعت میں اس بات کا لحاظ ضروری ہے کہ قصد لہو اور صورت لہو دونوں سے پر ہیز کیا جائے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ”ہیئات تطرب پر - الخ“ اور ہیات صورت کے مترادف ہے اور تطرب سے مراد تلہی ہے تو مطلب یہ ہوا کہ صورت تلہی پر نہ بجایا جائے اور اس عبارت میں بظاہر صورت تلہی کی ممانعت فرمائی اور اس سے بدرجہ اولی قصد تلہی کی ممانعت مفہوم ہوئی اور اس طرح یہ ارشاد اقدس ہمارے دعوے کا مؤید ہے پھر اس قدر عبارت جو اس فتوے میں منقول ہوئی بہت مجمل ہے ناقل عبارت کو یا کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ یہی شرط بس ہے بلکہ فتاویٰ رضویہ کے اسی حصہ میں اس فتوی کے چند صفحے بعد جہاں سے یہ مجمل عبارت اٹھائی گئی۔ اعلیحضرت ارشاد فرماتے ہیں: شادی میں دف کی اجازت ہے مگر تین شرط سے: (۱) ہیات تطرب پر نہ بجایا جائے یعنی رعایت قواعد موسیقی نہ ہو ایک یہی شرط اس مروج کے منع کو بس ہے کہ ضرور تال سم پر بجاتے ہیں۔ (۲) بجانے والے مرد نہ ہوں کہ ان کو مطلقا مکروہ ہے۔ (۳) عزت دار بیبیاں نہ ہوں۔ یہاں سے چند امور واضح ہوئے : (1) دف بے جلاجل کی اجازت مشروطہ محض شادی میں ہے حمد ونعت و منقبت میں نہیں۔ (۲) ہیات تطرب جو وہاں مجمل ارشاد ہوا اس کی تفسیر یہ فرمانی کہ رعایت قواعد موسیقی نہ ہوں۔ نیز بادی الناس فی رسوم الاعر اس میں ارشاد فرمایا: شرع مطہر نے شادی میں بغرض اعلان نکاح صرف دف کی اجازت دی ہے جب کہ مقصود شرع سے تجاوز کر کے لہو مکروہ تحصیل لذت شیطانی کی حدود تک نہ پہنچے ولہذا علماء شرط لگاتے ہیں کہ قواعد موسیقی پر نہ بجایا جائے پھر اس کا بجانا بھی مردوں کو ہر طرح مکروہ ہے نہ شرف والی بیبیوں کے مناسب بلکہ نابالغہ چھوٹی چھوٹی بچیاں یا باندیاں بجائیں اور غرض ہر طرح منکرات شرعیہ اور مظان فتنہ سے پاک ہوں اصل حکم میں تو اس قدر کی رخصت ہے مگر حال زمانہ کے مناسب یہ ہے کہ مطلق بندش کی جائے کہ جہال حال سے کسی طرح امید نہیں کہ انہیں جو حد باندھ کر اجازت دی جائے اس کے پابند ر ہیں اور حد مکروہ و ممنوع سے تجاوز نہ کریں لہذا سرے سے فتنے کا دروازہ ہی بند کیا جائے۔ یہاں بھی شادی کی تخصیص سے صاف ظاہر ہے کہ دف کی اجازت مشروطه خاص مواقع شادی اب اعلیحضرت سے ہی صاف صریح سنئے ، اسی فتاوی رضویہ کے اسی طویل فتوے میں جو موسیقی سے متعلق ہے اسی عبارت سے متصل جو یوں نقل کی : مسمع بالکسر یعنی آلہ سماع مزامیر مسمع بالفتح جائے سماع مجلس فساق نہ ہو اور اگر حمد ونعت و منقبت کے سوا عاشقانه غزل گیت ٹھمری وغیرہ ہو تو مسجد میں مناسب نہیں۔ بادی الناس فی رسوم الاعر اس کے اقتباس سے یہ صاف آشکار ہے کہ نظر بحال زمانہ دف کی مطلقا اجازت نہیں ہے یہی وہ ہے جو ہم اپنے سابقہ فتوے میں کہ چکے ہیں سبیل اطلاق منع ہے۔ نیز اسی فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: قوالی کی طرح میلاد شریف پڑھنے سے اگر یہ مراد کہ ڈھول ستار کے ساتھ جب تو حرام اور سخت حرام ہے اور اگر صرف خوش الحانی مراد ہے اور کوئی امر مورث فتنہ نہ ہو تو جائز بلکہ محمود ہے اور اگر بے مزامیر گانے کے طور پر راگنی کی رعایت سے ہو تونا پسند ہے کہ یہ امر ذکر شریف کے مناسب نہیں۔ اس ارشاد اقدس میں حمد ونعت وغیرہ میں ڈھول کی صریح ممانعت پر یہ مستنزاد فرمایا کہ حمد ونعت راگ اور راگنی کہ طور پر نہ ہو۔ بالجملہ سطور بالا سے صاف ہو گیا کہ دف کا استعمال مطلقا ممنوع ہے ، دف بے جلاجل کی رخصت ایسی شروط سے مشروط ہے جن کا تحقق اس زمانے میں نا متصور یا سخت نادر و دشوار ہے لہذا بات وہی ہے کہ سبیل اطلاق منع ہے ، رخصت بھی ذکر و نعت وغیرہ میں ہر گز نہیں۔ یہ سب امور ہمارے سابقہ فتوے میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہوئے، اب کہ یہ مسئلہ پھر سے تازہ ہوا، ذکر و نعت میں اس طریقہ نامحمودہ کا رواج زور و شور سے ہوا، اس پر مزید یہ کہ اس طریقہ نامرضیہ کی تائید میں ایک پرانا فتویٰ چند نا سمجھوں کے ہاتھ لگا جس میں اعلیحضرت عظیم البرکت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس طویل فتویٰ متعلقہ موسیقی تكملة سے چند عبارتیں جنہیں ناقل نے اپنے لئے مفید مطلب سمجھا اس فتوے میں ناقل نے ذکر کیں اور وہ عبارات جو صراحی ممانعت کا پتہ دیتی تھیں چھپا لیں، یہ امر افسوسناک ہے کہ ایک طریقہ مذمومہ کی تائید کے لئے اعلیحضرت کی عبارات کا اس طور پر سہارا لیا جائے۔ لہذا اپنے سابقہ فتوے پر یہ مضمون فقیر نے مستزاد کیا اور اپنے مضمون کو سیدی الکریم اعلیحضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عبارات سے مزین کیا تاکہ حقیقت کھلے اور لوگوں پر حق ظاہر ہو اور سابقہ فتوے کی ایک گونہ تائید و تشہید ہو۔ بالجملہ ذکر مروجہ کی ہر گز اجازت نہیں ہو سکتی اور بعض صورتوں میں ذکر ہوتا ہی نہیں اور بعض میں دف اور ساز کے مشابہ آوازوں کے ساتھ ذکر سنایا جاتا ہے جس کی ممانعت کلام اعلیحضرت سے آشکار ہے ۔ یہ ذکر ہر گز ساز سے نہیں ہوتا نہ ایسا ہے کہ بلا قصد و بے ساختہ ایسی ناروا آوازیں نکلتی ہیں بلکہ ضرور قصد کو دخل ہے خود اس فتوے میں جو حال میں بمبئی کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں پہنچا یہ مذکور ہے (اس ذکر کے پڑھنے والوں نے کافی مشق کر کے ذکر کو اس دلکش انداز سے پڑھا ہے کہ قلب حزیں مسرور ہو جاتا ہے حالانکہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ذکر دف کے ساتھ کیا جارہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دف کا مطلقا استعمال نہیں کیا گیا ) اور اس پر بنائے کار کہ دف مطلقا استعمال نہیں کیا گیا اصلاً مفید نہیں اور کافی مشق کرنا جس کا فتوے میں اعتراف کیا ہے دلیل قصد و تکلف ہے جو جا بجا قصد کی نفی بے جا ہے اور اس پر اعلیحضرت عظیم البرکت کی یہ عبارت منطبق کرنا ( اگر اتفاقا اس کا پڑھنا کسی شعبہ موسیقی کے موافق ہو جائے نہ اس پر الزام اور نہ یہ شرعا ممنوع) بے محل ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاله بفمه وامر بر قمه فقیر محمد اختر رضا قادری از هری غفرله ۲ صفر المظفر ۱۴۲۷ھ بمطابق ۳ مارچ ۲۰۰۲ جمعه مبارکه