وہابیوں اور دیوبندیوں کے ساتھ بارات میں سنی علماء کی شرکت کا حکم
جناب ڈاکٹر اقبال احمد صاحب ابن ڈاکٹر عبد المجید خاں صاحب مرحوم کی شادی میں جو کہ جامعہ عربیہ انوار القرآن بلرامپور کے صدر اعلیٰ ہیں، موصوف کی بارات میں وہابی، دیوبندی کثیر تعداد میں شریک تھے۔ جامعہ عربیہ انوار القرآن کے اساتذہ و طلبہ و نیز سربراہ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ سنی عربی یونیورسٹی مبارکپور اور حضرت محدث کبیر صاحب قبلہ، فقیہ مصر، شارح بخاری، حضرت علامہ مفتی محمد شریف الحق صاحب قبلہ امجدی بھی شریک تھے ۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی بارات میں جس میں وہابیوں ، دیو بندیوں کا اشتراک ہو، اس میں علمائے اہل سنت و اساطین ملت کی شرکت از روئے شرع کیسی ہے ؟ لا تجالسوهم ولا تشار بوھم کی روشنی میں واضح طور پر تحریر فرمائیں۔ المستفتی: سراج الدین حشمتی، سرائے پھاٹک، بلرامپور، یوپی
حکم شرع سائل کو معلوم ہے۔ ان حضرات علمائے کرام سے معلوم کریں کہ وہ یہ جانتے ہوئے کہ اس میں وہابی دیوبندی شریک ہیں، شریک ہوئے تھے یا انجانے میں ۔ بلکہ جب وہ حضرات تشریف لے گئے تھے، اسی وقت ان سے استفسار کر لینا مناسب تھا اور اب بھی موقع ہے۔ ان سے استفسار کر کے جواب حاصل کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ