میت کے چہرے کی زیارت کرانے کا شرعی حکم اور اس پر تعامل صحابہ
ملا۔ لہذا گزارش ہے کہ مدلل و مفصل مع حوالہ کتب معتبرہ اہل سنت و جماعت سے جواز و عدم جواز کا حکم فرمایا جائے۔ فقط ، والسلام المستفتی: حبیب اللہ نقشبندی، پوسٹ آفس گڑ سہ ضلع کلو، ایچ پی
الجواب: میت کے چہرے کی زیارت کرانا جائز ہے جبکہ میت غیر محرم عورت کی نہ ہو اور اسی پر تعامل ہے، بلانکیر مسلمانوں میں رائج ہے جو دیوبندی وہابی اسے ناجائز بتا تا ہے وہ قرآن و حدیث سے نص پیش کرے اور اگر ممانعت کی کوئی نص پیش نہیں کر سکتا تو بلا دلیل ممانعت کرنا ہی حرام و ناجائز اور بدعت سیئہ ہے۔ اس ( زیارت میت) پر تعامل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے سے جاری ہے چنانچہ مدارج النبوۃ شریف میں حضور علی سہیلی کو مزار پر انوار میں رکھنا اور ”امتی امتی“ لب اقدس سے بعض صحابہ کرام کا سننا منقول ہے ۔وہذا نصه : واضح آنست علی و عباس و فضل و قتم در قبر درآمدند و بود تم آخر کسیکه برآمد از قبرو از وی می آرند که گفت آخر کسیکہ روئے مبارک آنحضرت را دید در قبر من بودم نظر کردم در قبر کہ آنحضرت علیہ السلام لب ہائے مبارک خود را می جنبانید پس گوش پیش دہان وے داشتم شنیدم که می فرمود رب امتی امتی (۱) اور صحابہ کا تعامل دلیل سنت سرکار علیہ الصلاۃ والسلام ہے پھر اس کے جواز واستحباب پر یہ مسئلہ فقہیہ روشن دلیل ہے جو کتب فقہ میں مسطور ہے اور وہ یہ کہ اگر میت سے علامات خیر ظاہر ہوں تو ان کا اظہار مستحب ہے ورنہ بصورت دیگر اخفاء کا حکم ہے مگر یہ کہ میت اگر مبتدع و بد عمل ہو تو حصول عبرت کے لئے اظہار کا حکم ہے۔ اسی لئے نہلانے والے اور قبر میں رکھنے والے کا امین وثقہ ہونا شرعا مطلوب ہے۔ (1) مدارج النبوة ، ج ۲، ص ٥٦٨ ، مطبوعه فيض منشی نول کشور تكملة عالمگیریہ میں ہے: " يستحب أن يكون الغاسل ثقةً يستوفى الغسل و يكتم ما يرى من قبيح و يظهر ما يرى من جميل، فإن رأى ما يعجبه من تهلل وجهه وطيب رائحته وأشباه ذلك يستحب له أن يحدث به الناس، وإن رأى ما يكره من سواد وجهه ونتن رائحته وانقلاب صورته وتغير أعضائه وغير ذلك لم يجز له أن يحدث به أحداً، كذا في الجوهرة النيرة فان كان الميت مبتدعا مظهر لبدعته وراى الغاسل منه ما يكره فلا باس بان يحدث به الناس ليكون زجرا لهم عن البدعة كذا فى السراج الوهاج" اسی میں ہے: (1) "يستحب للغاسل أن يكون أقرب الناس الى الميت فان لم يعلم الغسل فاهل الامانة والورع كذا فى الزاهدى (r)" رد المحتار میں ہے: " والأولى كونه الرب الناس اليه فان لم يحسن الغسل فاهل الامانة و الورع و ينبغى للغاسل ولمن حضر اذا رأى ما يحب الميت ستره ان يستره ولا يحد الا به لانه غيبة وكذا اذا كان عيبا حادثا بالموت كسواد وجه ونحوه ما لم يكن مشهورا ببدعة فلا باس بذكره تحذيرا من بدعه وان رأى من امارات الخير كوضاءة الوجه والتبسم ونحوه استحب اظهاره لكثرة الترحم عليه والحث على مثل عمله الحسن" یہاں سے محل جواز و مقام استحباب و موضع کراہت کی تفصیل ظاہر اور مطلقا ممنوع بتانے والے کو خطا کار کہیں گے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (μ) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ