نسبندی کا مرتکب گنہگار ہے لیکن حج کرے تو صحیح اور نماز جنازہ پڑھی جائے گی
سوال
علمائے دین و مفتیان شرع متین ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: المستفتی: محمد ابراہیم ، زکریا میمن بھنڈار بڑا مراٹھی اسکول کے بازو میں ، مقام و پوسٹ بوشر پال گھر، ضلع دھاڑ ، مہاراشٹر نسبندی شرعا حرام بد کام بد انجام ہے اور گولی ناجائز نہیں ۔ نسبندی کی بابت ہمارا مطبوعہ فتوی ملاحظہ ہو جو ہمراہ مرسل ہے۔ نسبندی کا مرتکب گنہ گار ہے اس پر توبہ لازم ہے مگر اس کا حج صحیح ہو گا اور نماز جنازہ پڑھی جائے گی کہ نسبندی خواہ کسی گناہ کے ارتکاب سے مسلمان صحیح العقیدہ کافر نہیں ہوتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۲۵۷–۲۵۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
خسر کا اپنی بہو سے زنا کرنا اور اس سے پیدا ہونے والی حرمتِ مصاہرت کا حکم
باب: تکملہ
حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی، اذانِ خطبہ، عصا، قلم و دوات کا واقعہ اور بی بی کی کہانی سے متعلق سوالات
باب: تکملہ
ایسا لباس پہننا جس سے کافر و مسلمان میں فرق نہ رہے شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟
باب: تکملہ
میت کے چہرے کی زیارت کرانے کا شرعی حکم اور اس پر تعامل صحابہ
باب: تکملہ
تختہ پر لگی پالش میں مخلوط اسپرٹ اور ٹخنوں سے نیچے پاجامہ لٹکانے کا حکم
باب: تکملہ