تختہ پر لگی پالش میں مخلوط اسپرٹ اور ٹخنوں سے نیچے پاجامہ لٹکانے کا حکم
مکر منا المحترم قبلہ جناب از ہری صاحب ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ بعد آداب و تسلیم ذیل کے سوالات کے جواب وضاحت کے ساتھ عطافرماکر عنداللہ ماجور ہوں ۔ (1) لکڑی کے تختہ پر جو پالش کی جاتی ہے اس مصالحہ میں اسپرٹ ملائی جاتی ہے وہ تختہ پاک ہے یا ناپاک ؟ اگر ناپاک ہے تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ تحریر فرمائیں۔ (۲) پاجامہ، تہبند یا پتلون مخنے سے نیچے تک ہو تو نماز ہوگی یا نہیں ؟ اور جو نماز کے وقت او پر چڑھا لیتے ہیں یا موڑ لیتے ہیں ان کی نماز ہوگی یا نہیں ؟ مسجدوں میں جو چٹائی یا دریاں بچھائی جاتی ہیں ان کو پلٹ کر پڑھ سکتے ہیں یا نہیں ؟
المستفتی: حافظ سید محمد قادری برکاتی ، مقام و پوسٹ زائرید ضلع سورت
الجواب: (۱) ناپاک ہے مگر اسپرٹ سریع الزدال شے ہے لہذا اس تخت کے مسلسل دھلتے رہنے سے اس کی پاکی کا حکم ہو گا اور مسلسل دھلتے رہنا کوئی شرط طہارت نہیں بلکہ آب بسیار تیز رفتار سے ایک مرتبہ دھل جانا کافی اور اگر تیز بہتا پانی میسر نہ ہو تو تین مرتبہ یوں دھو دینا بس کہ ہر بار قطرہ ٹپک کر موقوف ہو جائے اور رنگ کا زائل نہ ہونا اس کی طہارت پر اثر انداز نہ ہو گا اور اس کی نظیر نجس رنگ سے رنگے کپڑے اور نجس مہندی سے رچا ہوا ہا تھ یا بدن اور یوں ہی گدا ہوا بدن کا حصہ ہے کہ یہ سب محض دھلنے سے پاک ہو جائیں گے اور ازالہ کون کچھ لازم نہیں ۔ تنویر و در مختار میں ہے: وكذا يطهر محل نجاسة أما عينها فلا تقبل الطهارة (مرئية) بعد جفاف كدم بقلعها اى بزوال عينها وأثرها ولو بمرة او بما فوق ثلت في الاصح ولا يضر بقاء أثر كلون وريح لازم فلا يكلف في ازالته الى ماء حار او صابون ونحوه بل يطهر ماصبغ او خضب بنجس بغسله ثلثا . الخ) ردالمختار میں ہے: قوله (ولو) بمرة) يعنى ان زال عين النجاسة بمرة واحدة تطهر سواء كانت تلك الغسلة الواحدة في ماء جار أو راكد كثير أو بالصب. الخ. اسی میں ہے : يستفاد مما مرحكم الوشم في نحو اليد وهو انه كالاختضاب أو الصبغ بالمتنجس لانه إذا غرزت اليد اوا لشفة مثلا بابرة ثم حشى محلها بكحل أونيلة ليخضر تنجس الكحل بالدم فاذا جمد الدم والتام الجرح بقى محله اخضر فاذا غسل طهر لانه اثر يشق زواله لانه لا يزال الابسلخ الجلد ا وجرحه فاذا كان لا يكلف بازالة الاثر الذي يزول بماء حار أوصابون فعدم التكليف هنا أولى وقد صرح به في القنية فقال ولو اتخذ فى يده وشما لا يلزم السلخ . اسی طرح نجس تیل کے اثر کا کپڑے یا کھال میں باقی رہ جا نا مانع طہارت نہیں اور اسکا ازالہ لازم نہیں۔ در المختار میں ہے: ولا يضر اثر د هن الا دهن ودك ميتة لانه عين النجاسة حتى لايد بغ بـ به جلد بل يستصبح به في غير مسجد ۔ ردالمختار میں ہے: (1) قوله (حتى لا يدبغ به جلد اى لا يحل ذلك وإن كان لو دبغ ثم غسل طهر قال في القنية الكيمخت المدبوغ بدهن الخنزير اذا غسل يطهر ولا يضر بقاء الاثر وفى الخلاصة واذا دبغ الجلد بالدهن النجس يكثر بالماء و يطهر والتشرب عفو - أهـ ۔ (۲) اور تخت کی ناپاکی کا حکم اس وقت ہے جبکہ آدمی رنگ میں اسپرٹ ملنا آنکھوں سے دیکھے یا اسے کسی عدول نے خبر دی ہو کہ اس عدول کے سامنے فلاں نے اس خاص رنگ میں اسپرٹ ملایا ہے پھر یہ تخت اس شخص کے لیے ناپاک ٹھہرے گا اور ناواقف کے لئے پاک قرار پائے گا اور اگر اس نے نہ خود اسپرٹ ملتے آنکھوں سے دیکھانہ کسی عدول نے اپنا معا ینہ بیان کیا تو اس تخت کی ناپاکی کا حکم نہ دیں گے کہ طہارت و نجاست دیانات سے ہے اور اس میں بازاری افواہ کا اعتبار نہیں اور تفصیل کے لیے ”الا حلی من السکر“ دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نماز ہو جائے گی مگر ایسا کرنا مکروہ تنزیہی ہے جبکہ بوجہ تکبر نہ ہوور نہ تحریمی ہے۔ ہندیہ میں ہے: اسبال الرجل ازاره اسفل من الكعبين ان لم يكن للخيلاء ففيه كراهة تنزيهة ۔ (۳) اور چڑھانا یا موڑ نامکروہ تحریمی ہے کہ کف ثوب ہے اور کف ثوب ممنوع ہے ۔ در مختار میں ہے: وکره کفه ای رفعه ولو لتراب كمشمركم أو ذيل قوله (اى رفعه) اى سواء كان من بين يديه أو من خلفه عند الانحطاط للسجود بحر و حرر الخير الرملى ما يفيد أن الكراهة فيه تحريمية - اه ) اور نماز اس صورت میں واجب الاعادہ ہوگی۔ در مختار میں ہے: (1) كل صلاة أديت مع كراهة التحريمة تجب اعادتها . (۳) اور چٹائی پلٹ کر نماز پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم تحسین رضا غفرلہ ۱۲۹ محرم الحرام ۱۴۰۰ھ اسپرٹ شراب کی ایک قسم ہے اور وہ نجس ہے اگر شرعی طور پر رنگوں میں اس کی آمیزش ثابت ہو جائے تو تین باراس کا دھونا کہ لکڑی کی طہارت کے لئے کافی ہے بلکہ اس پر باقاعدہ پانی کا بہا دینا بھی کافی ہے اور اگر رنگوں میں اسپرٹ کی آمیزش شرعی طور پر ثابت نہ ہو تو وہ رنگ اور اس سے رنگی ہوئی لکڑیاں پاک ہیں۔ فالجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم ضیاء المصطفیٰ قادری غفرلہ یکم رصفر المظفر ۱۴۰۰ھ (1) الدر المختار، كتاب الصلوة ، باب ما يفسد الصلوة وما يكره فيها، مطلب فى الكراهة التحريمية والتنزيهية، جلد۲، ص ٤٠٦ ، دار الكتب العلمية بيروت (2) الدر المختار ، كتاب الصلوة، جلد ۲، ص ١٤٨، ١٤٧، دار الكتب العلمية بيروت