ایسا لباس پہننا جس سے کافر و مسلمان میں فرق نہ رہے شرعاً کیا حکم رکھتا ہے؟
ایسالباس پہننا جس سے فرق کافر و مسلمان کا نہ رہے شرعاً کیا حکم رکھتا ہے
جواب: حرام ہے ، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”من تشبه بقوم فهو منهم“بلکہ اس میں بہت صورتیں کفر ہیں جیسے زنار باندھنا بلکہ شرح الدرر للعلامة النابلسی عبد الغنی بن اسماعیل رحمہا اللہ تعالیٰ میں ہے: ”لبس زى الافرنج كفر علی الصحیح (۲) صحیح مذہب یہ ہے کہ فرنگیوں کی وضع پہنا کفر ہے۔ فتاویٰ خلاصہ میں ہے: ”امراة شدت على وسطها حبلا وقالت هذا زنار تكفر (سکسی عورت نے اپنی کمر میں رسی باندھی اور کہا یہ جنیو ہے، کافرہ ہو گئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نیز اسی میں لباس کے متعلق ضابطہ تحریر ہوا جس کے الفاظ یہ ہیں: ”کلیه در لباس آن نست که دروے رعایت سہ امرے باید کر دیکے اصل او که حلال باشد، دوم رعایت ستر که متعلق بستر ست سوم لحاظ وضع که نه زی کفار باشد نه طرز فساق و این بر دو گونه است یکے آنکه شعار مذہب ایشان باشد همیچوں زنار ہنود در کلاه مخصوص نصاریٰ کہ ہیٹ نامند بس اینها کفر بود و اگر شعار مذهب نیست از خصوصیات قوم آنها نست ممنوع و ناروا باشد حدیث حسن ”من تشبه بقوم فهو منهم در صورت اولی محمول بر ظاهر خود است و در ثانیه بر زجر و تهدید الخ ( ملخصا) (۵) واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا قادری از هری غفرله (1) الاشباه والنظائر ، الفن الثانى، كتاب السير باب الردة ، ج ۱ ص ٢٩٥ ، ادارة القرآن ،کراچی (2) الحديقة الندية ، النوع الثامن من الانواع الستين ج ۲، ص ۲۳۰،مکتبه نور یه رضویه (3) خلاصة الفتاوى ، كتاب الفاظ الكفر ، الجنس السادس، ج ٤ ، ص ۳۲۷، مکتبه حبیبیه کوئٹه (4) فتاوی رضویه ، ج، نهم نصف آخر ص ۱۹۰ ، رضا اکیڈمی (5) فتاوی رضویه ، ج، نهم نصف آخر ص ۱۷۸ ، رضا اکیڈمی
ٹائی کے مسئلے پر تصدیقات علمائے کرام و مفتیان عظام (۱) احقر کو بفضلہ تعالیٰ اپنی نو عمری کے زمانہ سے حضرت اقدس کے وصال فرمانے تک حضرت مفتی اعظم کی صحبت و خدمت کے بے شمار مواقع ملتے رہے۔ فقیر اس کا عینی شاہد ہے کہ حضرت جب بھی مسلمان کو ٹائی باندھے دیکھتے تو سخت ناراضگی کا اظہار فرماتے ، کھڑے ہوتے تو ٹائی پکڑ کر ہلاتے اور فرماتے: ”یہ کیا ہے؟ یہ عیسائیوں کا مذہبی شعار ہے “ اور اسے کھلواتے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر سبطین رضا غفرلہ (۲) الجواب صحیح : ٹائی کے بارے میں حضرت مفتی اعظم علیہ الرحمۃ والرضوان کا یہ فرمان کہ ”یہ رڈ قرآن ہے، صلیب کی نقل ہے، نصاری کا مذہبی شعار ہے “ نہایت مشہور و معروف ہے، خود راقم الحروف نے متعدد بار ٹائی باندھنے والوں پر حضرت کو غصہ کرتے دیکھا ہے اور سخت تہدید فرماتے سنا ہے۔ لہذا مسلمانوں کو اس سے اجتناب لازم وضروری۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتبه، فقیر تحسین رضا غفرله (۳) صبح الجواب : فی الواقع حضرت علامہ از ہری صاحب قبلہ کا جواب ٹائی کے بارے میں صحیح و درست ہے اور یہی فتویٰ حضور سیدی الکریم مفتی اعظم ہند نور اللہ مرقدہ کا تھا اور تحقیق یہی ہے کہ ٹائی نصاری کا مذ ہی شعار ہے اور شعار مذہبی کا استعمال کفر ہے جیسے ہنود کا زنار (جنیو) اور شعار قومی جولباس ہوں اس کا استعمال اگر ان کی موافقت اور ان کی وضع کے استحسان کے لئے ہو تو اسے بھی فقہائے کرام نے مطلقا کفر فرمایا ہے۔ غمز العیون میں ہے: ”من استحسن فعلا من افعال الكفار كفر باتفاق المشائخ “ غمز عيون البصائر شرح الاشباه والنظائر، الفصل الثاني كتاب السير والردة، ج۱، ص ٢٩٥، ادارۃ القرآن، کراچی) جس نے کافروں کے کسی فعل کو اچھا سمجھا بالاتفاق مشائخ کے نزدیک وہ کافر ہو گیا۔ اور اگر ایسا نہیں تو فسق ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو نصاریٰ کے شعار مذہبی و قومی سے بچنے کی توفیق بخشے ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دارالافتاء، ۸۲/ سوداگران، بریلی شریف ۱۱ جمادی الاخری ۱۴۱۲ھ (۴) الجواب صحیح: فقیر نے بارہا حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان سے سنا کہ ”ٹائی نصاریٰ کا شعار مذہبی ہے “ نیز فرماتے تھے کہ ”یہ قرآن کا رد ہے “۔ اس فتویٰ میں مذکورہ آیت کریمہ تلاوت فرماتے۔ مولیٰ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے بیچنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔ واللہ تعالیٰ اعلم محمد حبیب رضاخاں نوری غفرلہ مرکزی دارالافتاء، ۸۲/ سوداگران، بریلی شریف ۱۴؍ جمادی الاخری ۱۴۱۲ھ (2) الجواب صحیح و صواب والمجیب نجیح و مثاب ماشاء اللہ جواب جواب ہے ۔ بارک اللہ تعالیٰ فی علمہ و عملہ وھو الھادی وھو تعالی اعلم محمد احمد جہانگیر غفرلہ العفو القدير جاء البشر لالالالالالي سابق مفتی مرکز اہل سنت منظر اسلام، بریلی شریف (1) با المان حامد او مصلیا و مسلما۔ بے شک ٹائی باندھنی سخت ناجائز ہے ، میں کافی غور کرنے اور اباحت کی گنجائش ڈھونڈ نکالنے کی ناکام کوشش کے بعد (نہ کہ محض عقیدت یا اندھی تقلید کے طور پر) اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس کو مباح کہنے کی شریعت مطہرہ میں ادنی گنجائش نہیں ہے ، نہ اس کے فسق و گناہ کبیر وعظیم ہونے میں کچھ شبہہ وخفا ہے۔ کسی طور، کسی نیت سے ارتکاب کی ہرگز اجازت نہیں ہو سکتی، بے شبہہ سخت ممنوع بدترین شنیع وقتیح، شدید و صریح حرام بدانجام ہے۔ مرتکب بحکم حدیث و فقہ بڑا فاسق، مردود الشہادۃ اور ستحق ملامت و عذاب آخرت ہے۔ نعوذ باللہ تعالی من العذاب و موجباتہ۔کیونکہ... اولاً: ٹائی کو نصاریٰ کے یہاں جو مذہبی اہمیت حاصل ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے (جس سے دنیا واقف ہے جس کا خود باندھنے اور مباح کہنے والوں کو بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ نائی عیسائیوں کے نزدیک محض فیشن یا تزین وغیرہ ہی کے لئے نہیں ہے ، بلکہ اس سے ان کی ایک مذہبی کفری غرض بھی وابستہ ہے ، وہ صرف ان کی قومی طرز و وضع ہی نہیں بلکہ مذہبی مطلوب و مرغوب چیز بھی ہے اگر چہ آج ٹائی انگریز و غیر انگریز میں مشترک ہو گئی ہے اور دنیا بھر میں رواج عام کی وجہ سے فی زمانا انگریز کی خاص شناخت اور وجہ امتیاز باقی نہیں رہ گئی ہے۔ مغرب سے مشرق تک صرف مسلمان ہی نہیں ، مجوس و یہود، سکھ اور ہنود، عرب و عجم ، جملہ قومیں، سبھی ملک اس شوق فضول میں مبتلا ہیں، انگریز کے نقال ہیں لیکن اس ظاہری اشتراک کے حدوث اور شناخت کے ارتفاع سے ٹائی کی وضعی حیثیت و اصلی نوعیت ختم نہیں ہوگئی، وہ تو بدستور قائم ہے۔ لہذا اس کی شرعا قباحت و شناعت بھی ضرور دائم ہے۔ کیا نہیں دیکھتے کہ اس موجودہ ظاہری اشتراک اور عموم رواج کے باوجود عیسائی آج بھی اس کے اہتمام والتزام میں (اپنی رغبت دینی، محبت صلیبی کے لحاظ سے) اسی طرح منفرد ہیں جس طرح رواج عام سے پہلے تھے ۔ اس سے ان کی کفری وابستگی نہ ختم ہوگئی ہے نہ کم۔ برخلاف دوسری قوموں کے نظریہ کے ، کہ ان کا مقصد صرف وہی ہے جو انہیں نقل نصاریٰ کے حرص و شوق نے سکھایا یعنی فیشن اور تزین یا قدامت پسندوں“ سے امتیاز اور تہذیب جدید “ کی بیماری۔ پس معلوم ہوا کہ اس عموم رواج اور شمول ار تکاب سے ممانعت شرعیہ کی وجہ شرعی مرتفع نہیں ہوگئی، وہ جوں کی توں قائم ہے۔ غرض یہ ظاہری اشتراک مفید جواز ہرگز نہیں ہو سکتا، اس کو دلیل اباحت بنانا یقینا غلط وخطاء عظیم ہے ورنہ پھر ایک ٹائی کیا، نہ جانے کفر و فسق کی کتنی چیزوں میں آئے دن احکام شرعیہ کا ارتفاع لازم آئے گا اور پھر آئندہ کہاں تک یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا۔ معاذ اللہ رب العلمين من كيد الشیاطین۔ ثانیا: اور کفار کی مذہبی چیزوں کا ارتکاب و اختیار تو بہت بڑی بات ہے ، ان کی دنیوی خاص طرز و وضع کا ارتکاب تک ممانعت و حرمت کے لئے کافی ہوتا ہے، کما لا يخفى على اهل العلم و بعضها مر بنقل مخدومى المجيب العلام من الفتاوى الرضوية المباركة وغيرها. فتاویٰ رضویہ شریف میں اس قسم کی طرز و وضع کو کہیں ممنوع و ناجائز و گناہ “ بتایا ہے اور کہیں ”حرام، سخت حرام، اشد حرام لکھا ہے ۔ ثالث: اور نصاریٰ تو نصاری (کہ وہ تو انجس ،کفار، اخبث اشرار ہیں، اسلام و مسلمین کے بدترین دشمن، سخت مخالف و بد خواہ ہیں ) مسلمانان فساق و فجار کی بھی وضع قطع شرعا سخت نا پسندید و ناگوار ہے ، اہل فسق و فجور کی طرز و وضع اپنانی در کنار، ان کی وضع کے کپڑے موزے وغیرہ تک سینا، بنانا منع ہے کما ھو معلوم ۔ فساق کی وضع خاص میں ان کی موافقت و مشابہت میں شریعت مقدسہ نے کیسی ناگواری ظاہر فرمائی ہے، کتنی تشدید و تغلیظ سے کام لیا ہے اور کتنے سخت اشد الفاظ و انداز میں حکم ممانعت و اجتناب دیا ہے، معمولی پڑھے لکھے مسلمانوں پر بھی پوشیدہ نہیں چہ جائیکہ علمائے کرام پر۔ حتی جعل بعض الصور من التشابه بالكفار كفراً وبالفساق حراماً وموجب لعنة و عذاب. شرع مطہر کو ہر گز گوارا نہیں ہے کہ اس کے ماننے والے پر غیر کا ذرا سا بھی رنگ چڑھے ، دوست پر دشمن کی چھاپ لگے اور اس کی امتیازی شان میں فرق آئے ، کیا نہیں سنا کہ اس نے تو مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ کہو: صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَبِدُون یعنی ہم نے تو اللہ کی رینی لی اور اللہ کی رینی سے اچھی کس کی رینی ہو سکتی ہے ، ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں، اسی کو اپنا معبود جانتے مانتے ہیں، یعنی ہر حال میں ہر کام میں ہم کو اسی کی طاعت و خوشنودی ملحوظ و مطلوب ہے۔ بالجمله صح ما بين فاحسن بيانه بزين البراهين في هذا الشنيع المسئول عنه (شذ رباط الرقبة) المجيب العلام المفتى العظيم المقام من اعلم علماء بلاد الاسلام فى العصر الفاضل الازهرى البريلوى دام فيضه من حكم المنع والحرمة وتفسيق المرتكب ووجوب التوبة والاحتراز من الارتكاب والرجوع والانكار من القول بالجواز. واقول انى رأيت وجه هذا الحكم من التحريم والتفسيق لزوم الموافقة بوضع النصارى ثم بوضع الفساق. لا التزام التشبة بوضعهم الكفرى ولا قصد المشابهة ولا الرضا بعقيدتهم الكفرية الخبيثة لعدم تحققه من عامة المرتكبين المسلمين ومعلوم ان نسبة ذنب فضلا عن مثل هذا الشنيع الكفرى الى مسلم لم تجز اصلا حتى تحقق و ثبت شرعا والا ليجبن ان يحكم فوق هذا الحكم كما هو الاصل. وفى مثل هذا اللزوم لم يثبت الا حكم المنع والحرمة والفسق لا الكفر والتكفير كما افادوا في الفتاوى الرضوية وغيرها . ثم اقول وهذا القدر (من حكم الحرمة ووجوب الحذر) هو ما استفيد من معاملة سيدنا المرشد الكامل العالم الربانى المفتى الاعظم في الهند عليه الرحمة مع هؤلاء المرتكبين المسلمين. كما وقف المشاهدون الذين منهم بحمده تعالى كثيرون بيننا موجودون. ولم تستفد اصلا زيادة على هذا القدر من قوله ولا عمله ولا قلمه. ولقد رأيناه غير مرة يغضب غضبا شديداً و يتشدد و يتغلظ على المرتكبين ثم اكتفى على ذلك هذا الرباط الشنيع فقط ومعلوم للمشاهدين انه رحمه الله تعالى لم يأمرهم قط بتجديد الايمان والنكاح واعادة حجة الاسلام .وجوبا وكيف يامرهم به (وهو فقيه عظيم واقف باهل الزمان) وفى هذا الوضع شيء من الالتباس بغير الكفر واشتباه في تعيين حيثيته شرعاً. وبناء على المستفاد المذكور اتجرأ على ان اقول بان لا يسوغ لنا اليوم ( بعد المفتى الاعظم عليه الرحمة ان نجرئ على زيادة على الحرمة والفسق ونجعل هذا الحرام كفراً صريحا ومرتكبه كافرا لما فيه من حرج شديد مديد لا يخفى على مشاهد العصر بعيد النظر. هذا عندى والعلم عند الله. اور معلوم ہو کہ جب ٹائی کا باندھنا حرام ہے تو اس کا خرید نا، بیچنا، بنانا، بنوانا بھی حرام ہے ، اس سے بھی اجتناب لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم محمد صالح القادری البریلوی غفرلہ من خدام التدريس والافتاء بالجامعة الرضویہ منظر اسلام“ في البریلی الشریفہ / ۲۷/ جمادی الاخریٰ ۱۴۱۲ھ (۷) صبح الجواب۔ غوث العالم سید نا سر کار حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کو بارہا دیکھا کہ آپ جب کبھی ٹائی باندھنے والوں کو دیکھتے، حد درجہ ناراض ہوتے اور فرماتے کہ ” یہ عیسائیوں کا شعار ہے اور یہ قرآن کارد ہے، اس لئے اس سے ہر مسلم کو اجتناب لازمی ہے اور پھر اپنے سامنے ہی اس کو اتر وادیتے اور ان سے تو بہ لے لیتے۔ اس لئے جانشین حضور مفتی اعظم کا فتویٰ حق اور موافق شرع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم کتبہ خواجہ مظفر حسین غفر له (۸) حضور فقیہ اعظم رہنمائے شریعت و طریقت جانشین مفتی اعظم ہند حضرت علامہ شاہ الحاج ازہری میاں صاحب قبلہ نے ٹائی کی اصل پر بہترین تحقیق فرما کر اس پر جو محققانہ حکم شرعی صادر فرمایا، اس میں کسے کلام ہو سکتا ہے؟ مجھے حضرت کے اس حکم شرعی سے اتفاق ہے ۔ نہایت ہی واضح اور مکمل ثبوت کے ساتھ آپ نے اس حق کو ظاہر فرماکر مسلمانوں پر احسان فرمایا ہے۔ فقط سید محمد عارف رضوی شیخ الحدیث دارالعلوم منظر اسلام، بریلی شریف (۹) حضرت علامہ مفتی آفاق مولانا اختر رضا خاں صاحب قبلہ کا ٹائی کے بارے میں جواب دلائل کی روشنی میں صحیح و درست ہے اور اس کے حرام ہونے میں تو کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔ مولیٰ تعالیٰ مسلمانوں کو کفار و نصاریٰ کی وضع سے محفوظ رکھے۔ آمین بجاہ سید المرسلین علیہ التحیۃ والثناء واللہ تعالیٰ اعلم بہاء المصطفیٰ قادری خادم الطلبہ دارالعلوم منظر اسلام، بریلی شریف (۱۰) صبح الجواب۔ فی الواقع فقیہ اسلام تاج الشریعہ جانشین حضور مفتی اعظم حضرت علامہ الحاج الشاہ محمد اختر رضاخاں صاحب قبلہ از ہری دامت بر کاتہم العالیہ والقد سیہ و متع اللہ المسلمین بطول بقائہ کا جواب ٹائی کے بارے میں حق و صواب ہے اور یہی فتویٰ سیدی الکریم سندی و ذخری امام الفقہا قطب عالم حضور مفتی اعظم قدس سرہ العزیز کا بھی مسموع ہے اس لئے ہر مسلم کو ٹائی کے استعمال سے اجتناب لازم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الجواب صحیح و الحجب نبی ۔ واللہ تعالی اعلم فقیر نوری سید شاہد علی رضوی غفرلہ خادم نوری دار الافتاء الجامعتہ الاسلامیہ گنج قدیم رامپور محمد شوکت حسن خاں قادری رضوی نوری گلبرگہ سوسائٹی، کراچی (۱۲) فقیر نے مسئلہ ٹائی کی یہ تحقیق انیق اس سے پہلے کہیں نہ پائی، حضرت مجیب زید مجدہ نے اس بارے میں جو دریافت فرمائی ہے یقینا یہ ان ہی کا حصہ ہے، کس قدر تعجب ہے کہ وہ ٹائی جو انگریزوں میں حضرت سیدنا عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو سولی دیے جانے کی یاد گار ہو، جسے وہ دنیا میں باعث برکت اور آخرت میں ذریعہ نجات جانیں کہ مردہ تک کے گلے میں باندھیں، مسلمان بھی اپنے گلے میں اس کا پھندا ڈال کر خد اور سول جل جلالہ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ناراضگی مول لیں۔ فقہاء نے فساق کی وضع کے کپڑے، موزے سینے سے ممانعت فرمائی حيث قالوا الاسكاف او الخياط اذا استوجر على خياطة شيء من زى الفساق ويعطى له في ذلك كثير اجرلا يستحب له ان يعجل لانه اعانة على المعصية. مسلمانوں کو بدمذہبوں کی وضع ولباس سے احتراز اور اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی غلامی کا پٹہ ڈالنا ہی باعث فخر و نجات اخروی ہے۔ حضرت ممدوح کا جواب حق ہے۔ فالجواب صحیح و صواب والمجیب صحیح و مثاب۔ واللہ تعالی اعلم کتبه محمد مطیع الرحمن رضوی غفرلہ جامعہ نوریہ رضویہ بریلی شریف (۳) الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم محمد محمود احمد قادری غفرله جبلپوری (۱۴) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۵) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم محمد شریف الحق امجدی جیش محمد صدیقی بر کاتی جامعہ حنفیہ غوثیہ جنگپور نیپال غلام محمد خاں غفرلہ الجامعة الرضویہ دارالعلوم امجدیہ ، گانجہ کھیت ، ناگپور (11) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۱۷) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم مہتمم جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء، نئی دہلی (۱۸) الجواب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم شاہ تراب الحق قادری دار العلوم امجد یہ کراچی ارشد القادری عفی عنہ (۱۹) حضرت والا مرتبت جانشین حضور مفتی اعظم ہند علامہ مولانا اختر رضا صاحب قبلہ کا تحقیقی جواب ٹائی کے عدم جواز کے بارے میں نظر سے گزرا جو بلاشبہ حق وصواب اور دلائل شرعیہ سے مبرہن ہے۔ واللہ تعالی اعلم بالصواب محمد مجیب اشرف غفرلہ دار الافتاء دارالعلوم امجد یہ ناگپور (۲۰) الجواب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۱) هذا هو الحق والحق بالاتباع احق ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۲) لقد صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۳) صح الجواب بعون الملک الوھاب (۲۴) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم (۲۵) الجواب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۶) قد صح الجواب ۔ واللہ اعلم بالصواب قمر الزماں الاعظمی سکریٹری جنرل ورلڈ اسلامک مشن لندن صغیر احمد رضوی جو کھن پوری ناظم اعلى الجامعۃ القادریہ، رچھا اسٹیشن ضلع بریلی شریف محمد عزیز احسن رضوی دارالعلوم غوث اعظم پور بندر (گجرات) محمد حسین الصدیقی الرضوی ابوالحقانی دارالعلوم رضائے مصطفیٰ، لوکہا مدھوبنی غلام یحی انجم ، ہمدردیو نیورسٹی، نئی دہلی محمد منصور علی خاں قادری رضوی محبوبی خطیب سنی بڑی مسجد ، مدینپورہ، بمبئی احمد حسین البرکاتی خادم الجامعة الحنفیه الفلوشیه ، جنگپور ، نیپال (۲۷) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲۸) الجواب صحیح والعجیب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم (۲۹) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳۰) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم توکل حسین حبیبی سنی دارالعلوم محمدیہ ، بمبئی محمود اختر القادری عفی عنہ خادم الافتاء سنی دارالعلوم محمدیہ، بمبئی محمد نقی امام خاں رضوی دار العلوم غوث اعظم ، حیدرآباد الفقیر سید ظہیر احمد زیدی غفرلہ (۳۱) الجواب حق و صحیح ۔ حضور سید الکریم حضرت مفتی الآفاق علامہ ازہری میاں صاحب قبلہ عمت فیوضہم کا نائی کے بارے میں جواب نہایت حق و صحیح ہے۔ مجھے فقیر کو حضرت کے جواب کے حرف حرف سے اتفاق ہے۔ (۳۲) قدصح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر قادری محمد فاروق غفرلہ خادم الافتاء منظر اسلام، بریلی شریف محمد انور علی رضوی مدرس جامعہ رضویہ منظر اسلام، بریلی شریف (۳۳) الجواب صحیح والجیب مبیع۔ واللہ تعالی اعلم (۳۴) الجواب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم محمد اعجاز انجم لطیفی مدرس جامعہ منظر اسلام، بریلی شریف محمد شمشاد حسین رضوی صدر المدرسین مدرسہ شمس العلوم، بدایوں شریف (۳۵) هذا حكم العالم المطاع وما علینا الا الاتباع محمد عزیز الرحمن منافی جامعہ قادریہ رچھا بریلی (۳۶) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳۷) الجواب صحیح والجيب نجیح (۳۸) الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳۹) الجواب صحیح۔ واللہ تعالی اعلم محمد علی قاضی صدر تنظیم علمائے اہل سنت، سید فتح شاہ مسجد ، ہلی، کرناٹک ولی محمد رضوی عفی عنہ ، باسنی ضلع ناگور محمد انیس القادری دار العلوم ضیاء الاسلام، ہوڑہ نسیم احمد اشرفی ، حیدرآباد (۴۰) نحمده و نصلي ونسلم على رسوله الكريم عليه التحية والتسليم. فقیر حقیر غفرلہ آج آستانہ عالیہ رضویہ حاضر ہوا تو حضور جانشین سر کار مفتی اعظم رضوان اللہ علیہ سرکار مفتی اعظم اہل سنت حضرت علامہ ازہری میاں صاحب دامت بر کاتہم العالیہ والفقد سیہ کی قدم بوسی بھی نصیب ہوئی، سرکار مدظلہ العالیہ نے فتویٰ ٹائی کے متعلق عطا فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت نے GROLIERENCYLPEDIA کی اصل فوٹواسٹیٹ کاپی دے کر اہل اسلام پر حجت قائم کر دی ہے اور پھر شرعی حیثیت سے جو حکم فرمایا ہے وہ آپ کا ہی حصہ ہے۔ مولیٰ کریم اہل اسلام کو اپنا ظاہر اور باطن اپنی سر کاروں کی طرح بنانے کی توفیق و ہمت عطا فرمادے۔ آمین بجاہ نبیہ الکریم ملال ہی کی ہے۔ فقیر قادری رضوی محمد غفران علی صدیقی غفرلہ خادم دارالعلوم نیو یارک جامعہ رضویہ، امریکہ (۳۱) الجواب صحیح والمجیب نجی ۔ واللہ تعالی اعلم محمد یامین رضوی مرادآبادی جامعہ حمیدیہ رضویہ، بنارس ”ٹائی کا مسئلہ “ کے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت کے بعد کا مضمون: حضور مفتی اعظم ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ افادہ فرمایا ہے کہ کفار کا شعار مذہبی ہمیشہ کفر ہی رہے گا۔ ملاحظہ ہو فتویٰ مصدقہ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ ، مندرج در کتاب ”ٹائی کا مسئلہ “۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ شعار کفر معاذ اللہ کتنا ہی عام ہو جائے وہ شعار ہی رہے گا اور اس کا حکم کبھی نہ بدلے گا۔ بعض اذہان میں یہ خلجان ہے کہ شعار کفر اگر عام ہو جائے تو وہ شعار نہ رہے گا جیسے شعار قومی مسلمانوں میں عام ہونے کی صورت میں کسی مخصوص قوم کا شعار نہیں رہے گا۔ حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ کا فرمان واجب الاذعان بدیہی ہے اور چنداں استدلال کا محتاج نہیں اور اس کے مقابل بعض اذہان کا خلجان بین البطلان ہے۔ (1) ظاہر ہے کہ کفار کا شعار مذہبی وہ علامت خاصہ مشتہرہ ہے جس کو ہر خاص و عام ان کے مذہب کا خاص نشان سمجھتا ہے جس کو اپنانا خواہی نخواہی اس بات پر دلیل ہوتا ہے کہ اپنے والے نے کفار کا مذہب اختیار کر لیا۔ اسی لحاظ سے اس کے مرتکب پر حکم کفر لگتا ہے اگر چہ اس کے علاوہ کوئی بات منافی اسلام اس سے سرزد نہ ہو، لا محالہ کفار کا شعار مذہبی کفر ہے اور کفر بہر حال کفر ہی رہے گا خواہ وہ کسی زمان میں،کسی حال میں، کہیں بھی پایا جائے وہ اصلاً قابل تغیر نہیں ہے اگر چہ معاذ اللہ وہ کفری نشان مسلمانوں میں شائع ہو جائے کہ وہ ابتداء کفر کی خاص علامت کفار کی پہچان ہی کی حیثیت سے ظاہر ہوا اور اسی وجہ سے وہ کفر مظہر کہ کفار نے اس کو اپنے مذہب نا مہذب کی پہچان کے لئے وضع کیا تو مسلمانوں میں اس کے تحقیق سے اس کی اصل وضع نہ بدل جائے گی اور جب اصل وضع نہ بدلے گی تو قطعاوہ کفار کا شعار کفری ہی رہے گا اگر چہ معاذ اللہ مسلمانوں میں عام ہو جائے۔ تو ثابت ہوا کہ شعار کفر بہر حال کفر ہے وہ کبھی اپنی حیثیت سے منفک نہ ہو گا۔ (۲) اور جب کوئی چیز خاص کفر کی پہچان کے لئے وضع کی جائے تو وہ جہاں متفق ہوگی تکذیب اسلام پر ضرور دلالت کرے گی ۔ لہذا کفار کا ہر شعار مذہبی جہاں ان کے مذہب کی خاص پہچان ہے وہیں اسلام کار داور دین کی تکذیب ہے۔ لہذا ہر شعار کفری کا یہی حال ہے کہ جب جب وہ پایا جائے گا ضرور علامت کفر ہونے کے ساتھ ساتھ مکذب اسلام ٹھہرے گا۔ یہ کچھ سجود صنم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کفار کے ہر شعار مذہبی کا یہی حال ہے تو شعار مذہبی میں تکذیب کی قید لگانا یا تو تحصیل حاصل ہے یا شعار مذہی میں تقسیم کا دعویٰ کرنا ہے۔ اس طور پر قائل کے نزدیک شعار مذہی ایک وہ ہو گا جو تکذیب پر دلالت کرتا ہو، دوسرا وہ جو تکذیب پر دلالت نہ کرتا ہے۔ اس تقسیم کا اثبات بدلائل شرعیہ بذمہ مدعی ہے۔ (۳) اس جگہ حدیث ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے استناد جس میں وارد ہوا کان ابن عباس يصلى في البيعة الا بيعة فيها تماثيل “ اصلاً مفید نہیں اور اس سے مفہوم شعار میں وہ قید ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس جگہ شعار مذہبی کا تحقیق ہی محل منع میں ہے کہ کنیسہ میں باختیار و رغبت جانامنع ہے اور وہی کفار کا طریقہ ہے اور ان کا شعار ہے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا کنیسہ میں جانا باختیار نہ تھا بلکہ بحالت اضطرار واقع ہوا۔ عینی میں اس حدیث کے تحت ہے: " وزاد فيه (فان كان فيها تماثيل خرج فصلى في المطر ) " (1) اور حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بارش کی وجہ سے بحالت مجبوری کنیسہ میں نماز پڑھی اور اگر کنیسہ میں تصاویر پائیں تو کنیسہ سے باہر تشریف لائے اور بارش میں نماز ادا فرمائی۔ اسی لئے حضرت امام عینی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فعل ابن عباس و قول عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں رفع معارضہ کے لئے فرمایا: " وتقرير الجواب ان ما كان فى ذك الباب بغير الاختيار وما في هذا الباب كقول عمر رضى الله تعالى عنه انا لا ندخل كنائسكم يعنى بالاختيار والاستحسان دون ضرورة تدعو الى ذلك"(٢) اور بحالت اضطرار ناپسندیدگی کے ساتھ کنیسہ میں جانا مومن ہی کی شان ہے اور برضا و رغبت کنیسہ میں جانا کافر کا کام ہے اور یہ کفری شعار ہے اور اس میں کفار کی موافقت با جماع مسلمین کفر ہے۔ اعلام بقواطع الاسلام میں ہے: "كذا (اى يكفر) من فعل فعلا اجمع المسلمون على انه لا يصدر الا من كافر وان كان مصرحا بالاسلام كالمشى الى الكنائس مع اهلها بزيهم من الزنانير وغيرها"(۳) (1) عمدة القاری، کتاب الصلوۃ، باب الصلوة فى البيعة ، ج ٤ ، ص ٢٨٤ ، دار الكتب العلمية، بيروت (2) عمدة القارى، كتاب الصلوة، باب الصلوة فى البيعة ، ج ٤ ، ص ٢٨٤ ، دار الكتب العلمية، بيروت (3) اعلام بقواطع الاسلام مع سبل النجاة، فصل في آخر الخطاء، ص ۳۷۸، مكتبة الحقيقية، استنبول یہاں سے ظاہر ہوا کہ مشی الی الكنائس اسی وقت کفار کا شعار ہوگی جبکہ صاف انداز موافقت مع الکفار آشکار ہو اور یہ کہ مدار کفار کے افعال کفری میں موافقت پر ہے اور یہ باجماع مسلمین کفر ہے اور کفار کے ساتھ ان کے افعال کفری میں موافقت معاذ اللہ کتنی ہی عام ہو جائے باجماع مسلمین کفر ہی رہے گی اور یہ ہرگز نہ ٹھہرایا جائے گا کہ ان کا فلاں فعل کفری عام ہونے کی وجہ سے ان کا شعار نہ رہاور نہ نقض اجماع مسلمین لازم آئے گا جو باطل و حرام ہے۔ اقول : زواجر کی عبارت مذکورہ میں ”کل من“ ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ”کل “استغراق کے لئے آتا ہے اور ”من“ بھی عموم کے لئے ، لہذا ”من“ پر ”کل“ کے دخول نے تاکید کا افادہ کیا توگویا کہ اس عموم موکد سے اس بات پر نص ہو گئی کہ شعار مذہبی اگر چہ کتنا ہی عام ہو جائے وہ کفر ہی رہے گا۔ (۴) اور اصل بات یہ ہے کہ کسی مذہب کا شعار وہ ہے جسے اس مذہب والوں نے اپنے مذہب کی خاص پہچان کے لئے وضع کی ہو، تو جب جب وہ شعار پایا جائے گا، لامحالہ اس مذہب پر دلالت کرے گا اور وہ شعار کسی اور قوم میں پایا جائے تو اس سے اس کی وضع زائل نہ ہوگی اور جب اس کی وضع زائل نہ ہوگی تو شعاریت برقرار رہے گی۔ (۵) علماء تصریح فرماتے ہیں کہ کفار کے میلوں میں جانا کفر ہے۔ نیز کفار کے تہوار کے دن کوئی چیز خرید ناجبکہ ظاہراً ان کے ساتھ موافقت کے طور پر ہو، کفر ہے۔ نیز کفار کو اس دن تحفہ دینا بحکم فقہاء کفر ہے۔ اب دیکھا جاتا ہے کہ بہت سے ناعاقبت اندیش مسلمان کفار کو خوش کرنے کے لئے ہولی، دیوالی وغیرہ ان کے تہوار میں خوشیاں منانے سے پر ہیز نہیں کرتے تو کیا یہ مانا جائے گا کہ بہت سارے مسلمان بھی ایسا کرنے لگے تو اب یہ کفار کا شعار نہ رہا؟ مسلمانوں کو روکا نہ جائے گا؟ اس طور پر کیا یہ لازم نہیں آتا کہ کفار کے وہ خاص تہوار مسلمانوں کے تہوار بھی ٹھہرائیں کہ شعاریت بوجہ عموم زائل ہوگئی ؟ ہر گز نہیں ابلکہ مسلمانوں کو شر عاضر ور روکا جائے گا اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کوئی شعار اصل وضع سے کبھی منفک نہ ہو گا اور شعار کفری ہمیشہ کفر ہی رہے گا کہ وہ اپنی وضع کو ملزوم ہے اور وہ کفر کے لئے ہے۔ (1) البته شعار کفری اختیار کرنے کی صورت میں مسلم کی تلفی قطعی اس وقت ہوگی جبکہ یہ ثابت ہو کہ اس نے اپنے قصد و اختیار سے اس کو شعار کفری جانتے ہوئے کافروں سے موافقت کے لئے اپنایا۔ اس صورت میں تشبہ التزامی ہو گا ور نہ مسلمان کو کافر نہ کہیں گے لیکن توبہ کا حکم دیں گے اور احتیاطا تجدید ایمان کا بھی حکم ہو گا کہ کفار سے اس فعل کفری میں تشبہ قصد آنہ سہی صورةً ولز وناضرور ہوا اور اظہر یہ ہے کہ تجدید ایمان کا حکم ایسی صورت میں دیا جائے گا جبکہ اس فعل کفری میں تشبہ ظاہر تر ہو۔ بہر حال کسی فعل یا قول کا کفر ہونا اور ہے اور قائل و فاعل کو کافر قرار دینا اور ۔ اس کی نظیر مسلمانوں سے بلاوجہ قتال کرنا ہے جسے حدیث میں کفر فرمایا گیا کہ ارشاد ہوا: "سباب المسلم فسوق وقتاله كفر " (1) لیکن اسکے باوجود بلا وجہ قتال کرنے والے کو بلکہ مسلمان کو ناحق قتل کرنے والے کو بھی کافر نہ کہا جائے گا، حالانکہ بحکم حدیث یہ فعل کفر ہے۔ ولۀ نظائر في الفقه لا تخفى على متمحص. سر دست ہم یہاں شامی اور بحر الرائق سے یہ ایک جزئیہ نقل کرتے ہیں: " وقد افتيت بتعزير مسلم لازم الكنيسة مع اليهود" (٢) دیکھیے کنیسہ میں بلاضرورت جانے کو کفار کا فعل بتایا گیالیکن اس کے باوجود صرف تعزیر پر اکتفاء کیا اور اس پر مسلم کا اطلاق فرمایا کہ موافقت قلبی کا تیقین نہ ہو تو اسے کافر نہ کہا۔ (۷) ٹائی کی حیثیت ضرور مذہبی ہے ، جسے ہر خاص و عام جانتا ہے اور ہم نے اس پر اپنے فتوے میں شواہد جمع کیے نیز حال ہی میں دریافت سے مزید معلوم ہوا کہ چرچ میں حاضری کا قاعدہ یہ ہے کہ گلے میں ٹائی ضرور ہو اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پادری ابتدائی مرحلے میں ، نکٹائی باندھتا ہے ، پھر بوٹائی پہنتا ہے اور جب مکمل پادری ہو جاتا ہے تو کر اس ڈالتا ہے۔ یہ دریافت ڈربن میں بائبل سوسائٹی سے ہوئی۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ ٹائی کی حیثیت مذہبی ہے اور یہ کہ ٹائی کی دونوں قسمیں کر اس کے قائم مقام ہیں۔ اسی لئے ابتدائی اور درمیانی مراحل میں پادری اسے باندھتے ہیں۔ لہذا اٹائی باندھناضر ور فعل کفر ہے مگر عوام اسے ایک وضع جانتے ہیں۔ لہذا عوام کی تکفیر نہ کی جائے گی مگر اس صورت میں جبکہ ثابت ہو کہ دانستہ موافقت اور استحسان کے طور پر ٹائی باندھنے کا ارتکاب کیا اور یہ معاملہ قلب سے تعلق رکھتا ہے جس پر حکم لگا ناروا نہیں۔ البتہ اس کے حرام ہونے میں کسی عاقل منصف کو شبہ نہیں ہو سکتا۔ (۸) یہاں یہ سوال کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے جو سولی تیار کی گئی تھی اس میں پھندا تھا کہ نہیں ؟ محض بے سود ہے کہ شعار ہونے کے لئے واضع کا وضع کرنا اور مشتہر ہوجانا کافی ہے۔کر اس کی کوئی ایک شکل نہیں ، دسیوں ہیں جن میں بعض وہ ہیں جو دیکھنے سے سولی کا نشان نہیں معلوم ہوتی لیکن عیسائی ان سب کو سولی کا نشان قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو ” اشکال کراس ماخوذ از انسائیکلو پیڈیا مندرجه در کتاب ”ٹائی کا مسئلہ“۔ فقہاء تصریح فرماتے ہیں کہ کسی چیز کو زنار کہا اور اس کو جسم پر باندھ لیا کافر ہو جائے گا۔ امرأة شدت على وسطها حبلا وقالت هذا زنار تكفر . (1) اور ٹائی تو صورۃ کر اس کی ہمشکل ہے اور اتنا ہی اس کی حرمت کے لئے کافی ہے بلکہ ایسی صورت میں بھی بعض علماء نے حکم کفر فرما دیا۔ علماء فرماتے ہیں: مجوسی کی ٹوپی کے مشابہ رومال باندھنا حرام ہے اور بعض نے کفر بتایا۔ اسی جزئیہ کی روشنی میں اگر ٹائی کو کر اس نہ مانیں بلکہ ہمشکل کر اس قرار دیں تو بر قول اکثر تکفیر سے عوام کو بچایا جاسکتا ہے۔ فليكن هو اعنى عدم التكفير في الوجهين المعتمد كيف و قد صرحوا بانه لا يفتى بكفر مسلم امكن حمل كلامه على محمل حسن او كان في كفره خلاف ولو رواية ضعيفة . انتهى، کذا فی در المختار . ثم اقول: وأنت خبير بأن هناك بونا بينا بين الشبهين فان المنديل شبه قلنسوة المجوس ليس شعارا بنفسه بخلاف الرباط المعروف بكرفةً (ثائى) فانه ليس بمعزل عن كونه شعارا كما لا يخفى. (۲) (1) الفتاوى الهندية كتاب السير، الباب التاسع فى احكام المرتدين ، ج ۲، ص ۲۸۸، دار الفکر، بیروت (2) الدر المختار، كتاب الجهاد، باب المرتد، ج ٦ ، ص ٣٦٧ ، دار الكتب العلمية، بيروت بہر حال ٹائی کا استعمال حرام اشد حرام بد کام بد انجام ہے۔ اگر چہ احتیاطا محض باندھنے پر محققین کے نزدیک تکفیر نہیں کی جائے گی۔ بفرض غلط ٹائی کو شعار نہ مانیں تو بھی حکم حرمت قائم کہ شرعاً امتیاز مسلمین مطلوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے ذمی کفار پر لازم کیا کہ وہ اپنے لباس و سواری اور مکانات کا خاص نشان مقرر کریں، مسلمانوں سے الگ پہچانے جائیں اور انہیں مسلمانوں کی وضع اپنانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا۔ ہندیہ میں ہے: " و ينبغى ان لا يترك احد من اهل الذمة يتشبه بالمسلم لا في ملبوسه ولا مرکو به ولا زيه وهيئته ويمنعون عن ركوب الفرس الا اذا وقعت الحاجة الى ذلك كذا في المحيط "(1) بلکہ فقہائے کرام نے یہاں تک فرمایا کہ کفار کی عورتیں مسلمانوں کی عورتوں سے لباس و وضع و قطع وغیرہ میں الگ رہیں۔ اسی میں ہے: ” يجب ان تتميز نسأوهم من نساء المسلمين حال المشي في الطرق والحمامات الى و يكون على دورهم علامات تتميز بها عن دور المسلمين لئلا يقف عليها السائل فيدعو لهم بالمغفرة فالحاصل انه يجب تميزهم بما يشعر بذلهم وصغارهم وقهرهم بما يتعارفه اهل كل بلدة وزمان كذا فى الاختيار شرح المختار (۲) متقطاً واللہ تعالیٰ اعلم قال بفمه وامر بر قمه الفقیر الی رحمة ربه الغنی محمد اختر رضا القادری الازہری غفرلہ ۲۲ / ذی قعده ۱۴۱۴ھ (1) الفتاوى الهندية، كتاب السير الباب الثامن فى الجزية ، ج ۲، ص ٢٦٤ ، دار الفكر، بيروت (2) الفتاوى الهندية، كتاب السير ، الباب الثامن في الجزية ، ج ۲، ص ٢٦٤ ، دار الفكر، بيروت مائی کا مسئلہ “ (بعد کے مضمون) پر تصدیقات علمائے کرام و مفتیان عظام (۴۲) مبسملا و حامد او مصلیا و مسلما۔ عزیز گرامی قدر مفتی اختر رضا خاں صاحب قادری برکاتی رضوی زید مجد ہم قائم مقام حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان نے آج دن گزر کر شب میں اپنا ترتیب دیا ہوا، ۲/ جز کا مطبوعہ رسالہ بنام ”ٹائی کا مسئلہ “ اس فقیر کو اس لئے دیا کہ میں اپنے تاثرات اس سلسلہ میں ظاہر کر دوں، لہذا فقیر برکاتی نے اس رسالہ ہدایت قبالہ کو اپنے ٹوٹے پھوٹے علم کے مطابق لگ بھگ بالاستیعاب دیکھا۔ اس مسئلہ پر عزیز موصوف زید مجد ہم نے بڑے اچھے اور سلجھے ہوئے انداز میں تحقیق فرماتے ہوئے اس کے سارے پہلووں کو سامنے رکھ کر نہ صرف یہ کہ خود اپنی کاوش سے دلائل شرعی و فقہی کی روشنی میں حکم شرعی کو واضح فرمایا ہے بلکہ اس موضوع پر حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان اور ان کے والد ماجد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کچھ فرمایا تھا اسے بھی ناظرین کے سامنے شرح وبسط سے بیان کر دیا ہے۔ خلاصہ تحریر یہ کہ عامہ مسلمین کے لئے اپنے موضوع پر یہ رسالہ اس قابل ہے کہ ہم سب اس میں جو احکام شرعیہ بیان فرمائے گئے ہیں خدا توفیق دے تو ان پر سچے دل سے عمل کرتے ہوئے اپنی صورت و سیرت، قول وفعل ، ظاہر و باطن، غرض اپنی زندگی کے ہر موڑ پر بچے پکے مسلمان نہیں اور یہود و نصاری و غیره جمله کفار و مشرکین و مرتدین و مبند عین کے ہر قول کو بڑا جانیں اور حتی الوسع خود اس سے دور و نفور رہیں اور اس کی تعلیم و تلقین اپنے گھر والوں اعزاء و اقارب کو بھی کریں۔ اس فتویٰ میں جو کچھ بھی احکام شرعیہ حضور فاضل بریلوی نیز حضور مفتی اعظم ہند نے ارشاد فرمائے اور ان کی تشریح و تفصیل فاضل مجیب علامہ از ہری زید مجد ہم نے اپنے الفاظ میں فرمائی یہ فقیر برکاتی بھی ان سب کی تصدیق کرتا ہے اور خلوص قلب سے دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے ہم سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ہمارے بزرگوں کے اسوہ حسنہ پر قائم و دائم رکھے۔ آمین ۔ لہذا ما عندی واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب واللہ المرجع والمآب۔ فقیر قادری برکاتی حافظ سید مصطفی حیدر المعروف بہ حسن میاں القادری البرکاتی سجاده نشین در گاه بر کانیه سہار بره ضلع ایده / نزیل ہوئی ۔ ۱۲/ ذی قعدہ ۱۴۱۲ھ / شنبه (۴۳) باسمہ تعالی۔ الصلاۃ والسلام علی رسولہ الاعلی ۔ فقیہ اسلام المفتی العلام حضرت ازہری میاں صاحب قبلہ زیدت معالیکم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ۔ مزاج گرامی بخیر باشد ۔ آپ کا رسالہ ”ٹائی کا مسئلہ “ہم نے بالاستیعاب مطالعہ کیا۔ بے شک ٹائی نصاریٰ کا مذہبی شعار ہے اور آیت کریمہ ”وما قتلوه وما صلبوه کا عملی رد ہے اور ہر وہ فعل جو کافروں کا مذ ہبی شعار ہو وہ ہمیشہ کفر ہی رہے گا، جیسے کہ غیارو زنار کا استعمال۔ علامہ قاضی ناصر الدین بیضاوی نے فرمایا: "لبس الغيار و شد زنار ونحوهما كفر لانها تدل على التكذیب“ (تفسیر بیضاوی ، ص ۲۳)۔ تو جس طرح تکذیب پر دلالت کرنے کے مب غیار و زنار کا استعمال کفر ہے ، اسی طرح قرآن کی تکذیب پر دلالت کرنے کے سبب ٹائی باندھنا بھی کفر ہے ۔ ریادہ فعل جو کافروں کا قومی شعار ہو، جیسے نصاریٰ کا پتلون اور ہندوس کی دھوتی تو وہ حرام یا منوع ہے۔ بہر حال ٹائی کے بارے میں آپ کا جواب صحیح و درست ہے ۔ فقط والسلام جلال الدین احمد الامجدی /۱۹/ ذوالقعده ۱۴۱۲ھ صدر مفتی دارالافتاء فیض الرسول براؤں شریف ضلع سدھارتھ نگر (۴۴) ۹۲/۷۸۶ - فقیر حقیر نے کتاب بنام ”ٹائی کا مسئلہ “ بغور و خوض مطالعہ کیا، اپنے دلائل کے لحاظ سے وہ فتوی کسی کی تصدیق کا محتاج نہیں ہے، پھر بھی انتثال امر کے لئے فقیر تصدیق کرتا ہے۔ لقد صح الجواب بالدلائل والبراہین القاطعہ والبینہ ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر حقیر محمد مشاہد رضاخاں حشمتی غفرلہ سجادہ نشین آستانہ عالیہ حشمتیہ ، محلہ بھورے خاں، پیلی بھیت (۴۵) بلاشبہ ٹائی نصاریٰ کا مذہبی شعار ہے، اس کے استعمال کے عام ہو جانے اور شعار ملحوظ نہ ہونے کی صورت میں بھی اس کا استعمال جائز نہیں ۔ وھو تعالیٰ اعلم فقیر محمد مطیع الرحمن مضطر پور نوی (۴۶) حضرت علامہ و مولانا مفتی محمد اختر رضا خانصاحب قبلہ مدظلہ العالی، جانشین حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کے رسالہ مبارکہ مسماۃ ”ٹائی کا مسئلہ “ پاکے مطالعہ کا شرف حاصل ہوا۔ حضور مفتی اعظم ہند کے فتویٰ اور حضرت مصنف علام کے دلائل و براہین سے احقر کو انشراح صدر حاصل ہوا کہ ٹائی کا استعمال ناجائز و حرام ہے ، مسلمانوں کو اس سے قطعا احتراز کرنا چاہئے ۔ (۴۷) دالة الحمر الحنين عبد اللہ خاں عزیزی خادم دارالعلوم علیمیہ جمد اشاہی، بستی ، یوپی ۲۴ صفر المظفر ۱۴۱۳ھ الموافق ۲۴ / اگست ۱۹۹۲ء تاج الاسلام جانشین حضور مفتی اعظم علامہ مفتی الحاج الشاہ محمد اختر رضا خاں صاحب از هری دامت برکاتہم العالیہ کا تازہ فتویٰ بنام ”ٹائی کا مسئلہ “ بغور پڑھا، فتویٰ اپنے موضوع پر حرف آخر کا درجہ رکھتا ہے۔ حضرت علامہ ازہری نے کامل تحقیق و تدقیق فرمائی ہے اور قدیم و جدید کتابوں سے ثابت کیا ہے کہ ٹائی باندھنا شعار کفار ہے۔ میں حرف حرف کی تصدیق کرتا ہوں۔ واللہ تعالیٰ اعلم شبیہ القادری غفرلہ پرنسپل غوث الوریٰ عربی کالج، سیوان (۳۸) اللهم بدایۃ الحق والصواب۔ فقیر نے حضور تاج الاسلام جانشین مفتی اعظم دامت بر کاتہم القدسیہ کا رسالہ ”ٹائی کا مسئلہ دیکھا جس میں شریعت اسلامیہ کے حکم کو ظاہر فرمایا ہے اور وہی حق ہے ، اس پر ہر مومن کو عمل کرناضروری ہے اور جو اسکی مخالفت کرے وہ شریعت مصطفی بیانیہ کا مخالف ہے۔ واللہ تعالی اعلم فقیر محمد غوث خان حجتی پر تا پوری بریلوی (۴۹) الجواب صحیح والقول نجح من انكر فقد انكر الحق الصريح ۔ بہت سارے اسکولوں میں ٹائی کا استعمال جازم ہے ، بغیر اس کے داخلہ ہو ہی نہیں سکتا۔ آخر اس کے اندر کون سی ایسی حاجت ہے کہ اس کو لازم قرار دے دیا گیا، وجہ بالکل ظاہر ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ طفولیت ہی سے ان کو اپنے شعار مذہبی کا خوگر بنادیں اور اس طرح ہمارے مذہبی شعار کی اشاعت ہوتی رہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی آنکھیں کھولے کہ وہ کفار و مشرکین کی تقلید اور ان کی وضع قطع سے بچیں۔ حضرت امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وہ ارشاد جو اپنے لشکروں کے لئے بھیجا تھا اس کو مسلمان پیش نظر رکھیں اور عمل کی کوشش کریں اور وہ ارشاد یہ ہے: ”ایاکم وزی الاعاجم عجمیوں کے بھیس سے بچو، ان جیسی وضع قطع نہ بنالینا۔ اور حدیث میں ہے: " من تشبه بقوم فهو منهم کہ جو شخص جس قوم سے تشبہ کرے وہ انہی میں سے ہے۔ یہ حدیث وہ اصل کلی ہے، لباس عادات و اطوار میں کن لوگوں سے مشابہت کرنی چاہئے اور کس سے نہیں کرنی چاہیئے ؟ کفار و فساق و فجار سے مشابہت بڑی ہے اور اہل صلاح و تقویٰ کی مشابہت اچھی ہے، پھر اس تشبہ کے بھی درجات ہیں اور انہی کے اعتبار سے احکام بھی مختلف، کفار و فساق سے تشبہ کا ادنی درجہ کراہت ہے۔ مسلمان اپنے کو ان لوگوں سے ممتاز رکھے کہ پہچانا جاسکے اور غیر مسلم کا شبہہ اس پر نہ ہو سکے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم محمد عبید الرحمن رضوی غفرلہ رضوی دار الافتاء، محله سوداگران، دارالعلوم مظہر اسلام، بریلی شریف ٹائی سے متعلق حضور مفتی اعظم کے دست مبارک سے لکھا ہوا فتویٰ آپ گزشتہ اوراق میں حضور مفتی اعظم علامہ الشاہ مصطفیٰ رضا نوری بریلوی قدس سرہ کا مصدقہ فتویٰ مطالعہ کر چکے ہیں۔ اب حضور مفتی اعظم کا اپنے دست مبارک سے لکھا ہوا فتویٰ پیش کیا جارہا ہے : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید ایک شخص سنی مسلمان ہے جو ٹائی باندھتا ہے، جس کے چار بھائی بھی ٹائی لگاتے ہیں، جو بر سر روز گار ہیں، اس کے بھائی بھی برسر روزگار ہیں، زید کی شادی ہوئی ہے وہ اس وقت ٹائی نہیں باندھتا ہے، لیکن اس کے بھائیوں کے ٹائی لگی ہوتی ہے۔ ایک عالم دین جو کہتے ہیں کہ ٹائی باندھنا کفر ہے، زید کی شادی میں شرکت کرتے ہیں، کھاناوغیرہ بھی کھاتے ہیں اور اس نے زید کا نکاح بھی پڑھایا جبکہ اس کے چاروں بھائی ٹائی باندھ کر نکاح میں شریک ہوئے تھے ۔ اب زید کے یہاں کھانا کھانا حرام ہے یا نہیں ؟ اور اس عالم دین نے یہ جانتے ہوئے کہ ٹائی باندھنا کفر ہے ، نکاح پڑھایا اور شادی میں شرکت کی اور کھانا وغیرہ بھی کھایا۔ شریعت کی رو سے اس عالم پر کیا حکم ہے ؟ المستفتی: افتخار میاں محلہ کھیر خاں، پیلی بھیت ٹرنگ، آئی ٹی آئی ، بریلی ٢٠ رجب المرجب ۱۳۸۶ھ۔ استفتاء نمبر:۱۵۴۴ (دستی) الجواب: ٹائی لگانا اشد حرام ہے ، وہ شعار کفار ، بدانجام، نہایت بد کام ہے ، وہ کھلا رد فرمان خداوند ذوالجلال والاکرام ہے۔ ٹائی نصاری کے یہاں ان کے عقیدہ باطلہ میں یاد گار ہے حضرت سید ناسیح علیہ الصلوۃ والسلام کے سولی دیے جانے اور سارے نصاریٰ کا فدیہ ہو جانے کی۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ ۔ ہر نصرانی ٹائی اپنے گلے میں ڈالتا ہے ، ہر ٹوپ میں نشان صلیب رکھتا ہے جسے کر اس مارک کہتا ہے ، ٹائی کی طرح کر اس مارک بھی رد قرآن ہے والعیاذ باللہ تعالیٰ کہ قرآن فرماتا ہے: "وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ “ یہود نے نہ مسیح کو قتل کیا نہ سولی دی۔ صلی اللہ علی سید نا محمد وعلیہ و على جميع الانبياء والمرسلین وعلی آل سید نا و مولانا محمد و صحبہ و بارک وسلم ۔ مگر جہاں اس حقیقت سے ناواقف ہیں، وہ اسے محض ایک وضع جانتے ہیں اس لئے انہیں اس کے لگانے سے کافر نہ کہا جائے گا، کفریت قول یا فعل اور بات پر ہے اور مرتکب کو کافر ٹھہرانا اور ٹائی باندھنے والا، ہیٹ لگانے والا اور فاسق معلن ظالمین میں ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے: "وَ إِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِيْنَ “ ۔ عارف باللہ ملا احمد جیون استاد سلطان عالمگیر رضی المولیٰ تعالیٰ عنہ تفسیرات احمدیہ میں فرماتے ہیں: ” الظالمین یعم الفاسق والمبتدع والكافر جس کے ساتھ بیٹھنا ممنوع ہے ، ان کے ساتھ مواکلت مشاربت بُری مجالست سے اور زیادہ ممنوع۔ علماء پر اور زیادہ بچنا لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر مصطفی رضا غفرلہ