مسجد کے اندر لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کا شرعی حکم اور اس کی ممانعت
اذان خارج مسجد حدود مسجد میں ہونا سنت دائمہ مستمرہ ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین دریں سوال و جواب سوال:- مساجد کے اندر لائوڈ اسپیکر پر اذان دینا کیسا ہے ؟ جواب : - اذان کا مقصد لوگوں تک نماز با جماعت کی اطلاع کرنا ہے اسی لئے گزشتہ زمانے میں اذان دینے کیلئے اونچی جگہوں کا انتخاب کیا جاتا تھا کہ آواز دور دور تک جا سکے اب آلہ تکبر الصوت (اکوڈاسپیکر) سے اذان کی آواز دور دور تک پہونچ جاتی ہے لہذا مساجد کے اندر لاکوڈاسپیکر پر اذان دینے میں کوئی حرج نہیں۔ محمد عبد المبین نعمانی قادری دار العلوم قادر یہ چریا کوٹ اعظم گڑھ (ضیائے حرم لاہور فروری ۱۹۸۶، ص ۸۳-۸۴ بقلم ڈاکٹر بشیر احمد صدیقی سائل محمد اشرف نقشبندی تحصیل کھایاں ضلع گجرات)
الجواب: اذان خارج مسجد حدود مسجد میں ہونا سنت دائمہ مستمرہ ہے اور خاص موضع صلاۃ میں اذان مکروہ و خلاف سنت متوارثہ ہے جملہ فقہاء کزبان ہیں کہ مسجد کے اندر اذان مکروہ و ممنوع ہے۔ ہندیہ میں ہے: "ينبغي ان يوذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد كذا في فتاوی قاضی خاں (1) (1) فتاوی عالمگیری مصرى ج ١ ، ص ٥٥ ، بحر الرائق مصرى ج ١ ، ص ٢٦٨ شرح کنزو ہدایہ وعامہ کتب میں ہے: المكان فى مسالتنا مختلف. اس پر فتح القدیر میں ہے: أى المعهود اختلافها الا الاقامة ففى المسجد ولابدا واما لاذان الا ففى المئذنة فانه لم تكن ففي فناء المسجد وقالو الايؤذن في المسجد. طحطاوی علی المراقی وغیرہ میں ہے: يكره ان يؤذن في المسجد. نیز فتح القدیر میں باب الجمعہ میں ہے: هو ذكر الله في المسجد اى فى حدوده لكراهة الاذان فى داخله . اور ان تمام نصوص سے بڑھ کر یہ ہے جو حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنن ابی داکو د شریف میں روایت ہوا: انه كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد و ابى بكر و عمر. یعنی زمان برکت نشان سرکار علیہ الصلاة والسلام و شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں جمعہ کی اذان دروازه مسجد پر خطیب کے سامنے ہوتی تھی اور کبھی منقول نہ ہوا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام یا صحابہ کے عہد میں اذان داخل مسجد کہی گئی اگر یہ امر جائز ہوتا تو بیان جو از کیلئے ضرور ایسا کرتے ۔ ثابت ہوا کہ یہ سنت مستمره قابل تبدیل بتبدل زمان نہیں لہذا فتویٰ مندرجہ بالا صحیح نہیں اور تفصیل کیلئے اوفی المعہ فی اذان الجمعه و غیره رسائل امام اہلسنت سید نا اعلیحضرت قدس سرہ دیکھیں واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۷/ شعبان المعظم ۱۴۰۹ھ