خسر کے بدن کی مالش کرنے کا حکم اور بیوی کے نان و نفقہ اور رہائش کے مطالبات
علمائے دین ان مسائل میں کیا فرماتے ہیں کہ : (1) زید نے بوقت نکاح یہ کہا تھا کہ میں شادی شدہ ہوں مگر عرصہ ہوا اس کو طلاق دے چکا ہوں اگر چہ وہ تفریق چاہتی ہے مگر یہ نہ طلاق دیتا ہے نہ پانچ سال سے نان و نفقہ دیتا ہے صرف اس کا جرم اتنا ہے یہ اس کو یہ حکم دیتا ہے کہ میری موجودگی اور غیر موجودگی میں بھی میرے والد کے بدن کی مالش کرو اور اس سے اس کو انکار ہے۔ یہ کہاں تک درست ہے ؟ خسر کی خدمت کیونکہ وہ مجرد ہے۔ (۲) اب زید کی زوجہ ثانی یہ سن کر خوف زدہ ہو گئی ہے اور وہ والد سے شکایت کی اب زید کے خسر نے اپنی لڑکی کو زید کے پاس جانے سے روک لیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب تک زید میرے شرائط پر دستخط نہ کرے گا تب تک نہیں بھیجوں گا۔ شرائط یہ ہیں شرعی اعتبار سے یہ جائز ہیں یا نہیں ؟ جبتک زید ر ہائش کے لئے الگ مکان کا بندوبست نہ کریگا اور اپنے والد سے بیوی کو پردہ نہ کرائیگا اور اگر کوئی مجبوری سے یعنی جبتک رہائش کا بندوبست نہ ہوا تو اپنی بیوی کو میکہ یعنی خسر کے گھر رکھے تو کفالت کا خرچ زمانہ کے لحاظ سے پوسٹ کے ذریعہ بھیجوں گا۔ مندرجہ بچہ کو کبھی گالی گفتار ، مار ڈانٹ نہ کروں گا اگر میں نے ان شرائط کی خلاف ورزی کی تو ان کو یہ حق پہونچتا ہے کہ وہ طلاق لے لیں۔ میں نے ابھی سے اپنی بیوی کا طلاق اپنے خسر کے حوالے کیا۔ اس میں کوئی اعتراض تو نہیں ؟
الجواب: (1) زید پر ہندہ کا نان و نفقہ واجب ہے اور اسے بھلائی اور حسن سلوک کے ساتھ رکھنا فرض ہے۔ قال تعالى : " فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِ حُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ (1) البقرة-٢٣١ بھلائی کے ساتھ رکھنے پر قادر نہ ہو تو طلاق دیدے، ادہر میں لڑکا ناظلم بالائے ظلم ہے جس سے توبہ لازم۔ خسر کے پورے بدن کی مالش سے مراد اگر یہ ہے کہ بشمول اعضاء عورات مثل ران و گھٹنا تو یہ معصیت ہے جس کا حکم دے کر وہ خود گنہگار ہے پھر تنہائی میں فتنہ کا خوف ہے۔ ایسی صورت میں زید کا اصرار بیجا ہے اور زوجہ پر الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فی الواقع اگر بندہ کو اپنے خسر سے فتنہ کا اندیشہ ہے تو علیحدہ رہنے اور پردہ کی شرط صحیح ہے ورنہ نہیں۔ یہ شروط بقدر کفایت زوجہ کو نفقہ دینا ان پر ظلم نہ کرنا بیجا بچوں کو نہ مار نا بُری گالی گفتاری نہ کرنا بجا ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح ۔ واللہ تعالی اعلم ۱۸ شعبان المعظم ۱۳۹۵ھ صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر مصطفی رضا خاں قادری رضوی قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی