وہابی دیوبندیوں وغیرہ کا سنیوں کی مسجد میں اور برعکس نماز پڑھنے کا مسئلہ
(1) اگر سنی عقیدے کے علاوہ دوسرے فرقہ کے لوگ جیسے دیوبندی، وہابی، رافضی وغیرہ ہماری مسجد میں نماز پڑھیں تو کیا ان کو نکالنا چاہئے ۔ (۲) کیا وہ ہماری مسجد میں دوسری جماعت کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ (۳) کیا سنی بھائی، ان کی مسجد میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ (۴) کیا ہماری نماز ان کی مسجد میں قبول ہوگی ؟ (۵) اگر ہمارے سنی اور پیر بھائی نہ جانتے ہوئے انکا ساتھ دیں تو ان کے لئے کیا حکم ہے ؟ (1) کیا ہم بھی ان کی مسجد میں دوسری جماعت کر کے نماز پڑھ سکتے ہیں؟ (۷) سنا ہے کہ ان کی عبادت گاہ مثل گر جا ہے ،اس کے لئے کیا شرعی حکم ہے ؟
(۱) وہابیہ، دیابنہ اپنے عقائد کفریہ کے سبب کا فربیدین ہیں، ایسے کہ جو اُن کے کفر و عذاب میں دیدہ و دانستہ شک کرے وہ بھی انہی کی طرح کافر ہے۔ دیکھو حسام الحرمین اور انہیں اہلسنت کی مساجد میں آنے کا حق نہیں اور سنیوں کو اگر قدرت ہو تو انہیں اپنی مسجد میں نہ آنے دیں۔ در مختار میں ہے: ”و یمنع عنہ کل موذولو بلسانہ “۔ یہی حکم ہر کافر کا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ان کی نماز نماز نہیں اور انہیں سنیوں کی مسجد میں آناروا نہیں تو دوسری جماعت کی کیسے اجازت ہوگی ؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) جو مسجد وہابیہ، دیابنہ و غیر ہم مرتدین نے بنوائی وہ نام کی مسجد ہے، شرعاوہ مسجد ہی نہیں بلکہ ان مرتدین کا مسکن ہے۔ قال تعالى : إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسْجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ الآية اور کفار کے معبد و محل اجتماع میں جانا جائز نہیں۔ طحطاوی علی الدر میں ہے: ليكونه محل الشياطين فيكره مطلقاً لہذا وہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں اگرچہ بکراہت نماز ہو جائیگی اور مسجد کا ثواب نہ ملے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) قبول مشیت الہی پر موقوف ہے اور اس کا علم اسی کو ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) گناہ گار مستوجب نار تخق غضب جبار ہیں، توبہ کریں۔ واللہ تعالی اعلم (1) التوبة: ١٨ (2) حاشية الطحطاوي على الدر المختار ، كتاب الصلوة، ج ۲، ص ٥٠ ، دار الكتب العلميه، بيروت (1) حکم گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) ان کی بنائی ہوئی عبادت گاہ شرعا عبادت گاہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم تکملة فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ