نکاح بہ حالت اعتدال کا سنت مؤکدہ ہونا اور اس کے ترک پر وعید
سوال
جناب مفتی اعظم صاحب، منظر اسلام، بریلی شریف ! سلام مسنون ایک شخص جوان آدمی اور آمدنی بھی کافی ہے اور شادی ابھی تک نہیں کی ، معلوم ہوا ہے کہ نکاح کرنا سنت موکدہ ہے۔
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نکاح به حالت اعتدال و قدرت مہر و نفقہ سنت موکدہ ہے۔ حدیث میں ہے: "النكاح من سنتي، فمن لم يعمل بسنتي فليس مني نکاح میری سنت ہے تو جو میری سنت پر عمل نہ کرے، وہ مجھ سے نہیں ۔ اور سنت موکدہ کا ترک برسبیل اصرار گناہ اور شفاعت حضور علیہ سلام سے محرومی کا باعث ہے۔ حدیث میں ہے: " من ترك سنتى لم ينل شفاعتى" (1) جو میری سنت چھوڑے، میری شفاعت نہ پائے۔ تكملة یعنی جبکہ ترک برسبیل اہانت نہ ہو تو ترقی درجات کی شفاعت سے محرومی ہے۔ صرح بہ الطحطاوی قدس سرہ۔ ورنہ اصلاً شفاعت سے محرومی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۲۰۵–۲۰۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
ایک مجمل سوال کا جواب (شوہر کی عدم موجودگی اور دوسرے نکاح کا مسئلہ)
باب: تکملہ
بغیر حلالہ نکاح کرنے والے کے لیے توبہ اور تجدیدِ ایمان کا حکم
باب: تکملہ
قبرستان کی بائونڈری، دکانات کی تعمیر اور امامت سے متعلق متفرق مسائل
باب: تکملہ
پاگل شوہر کے عقد میں ہندہ کی موجودگی اور جانے سے انکار کا حکم
باب: تکملہ
کچہری کے طلاق نامہ کی شرعی حیثیت اور بلا طلاق شرعی دوسرے نکاح کا حکم
باب: تکملہ