کچہری کے طلاق نامہ کی شرعی حیثیت اور بلا طلاق شرعی دوسرے نکاح کا حکم
کچہری کا طلاق نامہ کوئی چیز نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: ہندہ کا نکاح ۶ سال کی عمر میں زید کے ساتھ ہوا، اب بالغ ہونے کے بعد زید کی راہ و روش غلط ہوگئی اور افعال بد کا مرتکب ہے جس کی وجہ سے نہ ہندہ اور نہ ہندہ کے گھر والے زید کے گھر بھیجنا چاہتے ہیں اور نہ ہندہ جانا چاہتی ہے اور نہ زید طلاق دینا چاہتا ہے۔ اور ہندہ کے گھر والے نے کچہری سے طلاقنامہ لے لیا ہے اور ہندہ کا نکاح بکر کے ساتھ کر دینا چاہتے ہیں۔ اب جواب طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کا طلاق نامہ کچہری سے لے لینا عند الشریعت جائز ہے یا نہیں ؟ اور ہندہ کا نکاح دوسرے کے ساتھ کر دینا کیسا ہے ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ۔ عین کرم ہو گا۔ بینوا توجروا المستفتی: محمد احسان علی رضوی، مدرسه غوشیه بھانے والی مسجد ، کوسی کلالا، متھرا (یوپی)
سوال تفصیل طلب ہے ، ہندہ کا نکاح بہ حالت نابالغی کس نے کیا تھا ؟ لکھا جائے پھر جواب ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ اور کچہری کا طلاق نامہ کوئی چیز نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۲۹؍ رجب المرجب ۱۴۰۱ھ