بچوں کو جماعت کی پہلی صف میں کھڑا کرنا اور صلوۃ سے متعلق احکام
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل کے بارے میں کہ: (1) بچوں کے لئے اگلی جماعت میں کھڑے ہونے کو منع ہے یا مردوں کی جماعت میں کھڑے ہونے کو منع ہے؟ (۲) جس مسجد میں صلوٰۃ نہ ہوتی ہو تو ہمیں ہونا چاہئے یا نہیں؟ ایک صاحب یہ فرماتے ہیں کہ جب صلوۃ شروع ہو تو بند نہیں ہونا چاہئے ، جبتک مسجد قائم رہے جبتک یوں ہی رہے، یہ صحیح ہے یا غلط؟ (۳) جس نے فرض نماز جماعت سے نہ پڑھی وہ وتر جماعت سے پڑھ سکتا ہے یا نہیں ؟مفصل کتاب کا حوالہ دیجئے ۔ المستفتی: امداد علی نکلینی، شاه آباد، رامپور
الجواب: (1) اگر چند بچے ہیں تو مردوں کی صف کے بعد صف بنائیں اور چند مرد ہی جماعت میں رہتے ہوں تو مردوں کی پہلی صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں اور ایک بچہ تنہا ہو تو وہ مردوں کی صف میں کھڑا ہو سکتا ہے اصف میں کھڑا ہو ۔ جب کہ نماز وغیرہ صحیح طور پر پڑھ لیتا ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اگر لوگ اذان سن کر مسجد میں آنے سے تساہل برتتے ہیں تو صلاۃ کہی جائے اور برابر کہ سکتے ہیں ۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم (۳) وہ وتر جماعت سے نہ پڑھے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم تكملة فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ