تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر عورت کی واپسی اور نفقہ کا حکم
کے میکے چلی گئی، شوہر نے پیغام کئی بار دیا لیکن مسماۃ نے آنے سے انکار کر دیا۔ شوہر نے تمام پہنچوں کے سامنے اس کے میکے میں ۸/ دسمبر ۱۹۷۶ء کو تین طلاق دیدیں اور اس کا پورا ہرجہ خرچہ سب کے سامنے دیدیا بعد طلاق کے شوہر کے پٹی داروں نے مسماۃ کو بلا کر شوہر کے دروازے کے سامنے ایک ممرا ہا (مسکن) مسماۃ کے رہنے کے لئے تیار کر دیا وہ رہتی ہے روز ہمیشہ گالی گلوج دیتی ہے شوہر کے پٹی دار اور غیر مسلم مل کر شوہر کو دبائو دیتے ہیں کہ اس کو رکھ لو کیونکہ ابھی عورت کا طلاق نہیں ہوا عورت بھی آنا چاہتی ہے مگر یہ رکھنا نہیں چاہتا ہے۔ شوہر تنہا ہے ، بہت پریشان ہے۔ ۳ر ماہ تیرہ دن کے بعد مسماۃ شوہر کے گھر آنا چاہتی ہے بغیر حلالہ کئے ہوئے، مسماۃ کو اب بصورت بیوی کے خرچہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ برائے کرم ان باتوں کو حل کر کے روانہ فرمائیں۔ شوہر ہر طرح سے مجبور ہے اور تنہا ہے جس کا بجز خدا کے کوئی مددگار نہیں ہے۔ المستفتی: محمد ابراهيم (القلم خود)، ساکن سیا چپور ضلع پرتاپ گڑھ
الجواب: به صورت صدق سوال تین طلاقیں ہو گئیں اور عورت اپنے شوہر پر ایسی حرام ہوگئی کہ اب بے حلالہ حلال نہ ہوگی۔ حلالہ یہ ہے کہ عورت بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کرے، جماع کرائے اور بعد جماع شوہر طلاق دے یا مر جائے یا معاذ اللہ مرتد ہو جائے پھر عورت عدت گزار کر پہلے سے نکاح کرے۔ قال تعالیٰ: علَى تَنكِحَ زَوْجاً غَيْره (1) و قال النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم : "لا حتى تذوقى عسيلته و يذوق عسيلتك (۲)" (1) البقرة - ٢٣٠ (2) ترمذی شریف، ج ۱، ص ۱۳۳ ، ابواب النکاح، مجلس برکات، مبارکپور جنہوں نے کہا کہ طلاق واقع نہیں ، غلط مسئلہ بتا کر سحق لعنت ہوئے، تو بہ لازم ہے اور مرد پر مہر و نفقہ عدت کے سواکچھ واجب نہیں اور بعد طلاق اسے شوہر کی جائیداد میں سے کچھ نہیں پہنچتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی