ایک مجمل سوال کا جواب (شوہر کی عدم موجودگی اور دوسرے نکاح کا مسئلہ)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: فریدہ بنت حسن محمد کا عقد چھوٹو ابن شہرت کے ساتھ ہوا تھا، عرصہ دس سال کا گزر چکا ہے۔ چھوٹو اپنی بیوی فریدہ کو طلاق دینے کے لئے فریدہ کے گھر آیا فریدہ کے والد و غیرہ بات ٹالتے رہے کہ ایک روز میری بیٹی کو لے جائیگا اور طلاق نہیں لیا یہاں تک کہ چھوٹو نے کہا کہ ہم فریدہ کو کھلا پلا نہیں پائیں گے یہ کم کر چھو ٹو بمبئی چلا گیا۔ عرصہ تین سال ہو گیا، وہ بمبئی سے نہیں آیا، کچھ لوگوں نے اس سے معلوم کیا تو چھوٹو اس وقت کوئی جواب نہیں دے رہا ہے۔ اور فریدہ چونکہ بالغہ ہو چکی ہے۔ ایسی صورت میں فریدہ کے لئے شرعی حکم کیا ہے ؟ وہ دوسرا عقد کر سکتی ہے کہ نہیں ؟ فقط ۔ والسلام المستفتی: حسن محمد ، موضع چبوئین بزرگ، پوسٹ مہوہ ضلع گونڈہ (یوپی)
الجواب: فریدہ نابالغہ کا عقد کس نے پڑھایا؟ باپ، دادا یاکسی اور نے ؟ اور شوہر اس کا نسب، پیشہ، چال چلن میں اسکے ہمسر تھایا نہیں ؟ اور مہر میں غبن فاحش ہوا؟ یاکیا؟ تفصیل سے سوال کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۶ جمادی الآخره ۱۴۰۲ھ