حضرت امیر معاویہ کی شان میں گستاخی، اذانِ خطبہ، عصا، قلم و دوات کا واقعہ اور بی بی کی کہانی سے متعلق سوالات
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته (۱) حضور کچھ لوگ یہاں ایسے ہیں جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ انہوں نے حضرت علی کے خلاف جنگ لڑی ہے اور یزید پلید کی بیعت دلوائی ہے اور کچھ سنی حضرات کھڑے ہو کر ان کی بات بھی سنتے ہیں۔ (۲) حضور ایک کتاب میں لکھا ہے کہ واضح ہو کہ عقد ہونے کے بعد جو رسم ہے کہ دولہا کھڑا ہو کر حاضرین مجلس کو سلام کرتا ہے اور مصافحہ بھی کرتا ہے یہ بدعت اور بڑا ہے۔ (۳) حضور ہمارے یہاں خطبہ کی اذان باہر سے ہوتی ہے تو اس کا جواب کچھ لوگ ثبوت کے ساتھ مانگتے ہیں۔ (۴) حضور یہ پتہ چلا ہے کہ ممبر پر خطبہ کے وقت عصا لے کر نماز پڑھنا سنت ہے اس کا بھی جواب ثبوت کے ساتھ بہت ضروری ہے۔ (۵) حضور یہ بھی کہتے ہیں کہ جب حضور کی طبیعت زیادہ ناساز تھی تو انہوں نے قلم دوات مانگا مگر یہ لوگ نہیں دیے، اس پر زیادہ تر شیعہ حضرات اعتراض کرتے ہیں۔ (۶) حضور ایک کتاب سیدہ بی بی کی کہانی ہے لوگ اس کہانی کی کتاب پڑھنے کی منت مانگتے ہیں اور یہ کتاب سنی عالم کی ہے یا شیعہ لوگوں کی ہے اور کہانی کی کتاب پڑھنے کی منت مانگنا کیسا ہے ؟ (۷) حضور بہت سے سنی لوگ حضرت امیر معاویہ صلی اللہ کی شان میں کہتے ہیں کہ ہم ان کو اچھا نہیں کہتے تو بُرا بھی نہیں کہتے۔ کیا حضرت امیر معاویہ کی شان میں یہ لفظ استعمال کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ (۸) حضور میں حافظہ کر رہا ہوں اور پچھلا سبق بہت کم یا د رہتا ہے، مجھے کوئی ذہن کے بڑھنے کے لئے وظیفہ لکھ دیجئے گا۔ المستفتی محمد شفیق، موضع اسرایاں، محلہ بنگلہ تر ضلع فتح پور سوا
الجواب: (۱) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، ان پر زبان طعن دراز کرنا اپنا ایمان کھونا ہے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم سے سرتابی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: "لا تسبوا اهل الشام" اہل شام کو گالی نہ دو۔ اور جب خود حضرت علی یہ فرمارہے ہیں تو ہمیں حق نہیں پہنچتا کہ ہم حضرت علی اور امیر معاویہ کے معاملہ میں دخل دیں۔ اس بارے میں ہمارا مفصل فتوی ملاحظہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ان لوگوں کا قول غلط ہے۔ سلام سے اور مصافحہ سے اس موقعہ پر ممانعت نہیں اور جو مدعی ہے وہ دلیل دے ورنہ اس کا بدعت بتانا ہی بدعت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) سنن ابوداؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: " انه كان يؤذن بين يدى رسول الله ﷺ اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر و عمر" یعنی جب حضور ﷺ منبر پر جلوس فرماتے جمعہ کے دن اذان دروازہ مسجد پر ہوتی اور ایساہی حضرت ابوبکر و عمر کے زمانہ میں ہوتی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (دیکھو فتاوی رضویہ ، ج۳) (۴) اس میں علماء کا اختلاف ہے لہذا بچنا بہتر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (دیکھو فتاویٰ رضویہ ) (۵) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا یہ فعل حضور کی محبت اور ان کی راحت کے لئے تھا اور جانثاروں نے نہ چاہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو اس شدت الم و مرض میں زحمت ہو لہذا قلم دوات مہیانہ کیا اور حضور علیہ السلام نے بھی ان پر ملامت نہ فرمائی۔ شیعہ کا اعتراض محض بے ہودہ ہے اور ایسا اندھا اعتراض ہے جس میں حضرت علی اور اہل بیت بھی نہیں بچے پھر شیعہ کو کیونکر معلوم ہوا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام حضرت علی کے لئے خلافت لکھنے والے تھے کہ یہ لوگ تمام صحابہ پر زبان طعن دراز کرتے ہیں۔ حاشا و کلا کوئی ذریعہ علم نہیں محض بدگمانی کرتے ہیں، ان لوگوں سے شدید احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) معتمد نہیں ہے اس کے پڑھنے سے شدید احتراز چاہئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحکم قرآن و حدیث اچھا سمجھنا ایمان ہے اور اچھانہ سمجھنا کفر ہے کہ تکذیب قرآن ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے : "وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الحُسْنى" یعنی اللہ نے ہر صحابی رسول سے اچھا وعدہ کیا۔ جو اچھانہ جانے وہ سنی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۸) دس مرتبہ بعد ہر نماز یا حافظ بحق ان ربى على كل شيء حفیظ “اول و آخر درود شریف کے ساتھ پڑھیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ الجواب صحیح۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی