خسر کا اپنی بہو سے زنا کرنا اور اس سے پیدا ہونے والی حرمتِ مصاہرت کا حکم
(1) میرے موضع میں ایک شخص نے اپنی پتوہ (یعنی اپنے لڑکے کی بیوی) کے ساتھ زنا کیا، اس کو حمل رہ گیا۔ اس پر کیا فتویٰ ہے؟ (۲) وہ عورت اس گھر میں ہے ، اب وہ کس کی بیوی بن کر رہے ؟ (۳) اس عورت کا نکاح جس کے ساتھ ہوا تھاوہ نکاح رہایا کہ ختم ہو گیا ؟ (۴) اگر نکاح ختم ہو جاتا ہے تو اس کے سسر جس نے اس کے ساتھ غلط کیا ہے، اس کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے یا کہ نہیں ؟ (۵) جس لڑکے کے ساتھ نکاح ہوا تھا وہ لڑکا رکھنا چاہے تو وہ دوبارہ نکاح کر کے رکھے یا پہلے ہی نکاح پر اپنی بیوی بنا کر رکھے ؟ (1) ان سب سوالات پر علمائے کرام کا کیا فتویٰ ہے ؟ جس شخص (یعنی سر) نے جو غلط کیا اس کی کیا سزا ہوگی ؟ یا اس عورت کی کیا سزا شرعا کی جائے ؟ اس کے متعلق کیا حکم ہے ؟ المستفتی: ملازم میاں مقام و پوسٹ پاڑا ایوری ، ضلع گوپال گنج ( بہار )
الجواب: خسر سخت گناہگار ستحق عذاب نار ہے اور بہو بھی جبکہ اس کے فعل بد سے راضی ہو، دونوں پر توبہ و استغفار فرض ہے اور عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی اور اس کے باپ پر پہلے ہی حرام تھی لہذا عورت کا نکاح اس کے خسر سے ناجائز۔ شوہر اگر اس بات کی تصدیق کرے تو اس پر فرض ہے کہ اس سے متارکہ کرے یعنی یوں کہے کہ میں اس سے جدا ہوا۔ بعد متارکہ جب عدت گزر جائے تو دوسرے سے نکاح حلال ہوگا۔ در مختار میں ہے: حرم بالصهرية ايضا اصل مرئية وممسوسته الى وفروعهن مطلقا (1) الدر المختار، کتاب النکاح، باب المحرمات، ج ٤ ، ص ۱۰۷ ، ملتقطاً، دار الكتب العلمية، بيروت اسی میں ہے: "وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بأخر الا بعد المتاركة وانقضاء العدة " والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲۸ محرم الحرام ۱۴۰۳ھ