بزرگان دین کا عرس کرنا اور ان کے مزارات پر چادر چڑھانا جائز ومستحسن ہے
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں : عید شاہ محمد زبیر مجذوب پنجابی رحمتہ اللہ علیہ کسی گاؤں میں آج قریب ۸/۷/ سال سے گشت کیا کرتے تھے لیکن وہ کسی شخص کو کبھی گالی گلوچ نہیں دیا کرتے تھے نہ کبھی کسی شخص سے کبھی کھانے اور پینے
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
بزرگان دین کا عرس کرنا اور ان کے مزارات پر چادر چڑھانا جائز ومستحسن ہے اور ان صاحب کی بزرگی اگر ظاہر ہو تو ان کا عرس اور ان کے مزار پر چادر پوشی میں مضائقہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۲ · صفحہ ۲۶۵–۲۶۶
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
میت کے چہرے کی زیارت کرانے کا شرعی حکم اور اس پر تعامل صحابہ
باب: تکملہ
کسی ولی اللہ کا عرس منانا اور اس کے مزار پر چادر چڑھانے کا شرعی حکم
باب: تکملہ
وہابیوں اور دیوبندیوں کے ساتھ بارات میں سنی علماء کی شرکت کا حکم
باب: تکملہ
خسر کا اپنی بہو سے زنا کرنا اور اس سے پیدا ہونے والی حرمتِ مصاہرت کا حکم
باب: تکملہ
رویت ہلال، جماعت کثیر کی تعریف اور خبرِ فاسق و کافر کی شرعی حیثیت
باب: تکملہ