کسی ولی اللہ کا عرس منانا اور اس کے مزار پر چادر چڑھانے کا شرعی حکم
کے لئے کوئی چیز مانگا کرتے تھے ، چھوٹے بچوں کو بہت پیار کرتے تھے، اکثر چوراہوں پر گھوما کرتے تھے ، بدن میں دھول و غبار لگا رہتا تھا، اکثر گندی چیزیں کھایا کرتے تھے ، لوگ ان سے نفرت کرتے تھے اور انہیں پاگل اور حقیر سمجھتے تھے ۔ اب وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لوگ ان کا عرس بڑے جوش اور دھوم دھام سے منارہے ہیں اور ان کے مزار پر لوگ چادر بھی چڑھاتے ہیں ۔ جو شخص بھی ان کے مزار پر جس مقصد و تمنا لے کر حاضر ہوتے ہیں تو خداوند قدوس اپنے فضل و کرم اور ان کے صدقے طفیل سے ضرور پوری کر دیتا ہے۔ کوئی شخص خالی ہاتھ واپس نہیں ہوتا ہے۔ اس کے خلاف علماء کہتے ہیں کہ ان کا عرس منانا اور ان کے مزار پر چادر چڑھاناناجائز ہے۔ پھلواری شریف کے مولانا منہاج الدین صادقی اور ان کے بھائی صاحب کہتے ہیں کہ ان کی صرف فاتحہ کرنا چاہئے ۔ اس لئے حضور سے میری عجز و انکساری کے ساتھ گزارش ہے کہ براہ کرم اس فتویٰ کا جواب دے کر خوش فرمادیں گے تاکہ لوگوں کا شک و شبہ دور ہو جائے۔ کسی ولی اللہ کا عرس منانا اور اس کے مزار پر چادر چڑھانا از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں ؟
الجواب: بزرگان دین کا عرس کرنا اور ان کے مزارات پر چادر چڑھانا جائز ومستحسن ہے اور ان صاحب کی بزرگی اگر ظاہر ہو تو ان کا عرس اور ان کے مزار پر چادر پوشی میں مضائقہ نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ