مالی جرمانہ ناجائز و حرام ہے !
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں : ایک قصبہ میں ۱۵۰ گھر مسلمانوں کے ہیں، نصف نصف ناچاقی کی وجہ سے الگ الگ ہیں ، امام و مدرسہ بھی الگ الگ ہیں، ایک فریق میں میت ہو جاتی ہے تو فریق ثانی میں سے کوئی شخص یا ان کے رشتہ دار میت میں چلے جاتے ہیں تو اس کے فریق والے ۵/۵/ روپے جرمانہ کرتے ہیں۔ ایسا کرنے والے مسلمانوں کے حق میں شریعت مطہرہ کیا حکم فرماتی ہے ؟ مفصل جواب سے نوازیں۔ المستفتی: اشرف خاں پٹھان ساکن و یکمین ضلع مند سور مالیم نی
الجواب: مالی جرمانہ ناجائز و حرام ہے اور اختلاف دین کے سبب ہے مثلا ایک جماعت سنیوں کی ہے اور دوسری شیعہ کی یا ایک سنیوں کی دوسری دیو بندیوں کی تو اس صورت میں علیحدہ رہنا ہی لازم ہے اور دونوں جماعت سنی مسلمانوں کی ہے تو دنیوی رنجش کی بنا پر قطع تعلق رکھنا روا نہیں ، وجہ اختلاف دور کر کے مل جائیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ