انبیائے کرام و اولیائے عظام سے توسل اور غیر اللہ سے مدد مانگنے کے جواز پر اعتراض کا رد
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص جو عالم مشہور ہے لکھتا ہے کہ غیر اللہ سے سوال فیح لذاتہ ہے اور لکھتا ہے کہ غیروں سے مدد مانگنا موجب ذلت ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ برکات الامداد میں حضور پر نور اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سر کار نامدار بالا کا سوال کرنے کو حکم فرمانا لکھا ہے۔ پھر یہ کہ ان صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنت میں رفاقت کا سوال کیا۔ سرکار نے منظور فرمایا اور کثرت سجود سے استعانت کا امر فرمایا۔ تو کیا نعوذ باللہ ایک فتیح اور موجب ذلت فعل کا حکم ارشاد فرمایا گیا ؟ قبول فرمایا گیا؟ بلکہ ہزار بار معاذ اللہ خود بھی عمل فرمایا گیا؟ یہ کس قدر ایمان سوز نتیجہ ہے جو عالم مذکور کی بات سے نکلتا ہے اور کتنی کھلی گستاخی و اہانت ہے تمام حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی اور جملہ اولیائے کرام رحمہم اللہ اجمعین کی بارگاہ میں جہاں سوال کا حکم ہوا، پورا فرمایا گیا بلکہ خود برتا بھی گیا۔ ارشاد ہو کہ زید کا عقیدہ کیسا ہے ؟ زید کیا مسلمان ہے ؟ سنی ہے ؟ اور جو اس کے متبعین ہیں ان کو کیا کرنا چاہیئے ؟ المستفتی: احسان الرحمن عزیزی
الجواب: زید کا قول غلط و فتیح ہے ، وہ اس سے توسل و استعانت بہ اولیاء کو باطل کہا چاہتا ہے ، حالانکہ قرآن کریم وسیلہ کا حکم فرماتا ہے ، ارشاد ہے: "وابتغوا اليه الوسيلة "(1) اور اسے (توسل کو) بزرگان دین کی سنت سیئہ بتاتا ہے۔ حالانکہ اللہ فرماتا ہے: (۲) " " اولئك الذين يدعون يبتغون الى ربهم الوسيلة اليهم اقرب " یعنی یہ کافر لوگ جنہیں پوجتے ہیں وہ خود رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون اللہ سے نزدیک تر ہے۔ اور اس کا یہ قول بلا شبہ انبیاء کرام بلکہ خدا کی جناب میں اہانت کو مستلزم ہے کہ جب خدا نے اپنے محبوبوں سے توسل کا حکم کیا تو کیا اس کے طور پر معاذ اللہ قبیح لذاتہ کا حکم دیا؟ زید نے اپنے اس قول سے اپنی اہانت آشکارا کر دی لہذا اہر سنی کو اس سے اجتناب ضرور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری غفرلہ ۱۳ ربیع الآخر ۱۴۰۰ھ صح الجواب۔ انبیائے کرام و اولیائے عظام سے جو توسل کیا جاتا ہے وہ توسل بغیر اللہ نہیں ہے وہ فی الحقیقت استعانت باللہ ہے۔ حضرت شاہ عبد العزیز صاحب محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں: اگر التفات محض بجانب حق است و اور ا یکی از مظاهر عون دانسته و نظر بکار خانه اسباب و حکمت او تعالی دراں نموده بغیر استعانت ظاہری نماید دور از عرفان نخواهد بود و در شرع نیز جائز وروا است، و انبیاء و اولیاء ایں نوع استعانت بغیر کرده اند و در حقیقت این نوع استعانت بغیر نیست بلکه استعانت بحضرت حق است لا غیر » (۳) سوال مطلق کو فتیح لذاتہ بتانا خلاف قرآن و حدیث ہے۔ قرآن و حدیث میں سوال کا حکم دیا گیا۔ قال الله تعالى: "فسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون “ گیا معاذ اللہ قرآن عظیم فتح لذاتہ کا حکم فرماتا ہے ؟ حدیث سائل نے جو تحریر سوال کی ہے اس سے بھی سوال کی اجازت ثابت ہے پھر اسے قبیح لذاتہ کہنا غلط ہے اور باطل ہے ، ہاں سوال کا کوئی خاص فرد مراد ہو تو بیان کیا جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی