رویت ہلال، جماعت کثیر کی تعریف اور خبرِ فاسق و کافر کی شرعی حیثیت
(۷) سرکار اعلیٰ حضرت نے فتاویٰ رضویہ شریف جلد ۴، ص ۱۵۴۷ پر چاند دیکھنے سے متعلق جماعت کثیر کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے: ”اگرچہ غلام ہوں یا کھلے فساق ہوں“۔ اور آگے فرماتے ہیں: ”ایسی خبر مسلم و کافرسب کی مقبول ہے “۔ یہاں فساق سے مراد کون ہیں ؟ فاسق معلن یا اور کوئی ؟ اور مسلم و کافر میں کون سے کافر؟ کافر لزومی وغیرہ یاوہابی تبلیغی ؟ بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں۔ (۸) مطلع صاف ہو، لاکھوں آدمی چاند دیکھنے والے ہوں، اس وقت جماعت کثیر کا لفظ کتنے انسانوں پر بولا جاسکتا ہے ؟ اگر ۳۰ یا ۳۵ / آدمی لاکھوں میں سے چاند کی گواہی دیں تو یہ جماعت کثیر ہو جائیں گے یا نہیں ؟ المستفتی: غلام مصطفیٰ قادری
الجواب: ار تا۵) اگر وہ لوگ حسام الحرمین میں جو فتویٰ علمائے حرمین شریفین نے وہابیہ دیوبندیہ کے اکابر کے لئے دیا ہے، اس کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ انہیں مسلمان و پیشوا مانتے ہیں تو ان کا حکم انہی جیسا ہے۔ ”من شك في كفره و عذابه فقد كفر كاو ہی حکم ہے جو وہابیہ دیو بند یہ کا ہے کہ ان سے میل جول، کھانا پینا، بیاہ شادی میں شرکت کرنا، سلام و کلام ممنوع و ناجائز ہے ، ان کی گواہی بھی معتبر نہیں ہے اور انہیں بھی خارج از اسلام کہا جائے گا جبکہ وہ ان کفریات پر مطلع ہو کر ان کی تکفیر سے منکر ہوں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) نامعتبر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) جماعت کثیر کی تحدید افراد کے ساتھ نظر سے نہ گزری ہے۔ حاشیہ میں ہے بڑی جماعت کی خبر مقبول ہوگی جس سے ظن غالب حاصل ہو جائے۔ اس جماعت کثیر میں مومن فاسق غیر فاسق دونوں شامل ہیں اور کافر داخل نہیں۔ اعلیٰ حضرت قدس سرہ کی عبارت غور سے دیکھیں اور اگر کثرت حد تواتر کو پہنچ جائے کہ عقل اتنے شخصوں کا غلط خبر پر اتفاق محال جانے تو خبر مسلم و کافر سب کی مقبول ہے۔ یہ حکم تواتر کا ہے اور تواتر میں عدد کا اختلاف ہے۔ بعض نے چالیس کہا، بعض نے سو کہا، بعض نے کچھ اور ۔ اور صحیح ہی ہے کہ اتنے اشخص ہوں جن کا غلط خبر پر اتفاق محال ہو۔ واللہ تعالی اعلم (۸) کثرت حد تواتر کو پہنچ جائے تو ان کی شہادت معتبر ہوگی اور تواتر کے متعلق اوپر گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله