ثلث لیل تک تاخیر عشاء سے متعلق تحقیقی فتوی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین : تکملة (1) زید کا کہنا ہے کہ نماز عشاء تہائی رات کے بعد تاخیر سے ادا کرنا مستحب ہے ۔ مگر بعض اکابر علمائے کرام و مشائخ عظام کو شروع وقت میں ہی ادا کرتے دیکھا گیا۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ عوام خاص طور پر سردیوں میں لحاف کے اندر گھس جانے کے بعد لحاف چھوڑ وضو کرنے اور مسجد میں جانے کی مشقت مشکل سے اٹھا پائیں گے۔ اسی طرح بعض کی جماعت نکل جائے گی اور بعض کی تو نمازیں ہی جاتی رہیں گی۔ اس اندیشہ کے پیش نظر بغرض حفاظت جماعت و فرض تسهيلا للمسلمین کے تحت اور یسروا ولا تعسر وا کو مد نظر رکھتے ہوئے ابتداء وقت عشا میں ہی جماعت قائم کرنا اور نماز عشااداکر نافی الجملہ مستحب کہا جاسکتا ہے اور حدیث شریف "ما رأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن“ کے تحت حسن بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ علماء و مشائخ کا نظرا الی تکاسل العوا ممسجدوں میں سنن و نوافل کا ادا فرمانا۔ بکر کہتا ہے کہ کوئی بھی ہو کچھ بھی کہے سب بیکار بکواس ہے۔ مستحب مامور ہوتا ہے اور اس کا خلاف ممنوع اقل درجہ کا یعنی خلاف اولی ہے لہذا مستحب جو ہے وہی ہے اس کے خلاف کو مستحب سمجھنا اور کہنا سراسر جہالت اور نادانی اور انتہائی بیوقوفی کی باتیں ہیں۔ ایسی صورت میں زید و بکر کے بارے میں کیا حکم ہے اور کون حق پر ہے ؟ (۲) حقه و سگریٹ اور بیٹری کے جائز ہونے پر تعامل مسلمی کو دلیل بناتا صیح و درست ہے یا نہیں ؟ بینواتوجروا المستفتی: محمد صابر خاں، پرنس ٹیلر متصل گناد فتر اسٹیشن روڈ، بلرامپور ضلع گونڈہ
الجواب: (1) بکر کا قول غلط ہے جس کا منشاء یہ ہے کہ بکر نے تہائی رات تک عشاء کی تاخیر کا حکم استحبابی مطلق گمان پر رکھتا ہے اور یہ خطا ہے ہرگز تاخیر عشا تا ثلث لیل مطلق مستحب نہیں بلکہ اس امر کا استحباب اسی صورت میں ہے جبکہ فوت جماعت یا تقلیل جماعت کا خوف نہ ہو اور تہائی شب تک انتظار مقتدیوں میں کسی کو شاق نہ ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ بہ صورت تاخیر عشا تا ثلث شب تقلیل جماعت کا احتمال ہے تو تعجیل ہی مناسب اور اگر فوت جماعت کا غالب گمان ہو یا اس قدر تاخیر مصلیان پر شاق ہو تو ثلث لیل سے پہلے ہی نماز پڑھ لینا لازم کہ جماعت بر مذ ہب معتمد واجب یا بقول دیگر سنت موکدہ ہے اور واجب کی رعایت اہتمام مستحب سے اہم ۔ یونہی سنت موکدہ مطلق مستحب پر مقدم کمالا یخفی اور یہ جو ہمارے کلام سے ظاہر ہوا کہ استحباب تاخیر عشا تا ثلث شب مقید به عدم اندیشه و تقلیل جماعت یا فوت جماعت ہے، عبارت ہدایہ کا مفاد ہے۔ حيث قال: ما نصه فاذا كان يوم غيم فالمستحب فى الفجر والظهر والمغرب تاخيرها وفى العصر والعشاء تعجيلها لأن فى تاخير العشاء تقليل الجماعة على اعتبار المطروفى تاخير العصر توهم الوقوع في الوقت المكروه عبارت مذکورہ کا حاصل یہ ہے کہ بدلی کے دن تعجیل عصر و عشاء مستحب ہے تاکہ عشاء میں تاخیر سے جماعت کم نہ ہو جائے اور عصر میں دیر سے وقت مکروہ نہ آجائے اور جب بدلی کے دن بہ اندیشہ تقلیلِ جماعت عشاء جلدی پڑھ لینا مستحب تو ایک اسی پر کیا موقوف، جب جب تقلیل جماعت کا اندیشہ ہو گا، تعجیل عشاء مندوب ہوگی اور شک نہیں کہ لوگوں کی رغبت امور دینیہ میں کم اور ان کی دنیوی حاجات بیش از بیش اور توجہ کم رغبتی و بے فرصتی اکثر کو تعجیل در پیش تو ان کے حال کے مناسب یہی ہے کہ اول وقت ہی میں عشاء پڑھ لی جائے اور جب قلت جماعت کا اندیشہ استحباب تعجیل کا موجب ٹھہرا تو بدرجہ اولیٰ اندیشہ فوت جماعت اس کو لازم کرے گا۔ قاعدہ مسلمہ ہے کہ ” ما لا يتم الواجب الا به فهو واجب (۱)،، جس کے بغیر واجب ادا نہ ہو وہ بھی واجب ہوتا ہے۔ تکملة اسی لئے ردالمختار میں شرنبلانیہ سے تاخیر عشاء کا استحباب بصورت عدم فوت جماعت مقید ہونے کی تصریح فرمائی اور اسے کلام ہدایہ کا ظاہر فرمایا۔ وهذا نصه : " قوله وتاخير عشاء اطلقه وظاهر ما فى الهداية التقييد بعدم فوت الجماعة و يوخذ من كلام المصنف في مسئلة يوم الغيم شرنبلانية - اهـ " (۲) اور تبیین میں قید مذکور اعنی عدم فوت جماعت کی تصریح فرمائی، حیث قال: " وقوله في تاخيرها تعريضها للفوات قلنا الاصل عدم العارض والكلام فيما اذا أمن الفوات-الخ (۳) قلت ومطلق الفوات صادق بفواتها باثم كما هو صادق بفواتها من غير جماعة كما لا يخفى. اور نظر بہ حال زمانہ بعض مقامات پر بصورت تاخیر عشاء تاوقت مستحب جماعت فوت ہو جائے تو کچھ بعید نہیں ، خصوصا ایسی مساجد میں جہاں مقتدی گنے چنے ہوں اور انہیں انتظار وقت مستحب دشوار ہو اور ان کے سوا دوسرے مقتدیوں کے آنے کی امید نہ ہو تو تقدیم عشاء مستحب ہی نہیں بلکہ ضروری کہ جماعت واجب اور تاخیر میں اس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہے یا مقتدیوں پر دشواری ڈالنا ہے اور وہ شرعاً مکروہ و مذموم اور اس کے ہوتے تاخیر عشاء جو مستحب فرض کی گئی تھی ہر گز مستحب نہ رہے گی بلکہ مکروہ ٹھہرے گی اور اس پر خود اس حدیث میں دلیل موجود جو استحباب در باب تاخیر عشاء تا ثلث لیل میں حنفیہ کرام کا مستدل ہے حیث قال النبی بالای لی لی لی "لو لا أن أشق على امتى لأمرتهم ان يصلوا العشاء في هذه الساعة رواه البخاری و مسلم وفي رواية: (1) لأخرت العشاء الى ثلث الليل على ما في الهداية" ) یعنی اپنی امت کو دشواری میں ڈالنا پسند نہ فرماتا تو انہیں حکم دیتا کہ عشاء اس وقت پڑھیں ۔ اور ایک روایت میں ہے کہ میں عشاء کو تہائی شب تک مؤخر فرمادیتا اور حضور سرور عالم بالا کے صیغ اقدس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مقتدیان حضور علیہ السلام جب حاضر ہوتے حضور علیہ السلام عشاء جلد پڑھ لیتے اور اگر کبھی کم ہوتے تو حضور علیہ السلام عشاء کو مؤخر فرماتے۔ چنانچہ محمد بن عمرو بن حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مروی : "قال قدم الحجاج فسالنا جابر بن عبد الله فقال كان النبي ﷺ فقد كان يصلى الظهر بالهاجره والعصر والشمس نقية والمغرب اذا وجبت والعشاء احيانا واحيانا اذا رأهم اجتمعوا عجل واذا رأهم أبطأؤا أخر والصبح كانوا أو كان النبي يصليها بغلس (M) 11 عنی ہم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضور علیہ السلام کی نمازوں کے اوقات دریافت کیے ، انہوں نے فرمایا: آنحضرت علی ظہر نصف النہار کے بعد پڑھتے اور عصر پڑھتے جب سورج کی روشنی تیز رہتی اور مغرب پڑھتے جب سورج ڈوب جاتا اور عشاء میں جب لوگ زیادہ (1) تبيين الحقائق، ج ۱، ص ٢٢٥ ، كتاب الصلوة، دار الكتب العلمية، بيروت (2) الهداية، الجزء الأول، ص ٦٦ ، كتاب الصلوة، مجلس بركات (3) صحيح البخاری، باب وقت المغرب ، ج ۱، ص ۷۹، مجلس بركات ہوتے تو تعجیل فرماتے اور اگر لوگ کم ہوتے تو تاخیر فرماتے۔ یہ حدیث شریف محمدہ تعالی صورت مسئولہ میں صریح نص ہے جس سے بخوبی ثابت کہ کثیر جماعت اگر عشاء کے وقت مستحب سے پہلے حاصل ہو جائے تو تعجیل عشاء شرعا مطلوب اور سنت محبوب ی اسی لیے ہے اور فقہ میں بھی اس کی نظیر موجود اور وہ یہ ہے جو اسی مسئلہ تاخیر کے ساتھ ہدایہ وغیرہ میں مذکور ہوا کہ گرمی میں عشاء وقت مستحب سے پہلے پڑھی جائے گی تاکہ تقلیل جماعت لازم نہ آئے کہ گرمی میں لوگوں کو جلدی سونے کی عادت ہوگی ہے ۔ ہدایہ کی عبارت یہ ہے کہ " تاخير العشاء الى ما قبل ثلث الليل لقوله عليه السلام لولا ان اشق على امتى لاخرت العشاء الى ثلث الليل ولان فيه قطع السمر المنهى عنه بعده وقيل في الصيف تعجل كيلا تتقلل الجماعة - الخ" در مختار میں ہے: (1) " و تاخير عشاء الى ثلث الليل قيده فى الخانية وغيرها بالشتاء واما الصيف فيندب تعجيلها"(۲) یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ ہدایہ میں قبل ثلث اللیل “ وارد اور در مختار میں ” ثلث اللیل“ مذکور جس سے ظاہر کہ مسئلہ ہذا میں دو روایتیں ہمارے مذہب حنفی میں آئیں۔ لہذار دالمختار میں فرمایا: " قوله لى ثلث الليل كذا فى الكنز والمختار والخلاصه وغيرها وعبارة القدورى (M)" الى ما قبل ثلث الليل وهما روايتان كما فى الشرنبلانية عن البرهان - الخ اور دونوں روایتیں مفید تو محض ثلث شب پر جمنا قصور اور مطلق سمجھنا خطا اور مستحب کے خلاف (1) الهداية، الجزء الاول، كتاب الصلوة، ص ٦٦ ، مجلس بركات (2) الدر المختار، ج۲، ص ٢٦ ، كتاب الصلوة، دار الكتب العلمية، بيروت (3) رد المحتار، مطلب فى طلوع الشمس من مغربها ، ج ۲، ص ٢٦ ، دار الكتب العلمية، بيروت کو ممنوع جاننا بین خطا۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہاں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب و حقق المجيب شب اار جمادی الاولی ۱۴۰۰ھ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی