نماز عید کی دوسری رکعت کی تکبیرات بھول کر رکوع میں چلے جانے اور تلافی کا حکم
سوال
عید کی دوسری رکعت کی تینوں تکبیریں بھول کر رکوع میں چلا گیا ، اب ؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید نماز عید پڑھارہاتھا، دوسری رکعت کی تینوں تکبیریں بھول کر رکوع میں چلا گیا، پھر رکوع سے کھڑا ہوا، اسکے بعد تین تکبیریں کہکر سجدہ میں چلا گیا۔ اس صورت میں سجدہ سہو کرنا ہوگا یا بغیر سجدہ سہو کے نماز ہو جائیگی ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔ مین کرم ہو گا! المتفقى: العبد سيد محمد نعیم الدین نوری، میرائولہ ، کمیٹی ضلع تو پل سنج (بہار)
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: نماز ہو جائے گی اور جماعت کثیرہ ہو تو سجدہ سہو ساقط ور نہ ضرور ۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۲۳۷
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
دو خطبوں کے درمیان تقریر کرنے کا شرعی حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
مدرسہ کے کمروں اور برآمدے میں صف بندی اور اتصالِ صفوف کے مسائل
باب: کتاب الصلوٰۃ
گاؤں میں نماز جمعہ اور عیدین کے قیام کے شرعی حکم کا بیان
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام پر اذان و صلاۃ کہنا واجب نہیں
باب: کتاب الصلوٰۃ
نماز میں بھول کر سلام پھیرنے کی صورت میں بناء اور سجدہ سہو کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ