نماز میں بھول کر سلام پھیرنے کی صورت میں بناء اور سجدہ سہو کا حکم
(1) زید نماز با جماعت میں حاضر ہوا جس کی دورکعت چھوٹ چکی تھیں، امام کے ساتھ ہی اس نے سلام پھیر دیا، فوراً ہی غلطی کا احساس ہوا تو اس نے اپنی نماز کا اعادہ کر لیا۔ اس پر امام نے اس سے کہا نماز ادا کرنے کی دوبارہ ضرورت نہیں بلکہ اسی پر بناء کر کے آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز پوری کر لیتے ، اگر قصداً ایسا کرتے تو بھی اس پر بناء ہو سکتی تھی۔ (۲) زید چار رکعت نماز پڑھ رہا تھا، تین کو چوتھی رکعت سمجھ کر سلام پھیر دیا۔ امام کا کہنا یہ ہے کہ کلام الناس نہ کیا ہو تو وہ اسی پر بناء کر سکتا ہے، اگر چہ اس نے بہتر ہزار مرتبہ سلام پھیرا ہو یا بہتر ہزار سمت سلام پھیرا ہو۔ امام صاحب کا یہ قول درست ہے یا نہیں؟ لہذا ان دونوں صورتوں میں شرعی حکم سے مطلع فرماکر متشکر فرمائیں۔ بینوا توجروا
الجواب: (۱، ۲) سہو اسلام پھیر دیا تو بناء کر سکتا ہے جبکہ کلام یا کوئی فعل منافی صلاۃ نہ کیا ہو اور قصد پھیرا تو بناء نہیں کر سکتا، اعادہ ضرور اور امام کا قول بابت قصداً اور اس کا وہ مبالغہ جو سوال دوئم میں تحریر ہوا، غلط و باطل ہے جس سے تو بہ اس پر لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۳ ذی قعدہ ۱۴۰۱ھ