امام کا صیح الطہارت، صحیح القرآت ہونا ضروری ہے!
سوال
بخدمت قبلہ جناب محمد اختر رضاخاں و قاضی محمد عبد الرحیم صاحب بستوی دام اقباله شیخ منصوری جماعت کی طرف سے بعد آداب عرض گزارش یہ ہے کہ ہمارے یہاں پیش امام امامت کرتے ہیں، ان کے فوطے بڑھے ہیں اور نماز پڑھاتے ہیں، کیا ان امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اور ایک ہاتھ کا انگوٹھا گھائی ہونے کی وجہ سے ٹیڑھا ہو گیا ہے۔ کیا یہ نماز پڑھا سکتے ہیں ؟ پیش امام کس حقیقت کا ہونا چاہیئے ؟
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب:امام کا صحیح الطہارت، صحیح القراءت، مسائل طہارت و نماز سے واقف ہوناضروری ہے، پھر متقی (غیر فاسق معلن ) ہونا بھی لازم ہے۔ جو ان باتوں کا حامل نہ ہو وہ لائق امامت نہیں، یہی حکم امام مذکور کا ہے اور فوطہ بڑھا ہونا اور انگوٹھا ٹیڑھا ہونا کچھ خلل انداز نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۷۱–۷۲
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
مسجد کی چھت پر نماز، عورتوں کا صحن میں نماز اور رمضان میں فاتحہ کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
شہر کی تعریف اور جمعہ کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
نماز میں بھول کر سلام پھیرنے کی صورت میں بناء اور سجدہ سہو کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
دیوبندی اور وہابی کے پیچھے سنی کی نماز کا حکم اور اسے صحیح سمجھنے والے کا حکم
باب: کتاب الصلوٰۃ
امام پر اذان و صلاۃ کہنا واجب نہیں
باب: کتاب الصلوٰۃ