دیوبندی اور وہابی کے پیچھے سنی کی نماز کا حکم اور اسے صحیح سمجھنے والے کا حکم
(۳) دیوبندی، وہابی کے پیچھے سنی کی نماز ہو سکتی ہے یا نہیں ؟ اور جو سنی جان بوجھ کر دیو بندی، وہابی کے پیچھے نماز پڑھے ، اس کا کیا حکم ہے ؟ اور جو سنی کہے کہ نماز ہو جائے گی تو اس کے بارے میں بحوالہ حدیث و قرآن مدلل تحریر فرمائیں۔ عین نوازش ہوگی! المرسل : محمد غلام وارث رضوی، امام جامع مسجد ، کلول ، ضلع مہسانہ، گجرات
الجواب: (1) اولیٰ یہ ہے کہ جو خطبہ پڑھے وہی نماز پڑھائے۔ در مختار میں ہے: لا ينبغى اى يصلى غير الخطيب لانهما كشيء واحد اهـ . مگر اس وجہ سے نماز فاسد نہ ہوئی، لوگوں کا اسے بناء فساد سمجھنا غلط و باطل ہے ، جس سے ان پر توبہ لازم ہے اور امام کی بے وجہ شکایت سے بھی توبہ ضرور ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) یہ اعتراض بھی غلط و بیہودہ ہے ۔ ہمارے امام صاحب کے نزدیک خطبہ کا فرض محض ”الحمد للہ “ یا ”سبحان اللہ “ یا ”لا الہ ال اللہ سے بھی ادا ہو جاتا ہے، اگر چہ اس قدر اختصار مکروہ تنزیہی ہے اور صاحبین کے نزدیک ذکر طویل ضروری ہے جس کا اقل بقدر تین آیت یا بقدر التحیات ہے۔ در مختار میں ہے: وكفت تحميدة او تسبيحة او تهليلة للخطبة المفروضة مع الكراهة وقالا لا بد من ذكر طويل واقله قدر التشهد واجب. (۲) ردالمختار میں ہے: قوله ( مع الكراهة) ظاهر القهستانى انها تنزيهية . (1) الدر المختار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ج ۳، ص ۳۹، دار الكتب العلمية، بيروت (2) الدر المختار ، كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج ۳، ص ۲۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت (3) رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الجمعة، ج ۳، ص ۲۰ ، دار الكتب العلمية، بيروت اسی میں ہے: قوله (واقله الخ) فى العناية وهو مقدار ثلث آيات عند الكرخي وقيل مقدار التشهد من قوله التحيات الله الى قوله عبده ورسوله اهـ . اور دونوں خطبوں کا زیادہ طویل نہ ہونا مسنون ہے۔ در مختار میں ہے: و يسن خطبتان خفيفتان الخ .(۳) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دیوبندی منکر ضروریات دین ہیں شاتمان خد اور رسول عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ان کو علمائے حرمین و غیر ھمانے ایسا کافر و مرتد بے دین فرمایا کہ جو انہیں ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر مسلمان جانے بلکہ ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اور یہی حکم وہابیہ زمانہ کا ہے، تو ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے بلکہ دانستہ انہیں امام بنانا کفر ہے تو ان کی اقتد احلال جاننا بدرجہ اولی کفر ہے ۔ کفایہ میں ہے: اما الكافر فلا صلاة له فالاقتداء بمن لا صلوة له باطل . (۳) در مختار میں ہے: تبجيل الكافر كفر . اسی میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها الخ . )) لہذا جس نے یہ کہا کہ نماز ہو جائے گی، اس پر تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان اور بیوی والا ہو تو تجدید نکاح بھی کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۹ شعبان المعظم ۱۴۰۱ھ