شہر کی تعریف اور جمعہ کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت و جماعت اس مسئلہ میں کہ: اس جگہ موت اور زیست کا سامان ملتا ہے اور ایسی دوکانیں بھی ہیں جو روزانہ کھلتی ہیں اور تھانہ بھی ہے، ڈاکخانہ بھی ہے بڑا جس سے چھوٹے ڈاکخانوں کو ڈاک تقسیم ہوتی ہے بریلی سے ۲۲ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آبادی لگ بھگ پانچ چھ ہزار کی ہے، مسلم آبادی لگ بھگ پانچ سو ہوگی اور بھی کئی سہولیات ہیں مثلاً ایک بڑا ہسپتال جس کو بلاک کہتے ہیں، پرائیویٹ ڈاکٹروں کی دس، چائے وغیرہ کی سات آٹھ دوکانیں، آٹا پیسنے کی چکی، خیر اد مشین وغیرہ بس اسٹاپ غلہ گودام سوسائٹی تک وغیرہ وغیرہ۔
جمعہ کی صحت کے لئے شہر یا فنائے شہر ضروری ہے اور شہر وہ جگہ ہے جس میں امور مذکورہ فی السوال کے علاوہ یہ ضروری ہے کہ وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت و حشمت سے ظالم سے مظلوم کا انصاف لے سکے۔ لہذا اگر اس جگہ حاکم رہتا ہے تو جمعہ صحیح ہے اور وہ جگہ شہر شرعی ہے ورنہ وہاں جمعہ حنفی مذہب کے مطابق نہ ہو گا اور اس دن وہاں کے باشندوں پر ظہر فرض جو جمعہ پڑھ لینے سے ساقط نہ ہو گا مگر جہاں پہلے سے جمعہ قائم ہو وہاں منع نہیں کرتے کہ عوام آخر نام خدا لیتے ہیں منع سے اندیشہ ہے کہ پنجوقتہ بھی چھوڑ بیٹھیں اور نمازی ہونا شہریت کے لئے کافی نہیں کہ نماز والے سب حاکم نہیں ہوتے بلکہ حاکم کے اہلکار ہوتے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲؍ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگرانی، بریلی