دو خطبوں کے درمیان تقریر کرنے کا شرعی حکم
(۲) دونوں خطبوں کے درمیان تقریر کرنا کیسا؟
الجواب: المستفتی: محمد محسن رضا قادری رضوی ، علی پور ، تمکو ہی، یوپی اذان جمعہ خطیب کے سامنے خارج مسجد مسنون ہے، عہد رسالت مآب علیہ السلام و شیخین کر یمین طلای نا میں جمعہ کی اذان دروازہ مسجد پر منبر اقدس کے سامنے ہوتی تھی۔ دلیل اس کی وہ حدیث ہے اس و ه جو سنن ابوداؤد شریف میں حضرت سائب بن یزید رضی اللہ سے مروی ہے: قال كان يؤذن بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر و عمر . اور کبھی منقول نہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کوئی اذان خاص موضع صلاۃ میں کہلوائی ہو۔ لہذاہر اذان کا محل خارج مسجد ٹھہرا۔ ہدایہ و تبیین وغیرہ میں ہے: و المكان فى مسألتنا مختلف. فتح القدیر میں ہے: اى المعهود اختلاف مكانهما والاقامة فى المسجد ولا بد واما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن ففى فناء المسجد وقالوا لا يؤذن فى المسجد. اور خاص موضع صلاۃ میں اذان مکروہ۔ طحطاوی میں قہستانی سے ہے: يكره ان يؤذن في المسجد. واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں کہ خطبہ خالص عربی میں سنت متوارثہ ہے اور سنت متوارثہ کا اتباع ضرور ہے۔ در مختار میں ہے: لان المسلمين توارثوه فوجب اتباعهم. والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله یکم / رجب المرجب ۱۴۰۲ھ صح الجواب۔ اذان خطبہ سے پہلے جو کچھ بیان کرنا ہو بیان کر دیں، پھر اذان ہو اور خطبہ خالص عربی میں ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران ، بریلی شریف (1) الدر المختار، کتاب الصلاة، باب العيدين، ج ۳، ص ٦٥ ، دار الكتب العلمية، بيروت