گاؤں میں نماز جمعہ اور عیدین کے قیام کے شرعی حکم کا بیان
گوشت کس کس نے کھایا اور کھال اور سینگ کیا ہوا؟ وضاحت کریں۔
الجواب: المستفتی: محمد سراج الحق نوری دھنبادی، سرسنڈ ضلع سیتا مڑھی (بہار) (1) فی الواقع گاؤں والوں پر جمعہ وعیدین نہیں۔ حدیث میں ہے: "لا جمعة ولا تشريق ولا صلوة فطر ولا اضحى الا فى مصر جامع یعنی جمعه و تکبیر تشریق و عید الفطر و عید الاضحی شہر کے سوا کہیں درست نہیں۔ اس لئے کنز و عامتہ الکتب میں فرمایا: (1) "شرط ادائها المصر" (r)" جمعہ کی صحت ادا کے لئے مصر شرط ہے۔ تبیین میں اسی کے تحت فرمایا: (M)11 ای شرط جواز اداء الجمعة المصر حتى لا يجوز اداءها فى المفازة ولا فى القرى" اور عیدین کے لئے بھی مصر شرط ہے لہذا گاؤں میں نہ جمعہ صحیح نہ عیدین درست بلکہ گاؤں میں نہ جمعہ و عیدین پڑھنا مکروہ و ممنوع کہ ایسے فعل میں مشغول ہونا ہے جو شر عادرست نہیں۔ در مختار میں ہے: "صلاة العيد في القرى تكره تحريما اى لانه اشتغال بما لا يصح لان المصر شرط الصحة "(۴) (1) كنز العمال ، ج ۸، ص ١٧٤ ، رقم الحديث : ۲۳۳۰۵ ، حرف اللام، دار اكتب العلمية، بيروت (2) كنز الدقائق، كتاب الصلاة باب صلاة الجمعة، ص ٤٣ ، فیصل پبلکیشنز (3) تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب صلاة الجمعة، ج ۱، ص ٥٢٣ ، دار الكتب العلمية، بيروت (4) در مختار، کتاب الصلاة باب العيدين، ج ۳، ص ٤٦ ، دار الكتب العلمية، بيروت ردالمحتار میں ہے: "قوله (صلاة العيد) ومثله الجمعة ح" مگر جہاں پہلے سے لوگ جمعہ و عیدین پڑھتے آئے ہوں اس جگہ عوام کو مصلحتارو کا نہیں جاتا کہ خدا کا نام لیتے ہیں ، وہ جس طرح خدا کا نام لیں، غنیمت ہے۔ مگر گاؤں والوں کو جمعہ کے دن بعد جمعہ ۱۴ رکعت فرض ظہر باجماعت پڑھ لینا لازم ہے ورنہ فرض ان کے سر پر رہے گا اور یہ خیال کہ معاذ اللہ گاؤں والے مسلمان نہیں ، ان لوگوں کی حماقت ہے اور یہ قول اس جگہ بہت سخت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جس پر جمعہ و عیدین نہیں وہ گویا شرعا مسلمان نہیں۔ یہ شرع مطہر پر افتراء و اعتراض ہوا جس سے تو بہ لازم ہے اور تجدید ایمان بھی کر لیں۔ پھر یہ گمان بھی کہ جس پر جمعہ و عیدین نہیں اس پر فطرہ و قربانی واجب نہ ہونا چاہئے ، طرفہ جہالت ہے۔ فطرہ و قربانی کا وجوب مالک نصاب پر ہے ، اسے وجوب جمعہ و عیدین سے تعلق نہیں۔ لہذا قربانی مالک نصاب پر ہی ہے، فطرہ عورتوں اور نابالغ بچوں کی طرف سے دینا واجب ہے حالانکہ ان پر جمعہ و عیدین نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) گوشت وغیرہ درندوں اور پرندوں نے کھالیا اور سینگ کعبہ مقدس پر آویزاں رہے یہاں تک کہ عبد اللہ بن زبیر کے زمانہ میں کعبہ مقدس میں آگ لگی۔ صاوی میں ہے: و بقى قرناه معلقين على الكعبة الى ان احترق البيت فى زمن ابن الزبير وما بقى من الكبش اكلته السباع والطيور لان النار لا توثر فيما هو من الجنة "() والله تعالى اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۲۷ / ذی الحجہ ۱۴۰۴ھ