منبر کے سامنے اذان ثانی کب سے رائج ہے ؟ خطبہ اولی و ثانیہ کے مابین تقریر کا حکم
بخدمت شریف حضور ازہری میاں صاحب قبلہ ! سلام ورحمت خدا و رسول و رضا کریں آپ بعافیت ہوں، سوال پیش خدمت ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرماکر مشکور فرمائیں ۔ عین کرم ہو گا۔ کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت کہ: (1) جمعہ کے دن خطبہ کی اذان جو ممبر کے سامنے اکثر شہروں میں دیجاتی ہے، یہ کس وقت سے رائج ہوئی ؟ (۲) خطبہ اول اور ثانی کے در میان تقریر کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ کیونکہ پورے صوبہ کرناٹک میں یہ رواج عام ہے ۔ المستفتی: محمد لیاقت رضا قادری رضوی انصاری خطیب و امام مسجد میسور، مقیم حال ٹھاکر دوارہ ، مراد آباد (یوپی)
الجواب: (1) اذان جمعہ خطیب کے سامنے خارج مسجد مسنون ہے۔ عہد رسالت مآب علیہ السلام و شیخین کریمین ابو بکر و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما میں جمعہ کی اذان دروازہ مسجد پر منبر اقدس کے سامنے ہوا کرتی تھی۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ہرگز نہیں کر سکتے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ