بچپن کے نکاح میں خیار بلوغ اور کورٹ کے یکطرفہ فیصلے کی شرعی حیثیت
ایک تفصیل طلب سوال کا جواب کیا فرماتے ہیں علمائے اہل سنت مسئلہ ذیل کے متعلق کہ : ہندہ کی شادی ان کے احباب نے بچپن میں ہی زید سے کر دی بعد بلوغ ہندہ کو خبر ملی کہ ہماری شادی بد خصلت سے کر دی گئی ہے۔ بعد تحقیق واقعہ صحیح نکلا کہ زید شرابی، جواری، چوری سب میں مہارت رکھتا ہے۔ لہذا ہندہ نے اس کے یہاں سے جانے سے انکار کر دیا۔ اس کے احباب نے ہر طرح سنبھالنے کی کوشش کی اور ہندہ کو زید کے وہاں جانے پر مجبور کیا مگر ہندہ نے بالکل انکار کر دیا۔ یہانتک کہ بعد شادی اب تک زید کے گھر نہیں گئی۔ درمیانی عرصہ میں معاملہ بڑھتا رہا پھر زید سے ہی طلاق دینے کو کہا گیا وہ بھی تیار نہیں ہوا۔ یہانتک کہ مقدمہ دائر کیا گیا۔ آخر کورٹ نے فیصلہ لڑکے کے طلاق ہو جانے کا دیدیا ہے ۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ اس کورٹ کے فیصلہ پر ہندہ دوسری شادی کر سکتی ہے یا نہیں ؟ جواب مرحمت فرمایا جائے۔ عین کرم ہو گا۔ بینوا توجروا۔ المستفتی: احمد حسین ، محله بازار صندلخاں، بریلی
الجواب: یہ سوال تفصیل طلب ہے کہ نکاح کس نے کیا اور وقت نکاح ہندہ کی عمر کیا تھی ؟ اگر باپ دادا نے کیا تھا تو نکاح نافذ ولازم ہو چکا۔ اور اگر دوسرے نے کیا تو نکاح کے بعد ہندہ کا کیا رد عمل ہوا؟ اور بعد بلوغ نکاح کا علم ہونے کے بعد اس نے رد کیا یا نہیں ؟ اور رد کیا تو کب کیا؟ کہ اگر رد کرنے میں توقف کیا ہو پھر بھی حق رد نہ رہا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ